نوازشریف ڈاکٹر ہو گئے، زرداری کب فیض یاب ہونگے؟

نوازشریف ڈاکٹر ہو گئے، زرداری کب فیض یاب ہونگے؟
نوازشریف ڈاکٹر ہو گئے، زرداری کب فیض یاب ہونگے؟

  

کل شیدا ریڑھی والا شام کے وقت گھر ملنے آیا تو مجھے بڑی حیرانی ہوئی، کیونکہ ایسا اُس نے پہلے کبھی نہیں کیا۔ اُس سے اکثر ملاقات کا سبب سبزی کی خریداری ہی ہوتی تھی اور وہیں وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتا تھا۔ مَیں نے اُس کے آنے کا سبب پوچھا تو کہنے لگا: ”بابو جی پہلی بار آپ کے گھر آیا ہوں۔ چائے پانی کا نہیں پوچھیں گے۔“ اُس کی زبان سے شرمندہ کر دینے والا جملہ بھی مَیں نے پہلی بار سنا تھا۔ مَیں اُسے ڈرائنگ روم میں لے آیا۔ وہاں بیٹھتے ہی شیدے نے اپنے دل کی بات کہہ دی۔ کہنے لگا: ”بابو جی مَیں نے ابھی ٹی وی پرسنا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف ڈاکٹر بن گئے ہیں۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی، مَیں نے سوچا آپ کو مبارک بھی دے آﺅں اور یہ بھی پوچھوں کہ وہ کس چیز کے ڈاکٹر بنے ہیں، شاید کبھی اُن سے علاج ہی کرانا پڑجائے“۔ شیدے کی بات سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔ شیدے نے مجھے ہنستے دیکھا تو کہنے لگا”بابو جی کیا میں نے کوئی غلط بات کہہ دی جو آپ یوں ہنس رہے ہیں“۔ پھر کافی دیر تک مجھے اُسے سمجھانا پڑا کہ نواز شریف علاج کرنے والے ڈاکٹر نہیں بنے ،بلکہ اُنہیں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی گئی ہے، ایسے ڈگری یافتہ شخص کو بھی ڈاکٹر کہا جاتا ہے۔ مَیں دیکھ رہا تھا کہ میری باتوں سے شیدا خاصا مایوس ہوا ہے۔ اُس کا واسطہ تو آج تک معالج ڈاکٹروں سے ہی پڑا تھا۔ یہ غیر معالج ڈاکٹر اُس کے لئے نئی چیز تھی۔ خیر باز آنے والا تو وہ بھی نہیں تھا۔ کہنے لگا: ”کیا نواز شریف اب ڈاکٹر بن کر عوام کو دہشت گردی، مہنگائی اور نا انصافی سے نجات دلائیں گے؟ کچھ تو فرق پڑے گا ناں بابو جی“۔ اب مَیں اسے کیا کہتا، شیدا تو چائے پی کر چلا گیا، لیکن مَیں کافی دیر تک اس سوال میں اُلجھا رہا کہ ہمارے عوام کس طرح اپنے حکمرانوں کی ایک ایک بات نوٹ کرتے ہیں، کس طرح اُن سے اُمیدیں باندھ لیتے ہیں اور اُن کی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کو دیکھ کر یہ سوچنے لگتے ہیں کہ شاید اب ہمارے دن بھی پھر جائیں۔ جب ایسا کچھ نہیں ہوتا تو رونے دھونے کے سوا اُن کی قسمت میں کچھ بھی نہیں رہ جاتا۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی ہے۔ یہ ڈگری کس لئے اور کن خدمات کے عوض دی گئی ہے، اس کا پتہ تو وائس چانسلر ہی کو ہو گا، تاہم وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اپنی بذلہ سنجی کا اس وقت خوبصورتی سے اظہار کیا کہ وائس چانسلر صاحب نے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے ساتھ ہی 9ارب روپے کی گرانٹ بھی مانگ لی ہے اور وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ انہیں ڈگری دی گئی ہے یا بیچی گئی ہے۔ غور کیا جائے تو پچھلے کچھ عرصے سے ہماری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروںنے ایک نیا رجحان متعارف کرایا ہے۔ ان کے پاس دینے کو اور تو کچھ ہوتا نہیں، وہ پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بانٹ دیتے ہیں۔ جب کراچی یونیورسٹی نے سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی تھی تو خاصی لے دے ہوئی تھی، لیکن وائس چانسلر اور رحمٰن ملک دونوں ہی اپنی جگہ پر خوش اور مطمئن تھے۔

کچھ عرصہ پہلے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے سینئر صحافی مجید نظامی صاحب کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ مجید نظامی صاحب کی شخصیت اگرچہ ایسی کسی ڈگری کی، محتاج نہیں تھی ،مگر پھر بھی انہوں نے نہ صرف یہ ڈگری قبول کی بلکہ ڈاکٹر کو اپنے نام کا حصہ بھی لیا۔ظاہر ہے اس رجحان کی موجودگی میں بھلا گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ انہوں نے سب سے بڑا چھکا مارا اور وزیر اعظم نواز شریف کو پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے پر آمادہ کرنے میں کامیاب رہے، تاہم ان سے بھول یہ ہوئی کہ وہ اس ڈگری کے ساتھ ہی اپنا وہ مدعا بھی سامنے لے آئے، جس کی طرف خود وزیر اعظم نے اشارہ کیا۔ یہ رجحان اگر اسی طرح چلتارہا تو خیر سے ہم پی ایچ ڈی ڈاکٹروں کے معاملے میں دنیا کے ہم پلہ آ جائیں گے، کیونکہ ملک میں یونیورسٹیاں بھی بہت ہیں اور وزیر وزراءکی بھی کمی نہیں۔ اگر ایک یا دو ڈگریاں دے کر نوکری میں استحکام آتا ہے تو ایسا کرنے میں کیا حرج ہے کہ ہینگ لگے نہ پھٹکری ، رنگ بھی چوکھا آئے۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

حیرت تو اس امر پر ہے کہ کسی یونیورسٹی نے ابھی تک آصف علی زرداری کو پی ایچ ڈی کی ڈگری کیوں نہیں دی، حالانکہ ان کے بارے میں سیاسی مخالفین بھی کہتے رہے ہیں کہ انہوں نے سیاست میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ،بلکہ بقول مخدوم جاوید ہاشمی ،آصف علی زرداری کی سیاست کو سمجھنے کے لئے ایک نہیں کئی پی ایچ ڈی ڈگریوں کی ضرورت ہے۔ آصف علی زرداری نے غالباً ابھی اس کی خواہش ظاہر نہیں کی، وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سندھ کی یونیورسٹیاں انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے کے بارے میں نہ سوچتی ہوں۔ خصوصاً کراچی یونیورسٹی اگر رحمٰن ملک کو ڈاکٹر بنا سکتی ہے تو آصف علی زرداری کو کیوں نہیں بنانا چاہے گی جو عرف عام میں سیاست کے پی ایچ ڈی کہلاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ جہانگیر بدر کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنائے جانے کی افواہ اڑائی گئی تھی۔ اس زمانے میںمحترمہ بے نظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھیں۔ مخالفین نے اس پر ایک طوفان کھڑا کر دیا تھا کہ پی ایچ ڈی کے بغیر کوئی شخص یونیورسٹی کا وائس چانسلر نہیں بن سکتا۔ اس پر جہانگیر بدر کے حامی یہ دلیل لائے تھے کہ جب جرنیل بغیر ڈاکٹریٹ کے وائس چانسلر بن سکتے ہیں تو سیاستدان کیوں نہیں؟

 خیر یہ بات اب پرانی ہو چکی ہے۔ جہانگیر بدر نے پی ایچ ڈی کی اصل ڈگری حاصل کر لی ہے ۔ اب وہ حقیقی ڈاکٹر ہیں، اس لئے کوئی بعید نہیں کہ پیپلزپارٹی اگر آئندہ انتخابات کو بلاول بھٹو زرداری کی سرکردگی میں فتح کر لیتی ہے تو اس بار جہانگیر بدر کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنانے کی پرانی خواہش پوری ہو جائے۔ مجھے یقین ہے کہ جہانگیر بدر وائس چانسلر بننے کے بعد سب سے پہلا کام یہی کریں گے کہ آصف علی زرداری کو اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازیں گے، سندھ کی یونیورسٹی سے آصف علی زرداری کے لئے پی ایچ ڈی کی ڈگری ایک معمول کی بات قرار پائے گی، جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے ملنے والی ڈگری کا حصول یقینا آصف علی زرداری کی زندگی میں ایک غیر معمولی واقعہ ہو گا۔میری ناقص رائے کے مطابق ایک اعزازی ڈگری تو وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے لئے بھی بنتی ہے۔ نجانے کسی وائس چانسلر کی اس طرف نظر کیوں نہیں گئی؟.... سونے کی اصل چڑیا کو بھول جانا کوئی دانشمندی نہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ کام بہاﺅ الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خواجہ علقمہ کو فی الفور کرنا چاہئے۔

یونیورسٹی کا کانووکیشن گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی طرف سے وقت نہ دیئے جانے کے باعث بار بار ملتوی ہو رہا ہے۔ اگر وہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے کا اعلان کر دیں تو نہ صرف کانووکیشن کے لئے گورنر پنجاب وقت دے دیں گے، بلکہ وزیر اعلیٰ خود بھی اس میں بنفس نفیس موجود ہوں گے۔ ڈاکٹر خواجہ علقمہ بھی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر کی طرح اس موقع پر 9نہیں تو ساڑھے چار ارب روپے ہی مانگ لیں تاکہ یونیورسٹی کے رکے ہوئے منصوبے اور کچھ نئے شعبے کھولنے کے لئے درکار فنڈز کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو تو صرف اس بنیاد پربھی اعزازی ڈگری دی جا سکتی ہے کہ انہیں دنیا کی بیشتر زبانیں آتی ہیں۔ اگر صرف سیاست کو ہی اس ڈگری کا محور بنانا ہے تو پھر وزیر اعلیٰ کی پچھلے دور حکومت میں حکمت عملی کو ہی پیش نظر رکھ لیا جائے، جس میں انہوں نے آصف علی زرداری کوعلی بابا چالیس چور کا خطاب دے کر خوب درگت بنائی۔ نہ صرف یہ، بلکہ مینار پاکستان پر ٹینٹ لگا کر وفاقی حکومت کا بجلی کی لوڈشیڈنگ پر ناک میں دم کئے رکھا۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب میں اب سی این جی مکمل طورپر بند ہے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی اسی طرح جاری ہے، مگر کوئی دوسرا ایسا نہیں جو وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی پیروی کر سکے۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف والے یہ دہائی تو دیتے ہیں کہ شہباز شریف کو اب بھی پنجاب کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پر اپنا ٹینٹ آفس قائم کرنا چاہئے، لیکن خود ان میں اتنی ہمت اور صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اس معاملے میں شہباز شریف کی تقلید ہی کر سکیں۔ سو اس انفرادیت اور تخلیقی تصور حکمرانی پر شہباز شریف کی صلاحیتوں کے اعتراف میں اگر بہاﺅ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان انہیں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری جاری کرتی ہے تو اس کا ایک طرف یونیورسٹی سے وقار اور دوسری طرف وائس چانسلر کے اعتماد میں بھی اضافہ ہو گا،جو اب خاصا ڈانوا ڈول نظر آتا ہے۔ جس کے باعث یونیورسٹی کے معاملات دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں۔

دیکھتے ہیں آنے والا مورخ ڈگریوں کی اس تقسیم کے رجحان کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ البتہ یہ سوال وہ ضرور اٹھائے گا کہ وائس چانسلروں نے اعزازی ڈگریوں کے لئے حکمرانوں، با اثر طبقوں اور دولت مندوں کو ہی کیوں منتخب کیا؟ معاشرے کے وہ اہل علم انہیں کیوں نظر نہیں آئے جنہوں نے زندگی بھر نامساعدحالات میں علم کے چراغ روشن کئے اور صلے دستائش کی تمناکئے بغیر معاشرے کے لئے وہ سب کچھ کر گئے جو ان کی بساط میں تھا۔ خدا نہ کرے آنے والا مﺅرخ ان ڈگریوں کو رشوت کی ایک شکل قرار دے، حالانکہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے اسے کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ ٭

مزید : کالم