قصوریوں کا قصور

قصوریوں کا قصور
قصوریوں کا قصور

  

یہ قصوریوں کا قصور نہیں تو اور کیا ہے کہ بیرسٹر احمد رضا قصوری قصور کے ہیں، اسلام آباد کے خبرنگاروں کی جس وحشیانہ انداز میں انہوں نے خبر لی اسے دیکھ کر ایک لمحے کے لئے احساس ہوا کہ اسپتال میں جنرل پرویز مشرف کو نہیں ،بلکہ قصوری صاحب کو داخل ہونا چاہئے تھا !

جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میںقصوری صاحب کی جانب سے خوامخواہ کی وکالت دیکھ کر ہمیں ان نووارد وکلاءکا خیال آتا ہے جن کا کام سوائے جج کو یہ کہنے کہ سنیئر وکیل دوسری عدالت میں ہیں مقدمے کو انتظار میں رکھ لیں کچھ نہیں ہوتا، یہ کام دراصل کھڑے ڈبے میں سفر کرنے کے مترادف ہوتا ہے کہ آپ ایک طرف سے چڑھتے ہیں اور دوسری طرف سے اتر جاتے ہیں، بیرسٹر قصوری صاحب بھی جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری مقدمے میں کھڑے ڈبے کی سواری کررہے ہیں کہ اصل وکالت تو بیرسٹر انور منصور کر رہے ہیں اور ان کا کام سوائے بڑھکیں مارنے کے اور کچھ نہیں ، پوری قوم ٹی وی چینلوں پر بس ان کی آنیاں جانیاں ہی دیکھ رہی ہے!

کبھی کبھی تولگتا ہے کہ قصوری صاحب غلط دور میں پیدا ہوگئے ہیں، انہیں چنگیز خان اور ہلاکو خان کے دور میں پیدا ہونا چاہئے تھا، آج کے مہذب معاشرے میں ایسی متشددانہ سوچ کے حامل شخص کی گنجائش کم کم ہی نکلتی ہے!یوں بھی قصوری صاحب نے سوچ رکھا ہے کہ انہوں نے پاپولر سوچ کے خلاف ہی چلنا ہوتا ہے،یہی وجہ ہے کہ جب ساری قوم عدلیہ بچاﺅ تحریک چلا رہی تھی وہ اکیلے سپریم کورٹ کے احاطے میں اپنا منہ کالا کرواتے پھر رہے تھے، لیکن وہ نہ تو تب اپنی وکالت کے جوہر دکھا سکے تھے اور نہ ہی اب ایسا کرتے دکھائی دے رہے ہیں!

ویسے ایک بات طے ہے کہ قصوری صاحب ہیں بڑے دبنگ آدمی، لیکن طرفہ مذاق یہ ہے کہ وہ بات اتنے زوردار طریقے سے کرتے ہیں کہ اپنے ہی ممدوح کا بھٹہ بٹھا دیتے ہیں، اب اسی واقعے کو لے لیجئے کہ عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے کے چکر میں آئے تو رائے عامہ کو کمانڈو مشرف کے حق میں ہموار کرنے کے لئے تھے، لیکن جونہی چست رپورٹر کے سوال سے ان کا دماغ گھوما، ساتھ ہی زبان بھی گھوم گئی اور پھر الامان و الحفیظ!....مرحوم چودھری نظام دین کہا کرتے تھے کہ گالی جب بھی پڑتی ہے ماں باپ کو ہی پڑتی ہے، اسی طرح جو کچھ قصوری صاحب نے کیا اس کا خمیازہ جنرل پرویز مشرف صاحب کو بھگتنا پڑے گا،لیکن اگر جنرل پرویز مشرف اس واقعے کے باوجود انہیں اپنے ترجمان کے طور پر پیچھے نہیں ہٹاتے تو پھر وہ یقینی طور پر فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ جلد ہی اس یونانی دیوتا کے مجسمے بنوا کر چک شہزاد میں ایستادہ کرنے جا رہے ہیں!

قصوری صاحب کو دیکھ کر یقین ہی نہیں آتا کہ میڈم نورجہاں بھی قصور کی تھیں، وہ بھول چکے ہیں کہ کبھی ان کی طرح نعیم بخاری بھی جنرل پرویزمشرف کی وکالت کرنے نکلے تھے، راولپنڈی بار کے وکلاءنے نشانی کے طور پر ان کے پھٹے ہوئے یونیفارم کو بار روم میں دیوار پر آویزاں کردیا تھا، یہی نہیں ،بلکہ ان سے پیشتر مرحوم شیر افگن نیازی بھی لاہور کے وکلاءکے ہتھے چڑھ گئے تھے ، وہ تو شکر ہے کہ اعتزاز احسن لاہور میں موجود تھے اور ان کی جان بخشی ہو گئی تھی!قصوری صاحب واحد قانون دان ہیں جو قانونی کم اور باتونی زیادہ لگتے ہیں، یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ جنرل پرویزمشرف ان سے قانونی مشورہ بھی لیتے ہوں گے یا نہیں،کیونکہ بات بات پر تو ان کا پارہ چڑھ جاتا ہے،وہ یقینی طور پر بلڈ پریشر کے مریض ہوں گے!ان کے بارے میںکوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ جنرل پرویزمشرف کو غداری کے مقدمے سے بچاسکتے ہیں ، البتہ یہ بات ہر کوئی یقین سے کہہ سکتا ہے کہ وہ جنرل پرویزمشرف کو اس مقدمے میں پھنسا ضرور سکتے ہیں!

خدا نے انہیں اتنا اعلیٰ جثہ عطا کیا ہے ،لیکن مجال ہے کہ اس جثے سے انہوں نے کوئی ڈھنگ کا کام لیا ہو، اسی طرح خدا نے انہیں جس غضب کا جگرا عطا کیا ہے اس کو استعمال میںلاتے ہوئے پہاڑوں سے ٹکرانے کے بجائے پہاڑوں کی حفاظت کے لئے یوں سینہ سپر ہیں جیسے پہاڑ قائم ہی ان کی وجہ سے ہیں، وہ آمریت کے حق میں ایسے گھن گھرج سے بولتے ہیں جیسے کبھی ابراہام لنکن جمہوریت کے حق میں بولتے ہوں گے، ان سے بہتر پراپیگنڈہ وکیل کوئی نہیں اور پھپھے کٹنیوں کی طرح وہ شور مچانے کے ماہر ہیں، وہ اپنی طرف سے ٹی وی ٹاک شوز میں لوگوں کا مائنڈ بنانے کے لئے نمودار ہوتے ہیں ،لیکن کچھ ہی دیر میں لوگ ان کی باتوں کو مائنڈ کرنا شروع کردیتے ہیں!

ایک چودھری شجاعت حسین ہیں کہ کمال طریقے سے انہوں نے لفظ غداری کو میڈیا اور روزمرہ کی گفتگو سے حذف کروادیا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہونے دی، دوسرے لفظوں میں انہوں نے سانپ بھی ماردیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹنے دی ،لیکن دوسری جانب قصوری صاحب ہیں کہ لاٹھی بھی توڑ بیٹھے ہیں اور سانپ بھی پھن پھیلائے کھڑا ہے!

قصوری صاحب کی حالیہ میڈیا گردی کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہیں لگتا کہ وہ عوام کو فوج کے غضب سے ڈرائیں، دھمکائیں، اسے ہّوابنا کر پیش کریں، پاکستان میں آئین شکنی کو جائز قرار دلوائیں، عدالتوں کو بے وقعت کریں، ججوں اور وکیلوں کا مذاق بنائیںاور قانون کو ٹشو پیپر کی طرح پسینہ صاف کرنے کے کام لائیں ، خدا معلوم کل کا مورخ انہیں کن الفاظ میں یاد کرے گا! ٭

مزید : کالم