عمل سے زندگی بنتی ہے

عمل سے زندگی بنتی ہے

مکرمی:۔ اے انسان تو سمجھتا ہے کہ ہمیشہ اس دنیا میں زندہ رہے گا؟ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم آئے دن رشتہ داروں اور عزیز واقارب کو قبرمیں دفنا کر آتے ہیں یقیناً ہمیں بھی موت کا زائقہ چکھنا ہے اور اپنے اعمال کی جزا اور سنرا ضرور ملے گی تو پھر کیوں حکم خداوندی اور اسوہ رسولؐ کی پیروی کوترک کر کے دہشت گردی، بدعنوانی، دغابازی،رشوت ستانی اور دھوکہ دہی کے علاوہ حقوق العباد سے روگردانی کر کے اپنے پیٹ کو رزق حرام سے بھر کر بڑی بڑی عمارات اور پلازے تعمیر کر کے اور جائیدادیں خرید کر خدا کی زمین پر اکڑاکٹر کر چل رہا ہے براہ کرم اپنے ضمیر کو جھنجھوڑیئے کہ تو اللہ تعالیٰ کے احکام کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے اُسکی ناراضگی مول نہیں لے رہا ہے تمہیں بھی خدا کی زمین میں خالی ہاتھ سمانا ہے جہاں ہر امیر غریب دفن ہیں چند دن والدین عزیز واقارب دوست احباب اور اولاد روئیں گے لیکن کچھ عرصہ بعد صبر کر کے بیٹھ جائیں گے اور تیرا صدمہ بھول جائیں گے ارشادربانی ہے’’ یہ زندگی تو ایک کھیل تماشا ہے حقیقت میں آخرت ہی کا مقام اُن لوگوں کے لئے ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے‘‘ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر عمل کر کے لوگوں کی اور اپنے اہل و عیال کی اصلاح کرے اسلام کا نصب العین اور صراط مستقیم بھی یہی ہے یہ دنیاوی زندگی بالکل عارضی اور دل لگانے کی جگہ ہر گز نہیں بلکہ عبرت کی جاہے کوئی کھیل تماشا نہیں جو دنیا وی زندگی میں بویا جائیگا وہی آخرت میں کاٹنا پڑے گا دوسروں پر تنقید مت کیجئے اپنی اصلاح کر کے دوسروں کے لئے مثال قائم کیجئے تاکہ صالح معاشرے کا قیام عمل میں آئے(رب نواز صدیقی، پاک پتن شریف)

مزید : اداریہ