جدو جہد کشمیر۔۔۔عزم کی داستان

جدو جہد کشمیر۔۔۔عزم کی داستان
 جدو جہد کشمیر۔۔۔عزم کی داستان

  

کشمیر کے مسلمان آزادی کی جدوجہد کے لئے مسلسل کاوشوں میں مصروف ہیں۔ بھارت کے مظالم ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لیتے اور کشمیریوں کا عزم ہے کہ چٹان کی مانند مضبوظ سے مضبوط تر ہوتا جارہا ہے ۔ بھارت کے اسلحہ کی گھن گرج ایک پر عزم خاتون کی آواز کے آگے یک دم ماند پڑ گئی ہے۔ مہذب انسانیت کی تاریخ نے آج تک ظلم و دہشت گردی کی ایسی مثال نہیں دیکھی ہوگی جو بھارت کشمیر میں اپنی سفاکی سے قائم کر رہا ہے۔ یہ حقوق انسانیت کا زمانہ ہے ہر طرف Human Rights کا شور ہے۔ اس کے نام پر دنیا میں لاکھوں NGO,sکام کرہی ہیں مگر کشمیریوں کی بے بسی و لاچاری دیکھئے کہ نوجوان، خواتین،بچے اور بوڑھے بھارتی فوج کے تشدد اور درندگی کا نشانہ بن رہے ہیں۔ حالات اتنے ناگفتہ بہ ہیں کہ انتہائی نازک حالت میں ایمبولینسوں میں جاتے ہوئے مریضوں کو نیم بے ہوشی کی حالت میں سٹریچر سے گھسیٹ گھسیٹ کر سٹرکوں پر پھینکا جاتا ہے اور اُن کو پیٹا جاتا ہے۔وادی کشمیر میں کشمیری گزشتہ 70برسوں سے آزادی کی اپنی تحریک خود چلا رہے ہیں۔ ان کے اس حق خود ارادیت کو اقوام عالم اور اقوام متحدہ تسلیم کر چکے ہیں۔ بھارت نے کشمیریوں کی اکثریت کے جذبات کے برعکس کشمیر پر جبری قبضہ کر رکھا ہے۔ 7لاکھ مسلح افواج وہاں تعینات ہیں۔ بجلی ، آٹا، دال، چاول، گوشت، سبزیاں، تیل اور پٹرول سے لیکر گیس تک پر بھارتی حکومت وہاں سبسڈی دیتی ہے کہ کسی طرح کشمیریوں کو رام کیا جا سکے۔

بھارت عرصہ دراز سے کشمیر کا بدلہ بلوچستان میں لینے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ بارہا بھارتی حکمرانوں نے دھمکی بھی دی ہے کہ پاکستان کشمیر کو بھول جائے ورنہ اسے بلوچستان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ بھارتی جاسوسوں کا نیٹ ورک افغانستان کے راستے چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ علیحدگی پسند چند ایک رہنمابھی دیار غیر میں بیٹھ کر علیحدگی پسندی کے جذبات کو ہوا دے رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کا قصور صرف اُن کا مسلمان ہونا ہے ۔ بھارتی مظالم اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی بی بی سی جیسا ادارہ کشمیر کے نہتے مسلمانوں کو کوریج دینے پر مجبور ہے ، حتیٰ کہ امریکہ کے صف اول کے معروف اخبار New York Timesنے بھی بھارت کی جارحیت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور فوجی طاقت کے استعمال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں وضاحت سے 8جولائی کو ہونے والے دل سوز واقعہ کا ذکر کیاگیا ہے جس میں بائیس سالہ حریت رہنما برہان وانی کی شہادت کا تذکرہ کچھ ان الفاظ میں کیا ہے کہ " نوجوان حریت پسند برہان وانی کی شہادت کی خبر اتنی تیزی سے مقبوضہ کشمیر میں پھیلی جتنی تیزی سے بھارتی فوجیوں کی چلائی جانے والی گولیاں اس تک پہنچی تھیں"۔

مقبوضہ کشمیر میں شروع ہونے والی احتجاجی لہر آج بھی پوری شدو مد کے ساتھ جاری ہے۔ برہان وانی ایک پرامنگ اور پرامن نوجوان تھا جس کی آنکھوں میں آزادی کا خواب سجا ہوا تھا اور سینے میں شہادت کی آرزوچھپی تھی ۔ اُس کا حوصلہ پہاڑوں سے زیادہ بلند تھا۔ برہان کے مٹھی بھر ساتھیوں کے پاس چند بندوقیں تھیں اور وہ دنیا کی ایک بڑی فوج سے لڑنے کے لیے تیار تھا۔/8 جولائی 2016ء کو وانی نے اپنی محدود جنگی قوت کے ساتھ دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور آخری دم تک شجاعت اور دلیری کی تاریخ اپنے لہو سے لکھتا چلاگیا۔ بالآخر برہان مظفر وانی شہید ہوکر اللہ کی وسیع رحمتوں کے حصار میں داخل ہوگیا۔ وانی کی شہادت نے گویا مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو جلا بخشی۔ مقبوضہ کشمیر کے سینکڑوں مقامات سے لوگ گھروں سے باہر نکلے اور انہوں نے بھارت کے غاصبانہ تسلط کے خلاف احتجاج کیا ۔ حالانکہ یہ لوگ نہتے تھے پھر بھی بھارت نے اس پر امن احتجاج کا جواب انتہائی وحشت سے دیا، مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل پھینکے گئے اور پیلٹ گن کا اندھا دھند استعمال کیا گیا۔

برہان وانی کی شہادت کا پاکستان پر گہرا اثر ہوا اور ہر پاکستانی نے اس سانحے کا اثر براہ راست محسوس کیا ۔ وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر پاکستان میں 20جولائی کو یوم سیاہ منایا گیااور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئیں۔ حکومت پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں میڈیکل مشن بھیجنے کی بھر پور کوشش کی جس کو بھارت نے کامیا ب نہیں ہونے دیا۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت کے وزیر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں یہاں تک کہہ دیا کہ بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم نہیں کرتا اور کشمیر کبھی پاکستان کا حصہ نہیں بن سکے گا۔ یہ بات یقینی دکھائی دیتی ہے کہ آنے والے دنوں میں جدوجہد کشمیر شدت اختیار کر کے اپنے عروج کو پہنچنے والی ہے۔ بھارت کو پاکستان نے مذاکرات کی ہمیشہ پیشکش کی ہے اور امن کے ہر عمل میں پہل کی ہے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی امن کے راستے میں حائل ہے۔ نواز شریف نے اپنے پچھلے دور حکومت میں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔ گمان تھا کہ برف پگھلے گی اور بات چیت کا مستقل دروازہ کھلے گا مگر یہ نہ ہو سکا۔ اس کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھی بھارت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا اور ان کے بقول قریب تھا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کر لیا جاتا مگر ایل کے ایڈوانی نے شدید مخالفت شروع کر دی اور مذاکرات ناکام ہو گئے۔

موجودہ دور حکومت میں بھی نواز شریف نے بھارت سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوشش کی ہے مگر بھارت اب بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بھارت کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی بھارت میں دہشتگردی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے بھارت فوراً ہی پاکستان پر الزام لگا کر مذاکرات سے منکر ہو جاتا ہے۔حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ ممبئی اور پٹھانکوٹ پر حملے دراصل بھارت ہی کی مکارانہ چال تھی، لیکن بھارت نے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا کر بات چیت کے دروازے بند کر دیئے۔ بھارت یہ بھول رہا ہے کہ مذاکرات سے نظریں چرا کر دراصل وہ کشمیر کے مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دے رہا ہے لہٰذا ہمیں جہاد کے میدان آباد ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو خطے شہدا کے لہو سے رنگین ہو جائیں وہ آزاد ہو کر رہا کرتے ہیں ۔ ان شااللہ برہان وانی کی شہادت ضرور رنگ لائے گی وہ ایک عظیم مجاہد تھاجس کی شہادت نے بھارت کے ایوانوں پر لرزا طاری کر دیا ہے۔ اللہ اُس کو اپنی جنت الفردوس میں داخل کرے (امین)

مزید : کالم