مولانا عبدالمجید شاہ ندیم اور ان کی فکر

مولانا عبدالمجید شاہ ندیم اور ان کی فکر
مولانا عبدالمجید شاہ ندیم اور ان کی فکر

  

خطیب العصر واعظ خوش الحان مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ بھی راہی ملک بقا ہوگئے ۔ مولاناندیم ؒ ایک کہنہ مشق خطیب تھے،جنھوں نے نصف صدی چار دانگ عالم میں توحید و سنت، خلافت راشدہ، امہات المومنین، اہلبیت رسولﷺو صحابہ کرامؓ کی عظمت کے زمزمے گائے،ترانے کہرائے،ڈنکا بجایا اور لاکھوں لوگوں کی روحانی حیات تازہ کا سامان فراہم کیا،اس نے خطابت کاآہنگ شہنشاہ خطابت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ سے سیکھا،جو ان کا آئیڈیل بھی تھے اور شاہ جی ؒ کی طرح مترنم و دل سوز آواز میں قرآن مجید کی تلاوت ان کی پہچان تھی، وہ ہزاروں کے اجتماع سے کئی کئی گھنٹے مخاطب رہتے، قرآن و سنت کے موتی رولتے،، تلاوت قرآن ایسے مزے سے کرتے کہ جس کی لذت حاضرین کے قلب و ذہن میں پیوست ہو کر رہ جاتی، خود بھی تڑپتے اور ہزاروں لوگوں کو بھی تڑپاتے تھے ۔شاہ جی کے اس انداز کو بہت سے خطیبوں نے اپنانے کی کوشش کی ہوگی ،مگر بلا مبالغہ انھیں اس انداز میں شاہ جی کا نقش ثانی کہا جاسکتاہے۔ہمیں اس بات کی کوئی مستند تصدیق تو نہ ہو سکی ،البتہ غالب گمان ہمارا یہی ہے کہ انھوں نے اپناتخلص ’’ندیم‘‘بھی شاہ جی ؒ سے متاثر ہوکر اختیار کیا ہوگا۔واللہ اعلم!

بہر حال ان کے مواعظ وخطبات سننے والے جانتے ہیں کہ انھوں نے اپنی خطابت کا مرکزی محور ہمیشہ توحید کی دعوت کو بنائے رکھا،سورہ فاتحہ کو جب وہ اپنے مخصوص انداز سے ترجمے کے ساتھ پڑھتے تھے اور’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں‘‘کے دوران’’ہی‘‘کے الفاظ پر زور دیتے اور پورے مجمعے سے کہلواتے تھے تو ایک سماں بندھ جاتاتھا۔یقیناًیہ ایمان افروز منظر وقت کے لات ومنات وعزیٰ اور فراعین زماں کے در ودیوار میں لرزہ طاری کر دیتا تھا۔ہم نے ان کی خطابت کا شباب تو نہیں دیکھا،مگر بڑوں سے سنا ضرور ہے کہ کوئی جلسہ اور پروگرام ،خواہ وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ہو،جمعیت علمائے اسلام کا ہو،سیرت کانفرنس ہو یا کسی بڑے مدرسے میں دستار بندی کی تقریب،شاہ صاحب کی موجودگی اس کی کامیابی کی دلیل ہوا کرتی تھی۔ان کے خطبات ومواعظ کی کیسٹیں، سی ڈیز ،کمپیوٹر وانٹرنیٹ کے دور میں بھی فروخت کا اپنا ریکارڈ بر قرار رکھے ہوئے تھیں۔

شاہ صاحب نے اپنی خطابت کو جنس بازار بننے نہ دیا۔یہ ان کی مقصد ومشن سے وابستگی اور کمال اخلاص ہی کا کرشمہ تھا کہ کسی قسم کی سیاسی شناخت اور عہدہ ومنصب اور روایتی عوامی حمایت نہ ہونے کے باوجود ان کی خطابت کے سامنے مخالفین کے بڑے بڑے خطیبوں کی خطابت ماند پڑجاتی تھی۔یہ دور خوش الحان واعظین کانہیں ،لوگ اب سادہ طرز بیان کو پسند کرتے ہیںیا پھر پر جوش خطیبوں کے دل دادہ ہیں،شاید یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں میں اپنی تقریبات وپروگرامات میں خوش الحان واعظین کو مدعو کرنے کا رواج ختم ہو تا جارہاہے ،اس کے باوجود علامہ سید عبدالمجید ندیم شاہ کو پروگراموں میں مدعو کیاجاتا تھا،شاید اس لیے کہ ان کی خوش الحانی صرف خوش گلوئی تک محدود نہ تھی ،بلکہ اس میں سوز بھی تھااور’’ازدل خیزد بر دل ریزد‘‘کے مصداق ان کی بات مجمع کے دل ودماغ پر اثر کرتی تھی اور ان کا بیان سننے والا ان کی فکر کو نہ صرف قبول کر کے اٹھتا تھا،بلکہ وہ اس فکر کا داعی بن جاتاتھا۔یورپی اور افریقی ممالک کے دوروں کے دوران ان کی تقریروں سے متاثر ہو کر سیکڑوں غیر مسلم اسلام کے دامن رحمت میں آئے،یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں انہیں سفیر اسلام کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔

آخر میں ہم خطیب العصر سفیر اسلام حضرت مولانا علامہ سید عبد المجید ندیم شاہ نوراللہ مرقدہ کے چند زریں خیالات نذر قارئین کررہے ہیں،جوانھوں نے ایک معاصر روزنامے کو انٹرویو دیتے ہوئے ظاہر فرمائے تھے ،کہ اس میں ہمارے لیے سوچنے ،سمجھنے اورعمل کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ:

۔۔۔مدارس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،دینی مدارس معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن اس سب کے باوجود مدارس کے نصاب میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ مدارس میں صرف رٹا لگوایا جاتا ہے، ذہن سازی تو ہوتی ہے لیکن انسان سازی ناپید ہے۔

۔۔۔ افسوس آج کل علما نہیں بلکہ علما نما لوگ تیار ہو رہے ہیں، علماء جیسی وضع قطع رہ گئی ہے، علما ختم ہوچکے ہیں۔ جہاں علم ہوگا وہاں حلم، برداشت، تحمل ،عشق و سوز ہوگا۔

۔۔۔ہمارے مدارس نے تو مسجدوں کے موذن اور مظلوم امام تیار کیے، ان میں کوئی بھی ابن تیمیہ، شاہ عبدالعزیز ،شاہ عبدالقادر ،عبدالرحمن جامی رحمھم اللہ تعالیٰ جیسا کیوں پیدا نہیں ہو رہا؟

۔۔۔ مدارس روشن دماغ تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں، حالانکہ اس دور میں روشن ضمیروں کی ضرورت ہے۔روشن دماغ کبھی گنگا اور کبھی جمنا میں وضو کرتے اور قبلے بدلتے رہتے ہیں، جبکہ روشن ضمیر لوگ ہی امید کی کرن ہوتے ہیں۔

ان کی اس گفت گو میں دینی مدارس پر تنقید جھلک رہی ہے،لیکن اگر تعصب کی عینک لگائے بغیرحقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ کوئی تنقید برائے تنقید نہیں،بلکہ نصف صدی سے توحید وسنت کے زمزے بلند کرنے والا یہ جہاں دیدہ خطیب اس دور میں اپنے گرد وپیش جو کچھ دیکھ رہا تھا،اس کا تجزیہ ، تصویر کشی اور دل سوزی کے ساتھ مرض کی تشخیص ہے۔کیا واقعی ہمارے نئے فضلائے مدارس کی اکثریت علامہ مرحوم کی ’’روشن دماغ‘‘والی اصطلاح پر پورا نہیں اترتی؟کیا ہمارا فاضل آج اپنے مفادات،دھن دولت کے حصول،شہرت کی دوڑ میں آگے نکلنے کی دھن میں گنگا،جمنا سے وضو نہیں کررہا؟قبلے نہیں بدل رہا؟

مولانا عبدالمجید ندیم شاہ ؒ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی درویشانہ سیاست سے سب سے زیادہ متاثرتھے،انھی کے دور میں جمعیت علمائے اسلام سے منسلک ہوئے اور مولانا مفتی محمود ؒ کی زندگی میں ان سے پیدا ہونے والی انسیت اور تعلق کو تاحیات نبھایا،وہ مولانا فضل الرحمن کے قریب ترین اور بااعتماد دوستوں میں شمار کیے جاتے تھے ۔اللہ تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائے اور ان کے وابستگان ومنتسبین کو ان کے نقش قدم پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

مزید :

کالم -