حکمران ہوش کے ناخن لیں مسائل حل نہ ہوئے تو خونی انقلاب آئے گا، لیاقت بلوچ

حکمران ہوش کے ناخن لیں مسائل حل نہ ہوئے تو خونی انقلاب آئے گا، لیاقت بلوچ

لاہور (سٹا ف رپورٹر)جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ پشاور تبلیغی مرکز میں دھماکہ کے بعد کراچی میں مفتی عثمان یار اور ان کے ساتھیوں کی ٹارگٹ کلنگ بڑا المیہ ہے ۔ یہ واقعات شدید قابل مذمت ہیں ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ناکامی ہے ۔بجلی ، گیس ، بے روزگاری بحران شدید تر ہورہاہے ۔ حکومت کے تمام دعوئے مہنگائی اور بے روزگاری کے مارے عوام کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ نوازشریف حکومت سے سب سے بڑی توقع عوام کو یہ تھی کہ معاشی حالات میں بہتری آئے گی جبکہ مشرف اور زرداری دور سے زیاہ عوام کا کچومر نکالا جارہاہے ۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور عوام کے دکھ اور مسائل حل کریں وگرنہ ملک میں چھینا جھپٹی اور خونی انقلاب آئے گا۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے سرگودہا میں کارکنوں کے اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ پی آئی اے ، ریلوے ، واپڈا ، او جی ڈی سی ، سٹیل ملز قومی ادارے ہیں،یہ من پسند افراد اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاتھوں فروخت نہ کیے جائیں ۔ اداروں کے انجینئر ز، تجربہ کار مینجمنٹ ، ہنر مند وں اور کارکنوں پر اعتماد کیا جائے اور ریلیف کے لیے یکمشت پیکیج دیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ سرمایہ دارانہ نظام ناکام ہے، مزدور محنت کش کی قدر کی جائے ، بیرونی سرمایہ قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہوگا۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ حکومت امن کے لیے سنجیدہ ہو تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو جائے گی لیکن امریکی دباﺅ پر مذاکرات کے امکانات سبوتاژ کر دیے جاتے ہیں ۔ وزیراعظم سیدمنورحسن ، عمران خان ، مولانا سمیع الحق ، مولانا فضل الرحمن کا میڈیا میں نام لے کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوسکتے ۔انہوں نے کہاکہ مذاکرات میں کیا رکاوٹ ہے اب تک حکومت کو کیوں کامیابی نہیں ہوئی ؟۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم ، وزیر داخلہ اور دیگر وزراءکے موقف میں یکسر تضاد ہے اس کی وضاحت اور از سر نو اعتماد کے لیے وزیراعظم ماحول پیدا کریں ۔ اگر کسی پر وزیراعظم کو اعتماد نہیں تو وہ شہباز شریف کی سربراہی میں حمزہ شہباز اور اسحق ڈار پر مشتمل جرگہ بنالیں جو طالبان سے مذاکرات کریں ۔

مزید : صفحہ آخر