زراعت کو نظر انداز کرکے معیشت کو خراب کیاجارہاہے: کسان بورڈ

زراعت کو نظر انداز کرکے معیشت کو خراب کیاجارہاہے: کسان بورڈ

لاہور(آن لائن) مرکزی سیکرٹری جنرل ملک محمد رمضان روہاڑی نے کہا کہ ملک بھر میں شوگر ملوں نے گنے کے کاشتکاروں کو لوٹنے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ گنا گزشتہ سال کی قیمت سے بھی کم قیمت پرخریدا جا رہا ہے اور ابھی تک چاروں صوبوں نے گندم کی امدادی قیمت کا اعلان نہیں کیا۔ کھاد ڈیلر من مانی قیمتیں وصول کرکے حکومت کے کھاد سستی کرنے کے دعووں کا پول کھول رہے ہیں۔واپڈا نے اوور ریڈنگ کرکے اور بجلی کی قیمتیں بڑھا کر عوام اور کسانوں کا کچومر نکال دیا ہے۔زرعی مداخل مہنگی کرکے اور کسانوں کی اجناس کو سستی کرکے حکمران زرعی معیشت کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہے ہیں۔ان حالات میں یہ اجلاس کسانوں کے مسائیل کے حل کیلیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔کسان بورڈ پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس صدر کسان بورڈ پاکستان سردار ظفر حسین خاںکی صدارت میں آج 19 جنوری بروز اتوار بوقت ساڑھے دس بجے دن لاہور میں منعقد ہوگا۔اس میں مرکزی نائب صدور ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل ، تینوںصوبائی صدور خیبر پختونخواہ ، سند ھ ، بلوچستان کے علاوہ وسطی ، غربی ، شمالی ، جنوبی پنجاب کے صدور ہمراہ سیکرٹریز شرکت کریں گے ۔ مجلس عاملہ کا یہ ہنگامی اجلاس ایک ایسے وقت میں طلب کیا گیا ہے جب ملکی زراعت حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ۔ مذکورہ اجلاس میں زراعت کو پہنچنے والے ممکنہ خطرات اور ان کے تدارک کے لئے اہم فیصلے کئے جائیں گے اور ایک ملک گیر تحریک شروع کرنے کے حوالے سے آئندہ لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا ۔

مزید : کامرس