خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام:پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام

خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام:پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام
 خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام:پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام

  

کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کا راز اس کے بہتر اور موثر نظام مواصلات میں پنہاں ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں ذرائع مواصلات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے تمام تر توانائیاں صرف کیں جس کا ثمر آج انہیں مل رہا ہے۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ذرائع آمدورفت کا بہترین انفراسٹرکچر کسی بھی ملک کے لئے نہ صرف ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،بلکہ معاشی ترقی کا دارومدار ایک مربوط اور منظم مواصلات میں ہی ہے ۔یوں تو ذرائع مواصلات کی کئی اقسام ہیں مگر ان میں سڑکوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہیں۔سڑکیں نقل و حمل کا سب سے پرانا ذریعہ ہیں ۔وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی تعمیر میں بھی جدت اور تبدیلیاں آتی گئیں۔شروع شروع میں انسان نے ایک جگہ سے دوسری جگہ اور ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لئے کچی سڑکیں بنائیں۔جب انسان میں شعور پیدا ہوتا گیا تو اس نے مٹی کی بجائے اینٹوں سے سڑکیں تعمیر کیں پھر اینٹوں کی جگہ بجری اور لک نے لے لی۔اب سڑکیں کا رپٹ کی جاتیں ہیں جس پر سفر کر کے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ آدمی سڑک پر گاڑی چلا رہا ہے یا ہوا میں۔

یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں شاہراؤں کو زیادہ سے زیادہ آرام دہ ،کشادہ اور رکاوٹو ں سے پاک رکھنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور انسانی علم و ہنر کو استعمال میں لایا جا رہا ہے ۔پاکستان میں بھی حکومتوں نے شاہراؤں کی تعمیر و مرمت کے لئے ہر سال بجٹ میں خطیر رقم مختص کی ۔خادم پنجاب محمد شہبازشریف کی قیادت میں حکومت صوبہ بھر کے عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی کے لئے جامع اور منظم اقدامات کر رہی ہے ۔پنجاب میں نقل و حمل کا سب سے اہم ذریعہ سڑکیں ہیں جن پر مسافروں اور سامان سے متعلق ٹریفک کا 90فیصد دارومدار ہے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے ۔جدید مواصلا ت کی اہمیت پیش نظر حکومت پنجاب نے میگا پراجیکٹ شروع کئے جس کے تحت انڈر پاسز ،فلائی اوورز کے ساتھ ساتھ نئی سڑکیں اور پہلے سے موجو د سڑکو ں کو مزید کشادہ او ران کی تزین و آرائش کی جا رہی ہے ۔وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیہی سڑکوں کی اعلی معیار کے مطابق جدید طرز پر تعمیر و بحالی کا منصوبہ ’’خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام‘‘شروع کیا ہے، جس کے تحت آئندہ تین سالوں میں مرحلہ وار پروگرام کے تحت 150ارب روپے کی لاگت سے سڑکیں تعمیر و بحالی کی جا رہی ہیں ۔پہلے مرحلے میں 2ہزار کلو میٹر سے زائد دیہی سڑکوں کی اعلی معیار کے مطابق تعمیر و مرمت ریکارڈ مدت میں مکمل کی گئی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں رواں مالی سا ل کے دوران چار ہزار کلو میٹر سے زیادہ دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کی جائے گی ۔

خادم پنجاب دیہی روڈ زپروگرام کے تحت سڑکوں کی چوڑائی 10فٹ کی بجائے 12فٹ ،جبکہ شولڈر شامل کرنے کے بعد چوڑائی24فٹ ہو جائے گی ۔یہ پروگرام دیہی علاقوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہو گا ۔کسان اپنی پیداور بر وقت منڈی پر پہنچا سکیں گے جس سے ان کو پیداوار کا بہتر معاوضہ ملے گا اور ان کے آنگن میں خوشیاں آئیں گی۔کسان کو معاشی آسودگی ملنے کے ساتھ ساتھ اس کے حالت کار بھی بہتر ہوں گے ۔طلبا و طالبات بروقت سکول اور مزدور فیکٹریوں میں پہنچ سکیں گے۔پنجاب کے دیہی آبادی کو سماجی و معاشی ترقی ثمرات میسر آئیں گے۔سڑکوں کی تعمیر کے اعلی معیار کو ہر قیمت پر یقینی بنایا گیا ہے او راس ضمن میں تھر ڈپارٹی آڈٹ لازمی قرار دیا گیا ہے اور آڈٹ کے بعد ہی ٹھیکیدار کو ادائیگی کی جائے گی۔ معیاری تعمیر پر تین ٹھیکیداروں اور ان کی لیبر کو انعامات و تعریفی اسناد بھی دی جائیں گی۔حکومت نے سڑکوں کی زندگی کو بڑھانے کے لئے سڑکوں کے اطراف میں گاڑیوں کے ایکسل لوڈ چیک کرنے کے لئے جدید کنڈے لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔مقررہ وزن سے زیادہ سامان لوڈ کرنے والی گاڑیو ں کا سامان ضبط کر لیا جائے گا، بلکہ ان کے مالکان کو بھاری جرمانے بھی عائد کئے جا ئیں گے ۔یہ پروگرام ’’پکیاں سڑکاں ۔۔۔سوکھے پینڈے‘‘ کے ویژن کے تحت وضع کیا گیاہے اور دیہی علاقو ں میں بسنے والے اس کے معنی بخوبی جانتے ہیں ۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ’’پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے‘‘پروگرام کے تحت کامونکی کے علاقے واہنڈو میں 43کلو میٹر طویل سڑک کا افتتاح کیا۔وزیراعلیٰ نے سڑک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے پروگرام کو تیزرفتاری سے آگے بڑھایا جارہا ہے ،تاکہ دیہات میں بسنے والی آبادی کو آمدورفت کی بہترین سہولتیں میسرآسکیں۔خادم پنجاب دیہی روڈ زپروگرام کے تحت دیہی سڑکوں کی تعمیر وبحالی کے پروگرام پر 2017-18ء تک 150ارب روپے خرچ کیے جائیں گے،جس سے صوبے پنجاب کی دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام مکمل ہوگا۔خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام کا آغاز گزشتہ برس کیا گیااور2017-18ء تک تمام دیہی سڑکیں بن چکی ہوں گی اوردیہی زندگی میں معاشی ترقی اور خوشحالی کا انقلاب برپا ہوگا۔پاکستان کی تاریخ میں دیہی سڑکوں کی تعمیر وبحالی کایہ سب سے بڑا پروگرام ہے ۔ فارم ٹو مارکیٹ روڈز کے پروگرام کا آغاز 1985ء میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب محمد نوازشریف نے کیا تھااوران کے دور میں پنجاب کی دیہات میں سڑکوں کا جال بچھایاگیا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان سڑکوں کی دیکھ بھال اورمرمت پر توجہ نہ دی گئی جس سے یہ سڑکیں برباد ہوگئیں اوردیہات میں بسنے والی آبادی کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔مرمت کے نام پر پیسے کھائے گئے اورکرپشن ہوئی،چند لوگوں کی جیبیں تو بھر گئی لیکن عوام کا براحال ہوا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے دیہات میں بسنے والے بہن بھائیوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیہی سڑکوں کی تعمیر وبحالی کے انقلابی اورتاریخ ساز پروگرام کا آغاز کیا ہے اوراس ضمن میں ایک موثر نظام ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت دیہات میں سڑکوں کا جال بچھایاجارہا ہے اوریہ تمام سڑکیں کارپیٹڈ ہیں اور میں خوداس پروگرام پر عملدرآمد کی نگرانی کرتا ہوں ۔غلطی یا کرپشن کو قعطاً برداشت نہیں کیا جائے گا اورنہ اس ضمن میں غلطی یا کرپشن کو برداشت کروں گا۔ یہ سڑکیںآپ کی ہیں کیونکہ آپ نے ان سڑکوں کو استعمال کرنا ہے لہذاآپ کو بھی ان سڑکوں کی دیکھ بھال کے ل ئے اپنا کردارادا کرناہے۔ سڑکوں کی حفاطت کا کام حکومت کے ساتھ ساتھ یہ آپ کی بھی ذمہ داری ہے ،اگر آپ نے ذمہ داری پوری نہ کی تو یہ سڑکیں تین چار برس میں ٹوٹ جائیں گی،حالانکہ ان سڑکوں کو20سے 25سال تک قائم رہنا چاہیے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے دیہی آبادی کے لئے نہ صرف سڑکوں کی تعمیر وبحالی کا تاریخ ساز پروگرام شروع کررکھا ہے، بلکہ وزیراعظم محمدنوازشریف کی قیادت میں دیہات کی آبادی کے لئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے بڑے منصوبے کا آغاز بھی ہوچکا ہے اورپینے کے صاف پانی کے منصوبے کا آغا ز جنوبی پنجاب سے کیا گیا ہے اور رواں مالی سال اس مقصد کے لئے 17ارب روپے دےئے گئے ہیں۔پنجاب حکومت نے تاریخ کا دھارا بدلنے کا عزم کرلیا ہے اور2017-18ء تک دیہاتوں میں بسنے والے ساڑھے تین کروڑ افراد کو پینے کا صاف پانی میسر آئے گااوریہ پروگرام بھی آپ کے لئے شروع کیاگیا ہے ۔ پنجاب میں کسان پیکیج پر پوری طرح تیزرفتاری سے عملدر آمد ہورہا ہے ۔

حکومت پنجاب اور وفاقی حکومت نے کسان پیکیج پر عملدر آمد کے لئے 20،20ارب روپے دےئے ہیں، جبکہ کھاد کی بوری میں بھی 500روپے کمی کی گئی ہے ۔ساڑھے بارہ ایکڑ تک کے چاول اورکپاس کے کا شتکاروں کوپانچ ہزارروپے فی ایکڑ امداد دی جارہی ہے ۔دیہی زندگی میں ترقی و خوشحالی ہوگی تو پاکستان ترقی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی دیہی زندگی میں معاشی خوشحالی کاانقلاب لانے تک چین سے نہیں بیٹھوں گااورجب پینے کے صاف پانی کا منصوبہ یہاں شروع ہوگا تو میں دوبارہ آؤں گا ۔ وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف آج واہنڈو ،کامونکی میں ’’پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے ‘‘پروگرام کے تحت بننے والی نئے سٹرک کا افتتاح کرنے کے بعد عام ویگن میں بیٹھ گئے اور انہوں نے ویگن میں بیٹھ کر نئی سڑک پرچارکلو میٹر تک کا سفر کیا۔وزیر اعلی نے بتایا کہ مجھے 20،25برس سے کمر کا عارضہ ہے اور جمپ لگنے سے کمر کی تکلیف بڑھتی ہے لیکن جب میں نے اس نئی سٹرک پر سفر کیا توکوئی جمپ نہیں لگا ۔جس کی صرف ایک وجہ ہے کہ سٹرک کی تعمیر کا معیار انتہائی اعلی ہے ۔اور مجھے خوشی ہوئی ہے کہ قومی وسائل منصوبوں پر ایمانداری سے استعمال ہو رہے ہیں ۔خادم پنجاب دیہی روڈ پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں گوجرانوالہ ڈویژن میں 319کلو میٹر طویل سڑکیں مکمل ہو چکی ہیں جن پر دو ارب اسی کروڑ روپے لاگت آئی ہے ۔پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 41سٹرکوں کی تعمیر و بحالی کا کام مکمل کیا گیاہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 257کلو میٹر طویل سٹرکوں کی تعمیر و بحالی پر کام جاری ہے ۔دوسرے مرحلے میں دیہی علاقوں میں زیادہ تر سڑکیں تعمیر ہو رہی ہیں اور 26سڑکوں کی تعمیر پر 3ارب روپے صرف ہوں گے اور یہ مرحلہ 30اپریل 2016کو مکمل ہو گا ۔

دیہی علاقو ں کی معیشت کو بلند خطوط پر استوا ر کرنے کے لئے یہ ایک تاریخی اور عظیم منصوبہ ہے جس کا براہ راست فائدہ دیہی علاقوں کے مکینوں کو ہو گا ۔جس سے دیہی معیشت پھلے پھولے گی ،دیہی معیشت میں انقلاب برپا ہو گا اور روز گار کے نئے مواقع دستیاب ہوں گے ۔ان سڑکوں کی تعمیر سے لوگوں کو تیز رفتار ذرائع آمدورفت کی سہولت میسر آئے گی جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہو گی، بلکہ ایندھن کی کھپت میں کمی ہو گا اور گاڑیوں کی زندگی بھی بڑھے گی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ خادم پنجاب محمد شہباز شریف نے ہمیشہ عوامی مفاد کو مد نظر رکھا اور ایسی پالیسیاں اور منصوبے بنائے ،جس سے براہ راست عوام کو فائدہ پہنچے۔حکومت کو عوام کی بھر پور تائید وحمایت حاصل ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ خادم پنجاب کی قیادت میں ان کے مسائل کے حل او رانہیں سہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔تاریخ گواہ ہے وہی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جو قومی اہمیت کے حامل منصوبوں کے لئے قومی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں ۔

مزید :

کالم -