25 سالہ نوجوان لڑکی جسے ڈاکٹروں نے جینے کیلئے ایک ہفتے کا وقت دے دیا، جاتے جاتے ایسی آخری خواہش بتاگئی کہ پوری دنیا کو رُلادیا، جان کر آپ کیلئے بھی آنسو روکنا مشکل ہوجائے گا

25 سالہ نوجوان لڑکی جسے ڈاکٹروں نے جینے کیلئے ایک ہفتے کا وقت دے دیا، جاتے ...
 25 سالہ نوجوان لڑکی جسے ڈاکٹروں نے جینے کیلئے ایک ہفتے کا وقت دے دیا، جاتے جاتے ایسی آخری خواہش بتاگئی کہ پوری دنیا کو رُلادیا، جان کر آپ کیلئے بھی آنسو روکنا مشکل ہوجائے گا

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلوی شہر برسبین کی 25سالہ لڑکی کے پھیپھڑے خراب ہو گئے جو ڈاکٹروں نے ٹرانسپلانٹ کے ذریعے نئے لگا دیئے۔ تاہم اس کے جسم نے نئے پھیپھڑوں کو قبول نہ کیا اور ڈاکٹروں نے اسے زندہ رہنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دے دیا۔ مرنے سے قبل اس لڑکی نے ایسی آخری خواہش بتا دی کہ دنیا کو رلا ڈالا۔ برطانوی اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق نارڈیا ملر نامی یہ لڑکی میک اپ آرٹسٹ تھی جو بچپن ہی سے سسٹک فائبروسس نامی بیماری میں مبتلا تھی۔ 2سال قبل اس کا آپریشن کیا گیا جو کامیاب نہ ہو سکا۔ اپنے انسٹاگرام اکاﺅنٹ سے نارڈیا نے پوسٹ کی ہے کہ ”میں آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمیشہ ایک بھرپور زندگی جینے کی کوشش کیجیے۔ میں چاہتی ہوں کہ ہر شخص اعضاءعطیہ کرنے کی اہمیت سے آگاہ ہو کیونکہ یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے کسی دوسرے شخص کو زندگی جینے کا دوسرا موقع مل سکتا ہے۔“

نرس نے عمر قید کی سزا پانے والے قیدی سے جیل میں شادی کرلی، جیل میں ہونے کے باوجود تعلق کیسے قائم ہوگیا اور ایسی کیا بات نظر آئی کہ شادی پر مجبورہوگئی؟ انوکھی ترین محبت کی ناقابل یقین تفصیلات

رپورٹ کے مطابق نارڈیا نے انسٹاگرام پوسٹ میں مزید لکھا ہے کہ ”ہو سکتا ہے میں بچپن سے اپ کو جانتی ہوں، ہو سکتا ہے میں 10سال سے آپ کو جانتی ہوں یا ہو سکتا ہے کہ میں کچھ عرصہ قبل ہی آپ سے واقف ہوئی ہوں لیکن ایک ہفتے بعد میں آپ میں سے کسی کو نہیں جانتی ہوں گی، میں پھر کبھی تمہارا چہرہ نہیں دیکھوں گی، کبھی تم سے بات نہیں کروں گی، کبھی تمہیں چھو نہیں سکوں ۔ پھر کبھی نہیں۔لیکن، میں ہمیشہ تم سے محبت کرتی رہوں گی، ہماری دوستی قائم رہے گی اور ہماری یادیں باقی رہیں گی۔زندگی میں ہمیشہ ہر چیز آپ کی خواہش کے مطابق نہیں ہوتی۔ کئی ایسی چیزیں ہو گی جو میں زندگی میں نہیں پا سکی۔ کئی ایسی جگہیں ہوں گی جو میں نہ دیکھ سکی اور اب انہیں دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہوں گی، لیکن میں دیکھتی رہوں گی، ہمیشہ، مسکراتے ہوئے، کیونکہ میں یہاں زندگی گزار چکی ہوں۔ میں کبھی ہار نہیں مانوں گی، جیسا کہ میں نے پہلے نہیں مانی۔ میں دوسروں سے بھی یہی درخواست کرتی ہوں کہ کبھی ہار نہ مانیں اور بھرپور زندگی گزاریں۔“

نارڈیا کی ایک کزن تاشے ڈوگلز ملر نے ’گو فنڈ می‘ پر چندے کے لیے ایک اکاﺅنٹ بنایا ہے۔ تاشے کا کہنا ہے کہ نارڈیا ابتداءسے ہی اس مرض کا شکار ہے اور آئے روز ہسپتال میں رہتی تھی۔ اس کا منگیتر لیام فزگیرالڈ اب تک اس کے علاج پر بھاری رقم خرچ کر چکا ہے اور بہت زیادہ مقروض ہو چکا ہے۔ نارڈیا کی آخری خواہش ہے کہ اس کی موت کے بعد اس کا منگیتر مقروض نہ رہے چنانچہ اس کی اسی خواہش کے پیش نظر میں نے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے یہ پیج بنایا ہے تاکہ لیام کا قرض اتارا جا سکے۔“رپورٹ کے مطابق گو فنڈ می پر اب تک 21ہزار آسٹریلوی ڈالرز چندہ اکٹھا ہو چکا ہے حالانکہ چندے کا ہدف صرف 10ہزار ڈالر رکھا گیا تھا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس