سوشل میڈیا:دکھاتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

سوشل میڈیا:دکھاتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
 سوشل میڈیا:دکھاتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

  

نیند نہ ویکھے بسترا تے بُکھ نہ ویکھے ماس

موت نہ ویکھے عمر نوں تے عشق نہ ویکھے ذات

ایک 55 سالہ فرانسیسی خاتون 29 سالہ لڑکے سے شادی کرنے کی غرض سے خانپور پہنچ گئی۔ رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے29 سالہ ہومیو ڈاکٹر میاں عمیر احمد کا فیس بک پر فرانس میں رہنے والی 55 سالہ کیتھرین لوویٹ سے رابطہ ہوا جو آہستہ آہستہ چیٹنگ کے ذریعے عشق کا رنگ اختیار کر گیا، بعد ازاں دونوں کی یہ لوسٹوری شادی پر اختتام پذیر ہوئی۔دعاگو ہوں کہ یہ شادی کامیاب ہو اور کیتھرین جو ہمارے ملک کے نوجوان پر بھروسہ کر کے پاکستان آ گئی ہے، سدا خوش و خرم اور آباد رہے۔ان کی لوسٹوری کو اخبارات نیز سوشل میڈیا نے کافی کوریج دی ،حالانکہ ایسی شادیوں کا پر چار کسی بھی صورت میں جائز نہیں۔جائز اس لئے نہیں کہ کم عقل و کم فہم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو ترغیب ملتی ہے ایسا کوئی قدم اُٹھانے کے لئے، جبکہ یہ راہ نری گمراہی اور تباہی ہے۔یہاں ننانوے فیصد دھوکہ ہوتا ہے، صرف 0.01فی صد چانس ہے کہ اس عمل میں کوئی دھوکہ نہ ہو۔سوشل میڈیا کے جہاں کئی مثبت پہلوہیں، وہاں بے شمار منفی بھی ہیں۔بے راہ روی اور گمراہی میں یہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ لوگوں کا سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے رابطہ، چیٹنگ، عدم برداشت، بلا وجہ اپنا اور دسرے کا خون جلانا، ٹینشن،وقت برباد کرناوغیرہ وغیرہ، نیز بہت سے لوگ اپنے حقیقی ناموں کی بجائے جھوٹے فیک ناموں کے ساتھ فیس بک پر موجود ہوتے ہیں۔سائبر کرائم کا شکار صرف لڑکیاں ہی نہیں، بلکہ لڑکے بھی ہیں۔کچھ چال باز خواتین معصوم اور اچھے لڑکوں کو اپنے چنگل میں پھنسا کر ان کی زندگیاں برباد کر دیتی ہیں۔ زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے جواس گھناؤنے کھیل کا شکار ہوتی ہیں۔بہت سے لڑکے لڑکیوں سے دوستی کر کے انہیں سبز باغ دکھاتے ہیں، لڑکیاں جو عقل سے پیدل ہوتی ہیں، ملاقات کے لئے گھر سے نکل پڑتی ہیں، پھر دھوکہ کھاتی ہیں۔ اکثر اوقات اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں اور خودکشی کو گلے لگاتی ہیں۔ نہ اس جہان کی نہ اگلے جہان کی۔خود اپنی ذات کے ساتھ تو وہ جو کر گذرتی ہیں، سوکر تی ہیں، اس کے ساتھ پیچھے رہ جانے والے ماں باپ اور بہن بھایؤں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ذلت اور بدنامی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں دھکیل جاتی ہیں۔

سائبر کرائم کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار کے پیشِ نظر الیکٹرانک میڈیا اورپرنٹ میڈیادونوں کو چاہئے کہ اس کی روک تھام کے لئے اپنا اہم کردار ادا کریں، لیکن افسوس صد افسوس ہمارا میڈیا تو چسکے لیتا ہے، چٹکلے لگاتا ہے، ایسی کوئی خبر آجائے تو اس کو ایسے بیان کرتا ہے کہ بے غیرتی کی تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے۔کچے ذہن کے لوگوں کو اس میں اس قدر خوبصورتی اور دلکشی محسوس ہوتی ہے کہ وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اُنہیں بھی اسی طرح کا کوئی آئیڈیل لائف پارٹنر مل جائے اور حقیقت سے افسانوی زندگی میں خود کو دھکیل دیتے ہیں۔ تصوراتی و طلسماتی دنیا کا رنگین چشمہ لگائے زندگی کی تلخ حقیقتوں سے بے پروا گمراہی کے راستے پر گامزن ہو جاتے ہیں اور اکثر تو زندگی جیسے انمول تحفے سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یہ معاشرہ ایسا ہے کہ غلط راہ پر چلنے والے کو کوئی یہ نہیں سمجھاتا کہ تم کچھ غلط کر رہے ہو، بلکہ الٹا اسے کہا جاتا ہے ۔۔۔keep it up. ۔۔۔ جب خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں توپھر ساری قوم ورطہ حیرت میں مبتلا ہے، جیسا کہ غیرت کے نام پر قندیل بلوچ قتل کیس کے سلسلے میں میڈیا پر واویلا مچایا گیا اور پوری دنیا میں اپنے ہی ملک وقوم کی عزت کو اچھالا گیا۔خیر پرانے قصے کااب کیا ذکر کیاجائے، اب تو اپنا پیارا وطن ایک نئی آزمائش سے گزر رہا ہے، یہ کمال بھی خیر سے سوشل میڈیا ہی کا ہے۔سوشل میڈیا پر راتوں رات شہرت پانے والے سر گرم کارکنوں کا اغوا خطرے کی علامت بن گیا ہے۔

مزید : کالم