روزنِ دیوار سے مادر علمی تک ۔۔۔!

روزنِ دیوار سے مادر علمی تک ۔۔۔!
 روزنِ دیوار سے مادر علمی تک ۔۔۔!

  

قلم کار قبیلے کی ایک معتبر شخصیت عطا ء الحق قاسمی کا پی ٹی وی سے تعلق ایک ایسے دیرینہ دوست جیسا ہے جس کی دوستی وقت کے ساتھ گہری ہوئی ہے۔ قاسمی صاحب کی یہ محبت ہے کہ انہوں نے اس ادارے کو مادر علمی کے نام سے یاد رکھا ہے۔ اس قومی ادارے کے چیئرمین کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ وہ پی ٹی وی لاہور سنٹر پر تشریف لائے تو ان کا وجود ایک عجیب خوشی سے سرشار نظر آ رہا تھا۔ ملازمین نے اپنے فولادی رہنما جہانگیر خان اور جنرل منیجر بشارت احمد خان کے ہمراہ انہیں جی آیاں نوں کہا۔ فراز نے کہا تھا کہ’’سنا ہے وہ بات کرتے ہیں تو پھول جھڑتے ہیں‘‘ پی ٹی وی ہنر مندوں سے اپنے مختصر خطاب میں قاسمی صاحب نے باتوں کے کچھ ایسے ہی پھول برسائے کہ پی ٹی وی کی عمارت مہک اٹھی ۔ چند جملوں میں ان کا عزم نظر آیا کہ وہ مادر علمی پی ٹی وی کی ایسی رونقوں کو بحال دیکھنا چاہتے ہیں جہاں فنکاروں کا ڈیرہ لگا ہو ، کہانیاں سنی جا رہی ہوں ، شعر و سخن کی محفلیں آباد ہوں ، علمی فکری اور تخلیقی عمل کی محفلیں عروج پر ہوں اور پی ٹی وی کے ہنر مند ایسے پروگرامز تیار کریں جو گھر گھر رونقوں کا دوبارہ حصہ بن جائیں۔

ساتھیوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے پی ٹی وی کے پروگراموں کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال بھی کیا ، شب دیگ ، شیدا ٹلی اورخواجہ اینڈ سن جیسے اپنے ڈراموں کو یاد کرتے ہوئے قاسمی صاحب نے ایسے ہی تخلیقی دور کو واپس لانے کا اشارہ دیا تاہم ان کا یہ کہنا درست تھا کہ ماضی کے ڈرامے کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ جدت کے رنگوں کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے، انہوں نے ہدایت کی کہ مشاعروں اور نعتیہ محفلوں میں ایسے لوگوں کو بلایا جائے جو اس شعبے میں واقعی ہی درسترس رکھتے ہیں، مارننگ شو کی کمپیئر جگن کاظم کے شگفتہ اور باوقار انداز کمپیئرنگ کو سراہا گیا جس پر پروگرام کے پروڈیوسر قیصر شریف دل ہی دل میں خوش ہو رہے تھے۔ پروگرام رات گئے فردوس گوش اور ورثے کو ثقافت اور گلیمر کے رنگوں میں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیئر مین صاحب نے موسیقی اور سٹیج شو کے حوالے سے نئے پروگراموں کے آئیڈیاز سنے ۔انہوں نے صحیح کہا کہ پی ٹی وی پر تخلیقی عمل شروع ہو گا تو پرانے اور سینئر فنکاروں کو بھی کام ملے گا ، بریکنگ نیوز کا ذکر کرتے ہوئے قاسمی صاحب نے صحیح کہا کہ بریکنگ نیوز اب دماغوں کو بریک کر رہی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پی ٹی وی نیوز میں چاروں صوبوں کی ادبی اور ثقافتی خبروں کو شامل کیا جائے خاص طور پر سینئر ادیبوں اور شاعروں کے کام کو جمع کیا جائے۔ انہوں نے پی ٹی وی ورلڈ اور پی ٹی وی نیشنل کے پروگراموں کو بھی بہتر بنانے کیلئے تجاویز مانگیں۔

وسائل اور مسائل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ادارے میں تکنیکی سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے پاکستان ٹیلیویژن کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد مالک سے مشاورت جاری ہے۔ یہاں ہم یہ بھی ذکر کر دیں کہ محمد مالک نے ادارے کو مالی اور انتظامی مشکلات سے نکالنے کیلئے اہم اقدامات کئے ہیں جن کے ثمرات اب نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ چھوٹے ملازمین کو مستقل کیا ہے ، مرحوم ملازمین کے بچوں کو روزگار دیا ہے ، ملازمین کے میڈیکل کے مسائل حل کئے ہیں ، فنکاروں کے بقایا جات ادا کئے ہیں اور توقع ہے کہ اب ان کی سربراہی میں ملازمین کو تنخواہوں کے ایک بہتر چارٹر کی نوید بھی ملے گی۔ نیوز اور کرنٹ افیئرز کے پروگراموں میں اپوزیشن کو پورا موقع دینے کا سلسلہ بھی محمد مالک کے سر جاتا ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے پی ٹی وی کی تخلیقی استعداد میں اضافے کے لئے عطاء الحق قاسمی جیسے قلم کے سپاہی کو بھی اس ادارے کا حصہ بنایا ہے ، یقیناًان کے مشورے اور کاوشیں اس قومی ادارے کو مقابلے کی اس دوڑ میں سب سے آگے لانے میں معاون ثابت ہوں گی ، کیونکہ میڈیا کے جدید ترین دور میں بھی ہر خاندان کی خواہش ہے کہ پی ٹی وی جیسا چینل ان کے گھر کی رونقوں کا حصہ بنے تاکہ وہ کسی بھی پروگرام کو اپنے پورے خاندان کے ساتھ دیکھ سکیں کیونکہ قومی اخلاقی اقدار کواپنے پروگراموں میں قائم رکھنا اس ادارے کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔

پی ٹی وی سنٹر پر تقریباًدو گھنٹے قیام کے دوران قاسمی صاحب نے اپنی شگفتہ باتوں سے بھی دوستوں کے ذہن کو مہکایا ۔ ان کی آمد پر جہانگیر خان نے جس طرح روایتی انداز میں نعرے لگائے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے قاسمی صاحب نے کہا کہ ان کی تعریف کی جائے تو وہ اس بات کا برا مناتے ہیں اور اگر ان کی تعریف نہ کی جائے توانہیں اس سے بھی زیادہ برا لگتا ہے۔ دوستوں کی محفل میں بیٹھے ہوئے انہوں نے یک دم پوچھا کہ مجھے بزرگ کس نے کہا تھا پتہ چلا کہ یہ معصوم غلطی جی ایم صاحب سے ہوئی ہے جس پر چیئر مین صاحب نے مسکراتے ہوئے ہدایت کی کہ برائے مہربانی انہیں بزرگ نہ کہا جائے ، جس کا مطلب تھا کہ وہ جوان تو ہیں اور اپنے آپ کو جوان سمجھتے بھی ہیں ،الوداعی لمحات میں جی ایم صاحب نے چیئر مین کو ان کے پروگراموں کا ایک چیک پیش کیا ، قاسمی صاحب ہلکے پھلکے انداز میں مسکرائے اور جی ایم صاحب سے کہا کہ یہ رقم کسی مستحق فنکار کو دی جائے۔ البتہ ہاں انہوں نے یہ ہدایت ضرور کی کہ ٹی وی پروگرام میں شرکت کے لئے جو بھی شاعر ، ادیب یا فنکار آئے اسے بروقت معاوضے کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ ہم قاسمی صاحب کے رویے کو دیکھتے ہوئے یہ سوچ رہے تھے کہ آرٹسٹ کتنے ہی بڑے عہدے پر پہنچ جائے۔ اس کا دل اپنی فنکار برادری کے ساتھ ہی دھڑکتا ہے ۔

مزید :

کالم -