ذکر رسول جاری ہے!

ذکر رسول جاری ہے!
ذکر رسول جاری ہے!

  

ایک اللہ، ایک قرآن اور ایک رسول ہی دین ہے اور یہ علم بھی حضور کی برکت اور وساطت سے ہم تک پہنچا، آپ کی ذات مبارک کے حوالے سے ماہ ربیع الاول خاص اہمیت کا حامل ہے کہ اسی ماہ مبارک میں آپ کی آمد ہوئی۔یوں تو سال بھر جو وعظ و خطابت ہوتی ہے۔ اس کا وسیلہ بھی آپ کی ذات مبارک ہے، تاہم ربیع الاول میں خصوصی طور پر سیرت رسول کے حوالے سے محافل اور تقریبات ہوتی ہیں جن میں قرآن کی تعلیمات حضور کی سیرت کی روشنی میں بتائی جاتی ہیں، اس سال بھی معمول کے مطابق یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں خوبی یہ ہے کہ ہر مکتبہ فکر راہنمائی اسی روشنی کے مینار سے حاصل کرتا ہے اور ذات بابرکات کے بارے میں کسی کو کوئی اعتراض یا اختلاف نہیں ہوتا، جو اختلاف سامنے آتا ہے، وہ رسومات کے حوالے سے ہے کہ یوم میلاد کو منانے میں کیا کیا احتیاط کی جانا چاہیے۔صاحب علم حضرات تو اسے اخلاقیات کے دائرہ کار کے اندر بھی دیکھتے اور بات کرتے ہیں لیکن علم کے نام پر جہالت پھیلانے والے دوسروں کو طعن کا نشانہ بناتے ہیں۔

اس سال مجموعی طور پر یاد رسول مناتے وقت احتیاط کی گئی اور جلوسوں میں بھی درودوسلام کی صدائیں ہی بلند ہوتی رہیں، اس کے باوجود بعض بدنصیب حضرات نے بہتان تراشی یا دوسروں کو مطعون کرنے کے لئے فقرے بازی کی اور یہ وباءدور جدید کے مواصلاتی رابطوں کے ذریعے سامنے آئی اور بلاوجہ الزام تراشی بھی کی گئی جو بالکل غیر مناسب اور غلط ہے، جہاں تک رسومات کا تعلق ہے اور جو ایسی ہیں کہ ان کا اخلاقی جوازمشکل ہے تو یہ نہیں ہونا چاہئیں اور نہ ہی کوئی بھی صاحب علم و دین اس کی اجازت دیتا یا اسے اچھا کہتا ہے، بلکہ منع ہی کیا جاتا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ عید میلاد النبی کے مرکزی جلوس کی پاکیزگی شک و شبہ سے بالاتر تھی اور اس میں مولانا ابوالحسنات ،ان کے چھوٹے بھائی علامہ ابوالبرکات اور صاحبزادے امین الحسنات خلیل احمد قادری اور دوسرے اہم علماءکرام بھی شرکت کرتے رہے تاہم جونہی اس جلوس میں بعض غیر مناسب کام شروع ہوئے ان بزرگوں نے شرکت سے اجتناب برتنا شروع کردیا،حالانکہ منتظمین جلوس اور خود علمائے کرام کی طرف سے کبھی بھی کسی غیر مہذب حرکت کی پذیرائی نہیں ہوئی۔آج بھی مرکزی قدیمی جلوس میلاد کے جلوس کا اشتہار شائع ہوتا ہے تو اس میں یہ درخواست بھی تحریر ہوتی ہے کہ شرکت کرنے والے غلط حرکات سے اجتناب کریں، باوضو اور پاکیزہ کپڑوں کے ساتھ شرکت کریں اور جلوس میں درود شریف کا ورد کرتے رہیں۔اس کے باوجود اگر کوئی جہالت کا مظاہرہ کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے اس سے جلوس پر تو کوئی اثر نہیں پڑتا، بہرحال اس سال صورت حال کافی سے زیادہ بہتر تھی اور یہ اور بھی بہتر ہو سکتی ہے، محنت کی ضرورت ہے۔

یہ وضاحت یا حقیقت اس لئے ضبط تحریر میں لانا پڑی کہ بعض غلط قسم کے ایس ایم ایس موصول ہوئے ہیں، ایسے حضرات اور اگر کسی نے جوابی کارروائی کی تو ان سے بھی یہ گزارش ہے کہ لوگوں کی اپنی غلطی کو مثال نہ بنایا جائے اور یوم ولادت رسول اور محافل سیرت کو صحیح اور پاکیزہ انداز میں منایا جائے۔الحمدللہ یہ سلسلہ جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا کہ دین کی بنیاد ہی سیرت رسول ہے۔

لاہور میں صوفیا کے پیروکار حضرات کی تعداد بھی بہت ہے اور ان لوگوں نے تنظیمیں بھی بنا رکھی ہیں، حضرت سلطان باہو کے ماننے والے بھی بہت ہیں اور بہت سی تنظیمیں کام کررہی ہیں۔لاہور میں بزم باہو بھی ہے جس کے سربراہ محمد جاوید ہیں جن کا تعلق محمد طفیل مدیر نقوش سے بھی ہے کہ وہ برادر نسبتی ہیں، اس بزم باہو کے زیر اہتمام سیرة رسول کے موضوع پر ایک مجلس مذاکرہ میں شرکت کا شرف حاصل ہوا،اس میں محمد طفیل نقوش کے صاحبزادے جاوید طفیل نے بھی مقالہ پڑھا۔ تاہم جو علماءکرام شریک تھے ان کے مقالوں کو تو کسی بھی اہم عالمی محفل میں پڑھا اور سنایا جا سکتاہے کہ ان حضرات نے سیرت کے وہ پہلو اجاگر کئے جو عام طور پر بیان نہیں کئے جاتے یا ان کا سرسری ذکر ہوتا ہے۔حضور کی زندگی کے ابتدائی دس سال اور شجرہ نسب کے حوالے سے پڑھے جانے والے مقالات کی معلومات بڑی دل افروز تھیں اور علم میں اضافے کا باعث تھیں۔

اس سلسلے میں کوئی ایک مسلک والے ہی محفل نہیں سجا رہے۔سبھی سیرة کے حوالے سے اجلاس یا مجالس منعقد کرکے رہنمائی کررہے ہیں۔ہمارے ساتھی رانا شفیق پسروری جو خود بھی واعظ ہیں اور جمعہ کا خطبہ جامع مسجد اہل حدیث چینیانوالی میں دیتے ہیں۔یہ جامع مسجد ،جامع مسجد تکیہ سادھواں کے پہلو میں ہے جہاں سے عید میلادالنبی کا قدیمی جلوس شروع ہوتا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ روزنامہ ”پاکستان“ میں جلوس کی تاریخ اور اس حوالے سے تجزیئے کو تمام مسالک میں سراہا گیا کہ جلوس کی ابتدا ہوئی تو لوگ صاف ستھرے کپڑے پہن کر باوضو شرکت کرتے اور پیدل چلتے ہوئے درود شریف کا ورد کرتے جاتے تھے یا پھر دین متین کے حوالے سے علماءکرام کی تقریریں بھی ہوتی تھیں اور نماز کا وقت ہوتا تو قریبی مسجد میں نماز باجماعت ادا کی جاتی تھی۔رانا شفیق کے مطابق یہ عمل بہتر جانا گیا اور ایسے اعمال کی نفی کی گئی جو اخلاقی دائرہ کار میں نہیں آتے، ان کے مطابق کسی کو بھی کسی دوسرے کی دل آزاری کا حق نہیں دیا جا سکتا، اگر کوئی مسئلہ ہے یا ابہام ہے تو اسے حل کرنے کا فریضہ صاحب علم حضرات کو ادا کرنا چاہیے۔ یہی ہمارا موقف ہے اور اسی حوالے سے ہمیشہ یہی گزارش کی کہ دس جگہ اختلاف کرتے ہیں تو کرتے رہیں۔حضور نبی اکرم کی ذات مبارک کے حوالے سے تو پرہیز کریں کہ دین کی بنیاد ہی تو خیر و عظمت مصطفےٰ ہے۔اس مرتبہ یہ عمل زیادہ ہوا، اور توقع کرنا چاہیے کہ جلوس میلاد والے حضرات بھی صرف زبانی یا اشتہارات کے ذریعے تلقین سے آگے بڑھ کر یہ کوشش بھی کریں گے کہ جلوسوں میں ایسی کوئی حرکت نہ ہو جو قابل گرفت گردانی جائے۔اس سال جن تین چار محافل میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ان میں خطاب بہت ہی مدلّل اور کسی بھی نوعیت کے اختلاف سے پاک تھے اور کسی دوسرے کے مسلک یا عقیدے پر حملہ بھی نہیں کیا گیا، اگر کہیں ایسا ہوا ہے تو یقینا درست نہیں، اسلامیان پاکستان کو اور بھی احتیاط کرنا چاہیے، بزم باہو کے زیر اہتمام سیرة کے سیمینار میں خالص علمی اور تحقیقی مقالات ہی پڑھے گئے جو معلومات افزا تھے۔ ٭

مزید : کالم