ٹیلی کام سیکٹرکی ترقی کی رفتارکو مزید تیزکرنے کی ضرورت ہے

ٹیلی کام سیکٹرکی ترقی کی رفتارکو مزید تیزکرنے کی ضرورت ہے

اسلام آباد(آن لائن) ٹیلی نار گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جون فریڈرک بکساس نے کہا ہے کہ پاکستان میں تھری جی ٹیکنالوجی کی آمد ٹیلی کام سیکٹرکی ترقی کی رفتارکو مزید تیز کرنے اور پاکستانی عوام کے طرز زندگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔پاکستان کے مختصر دورے کے موقع پر اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ ٹیلی نار نے پاکستان میں اب تک 2.3ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اورٹیلی نار پاکستان میں تھری جی ٹیکنالوجی کے لیے تیار ہے تاہم حکومت کو تھری جی لائسنس کی نیلامی سے سرمائے کی طلب پوری کرنے کی قلیل مدتی ضرورت اور تھری جی کے ذریعے طویل مدتی معاشی اور سماجی فوائد کے درمیان توازن رکھنا ہوگا جس طرح کا توازن 2004میں 2Gٹیکنالوجی کے لیے لائسنس کی نیلامیوں کے وقت رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اپنے مختصر قیام کے دوران ملک کی اعلیٰ شخصیات سے ملاقات میں بھی تھری جی لائسنس کی نیلامی کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے ٹیلی نارکی تیاریوں اور پاکستان میں سرمایہ کاری سے متعلق حکمت عملی پر بریفنگ دی ہے۔ انہوں ننے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملاقات میں یقین دہانی کرائی ہے کہ مارچ 2014میں ہونے والی تھری جی اسپیکٹرم لائسنس نیلامی انتہائی شفاف طریقے سے عمل میں لائی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کی پالیسیاں سرمایہ کاری کے لیے معاون ہیں تاہم پالیسیوں میں تسلسل رکھنا بھی بہت ضروری ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ تھری جی اسپیکٹرم لائسنس کی نیلامی پاکستان کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے جہاں ایک جانب پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مہارت تجربہ اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا وہیں دیگر شعبوں میں بھی نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی نار گروپ لانگ ٹرم پلیئر کے طور پر پاکستان میں طویل مدتی سرمایہ کاری پر یقین رکھتا ہے اور پاکستان کے دورے کا مقصد بھی تھری جی ٹیکنالوجی کی نیلامی کے پراسیس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگہی حاصل کرتے ہوئے حکومت کو اپنے موقف سے آگاہ کرنا ہے۔

مزید : کامرس