دہشت گردی روکنے کے لئے عالمی انٹیلی جنس شیرنگ کی ضرورت

دہشت گردی روکنے کے لئے عالمی انٹیلی جنس شیرنگ کی ضرورت

پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل(ر) راحیل شریف نے کہا ہے کہ دنیا کو متحد ہو کر دہشت گردی جیسے تباہ کن کینسر کا خاتمہ کرنا ہوگا، تمام ممالک کو دہشت گردی کو شکت دینے کے لئے انٹیلی جنس شیرنگ کرنا ہوگی دہشت گرد ڈیجیٹل ذرائع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،پاکستان نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) پشاور پر حملے کے بعد پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی، ایک ماہ میں ایک سو پچاس دہشت گرد حملوں کی بجائے ایک حملہ رہ گیا انہوں نے کہا دہشت گرد اپنے عزائم کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہیں سیلپر سیل اور ان کے حامی بھی دہشت گردی میں ملوث ہیں جنرل (ر) راحیل شریف نے کہا کہ جہاں فوجیوں کے سرکاٹے جائیں وہاں سخت کارروائی کرنا پڑتی ہے، انسانی حقوق کی حدود و قیود بہت پیچیدہ ہیں ان کا خیال رکھنا پڑتا ہے پاکستان اور افغانستان کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، پاکستان میں کارروائی پر دہشت گرد افغانستان میں چلے جاتے ہیں افغانستان میں کارروائی کے وقت یہ گروہ پاکستان آجاتے ہیں۔ ایسے گروہ بھی ہیں جو افغانستان میں بھی ہیں اور پاکستان میں بھی ہیں، افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی بھی مسئلہ بنی ہوئی ہے، وہ ڈیووس میں ’’ڈیجیٹل ایج میں دہشت گردی‘‘ کے موضوع پر خطاب کررہے تھے۔

دہشت گردی اس وقت کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہا دنیا کے بیشتر ممالک کسی نہ کسی انداز میں اس کی لپیٹ میں ہیں، کئی ملکوں میں تو جنگجوؤں کے گروہوں نے ریاستوں کے بعض علاقوں اور وسائل پر قبضہ کر کے اپنی عملداری قائم کر رکھی ہے اور ان ریاستوں کے ان مقبوضہ علاقوں میں وہ اپنے چمڑے کے سکے بھی اپنی من مرضی سے چلا رہے ہیں اور وہاں بیٹھ کر دہشت گردی کو ایکسپورٹ بھی کررہے ہیں، عراق و شام کے حالات کی وجہ سے ترکی بھی اس وقت بد ترین دہشت گردی کی زد میں ہے اور وہاں بڑے خونریز واقعات ہو چکے ہیں، افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی کے باوجود دارالحکومت کابل کا ہائی سیکیورٹی زون کا علاقہ بھی دہشت گردحملوں سے محفوظ نہیں ہے، اس لئے یہ بات آسانی سے کہی جاسکتی ہے کہ امریکی اور نیٹو فوج مل کر بھی پندرہ برس میں افغانستان میں اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکی۔

صدر اوباما جب اپنی پہلی صدارتی مہم چلا رہے تھے تو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان سے امریکی فوج واپس بلا لیں گے لیکن اس کے برعکس انہیں وہاں اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کرنا پڑا لیکن مقاصد پھر بھی حاصل نہیں ہوئے اب جب وہ اپنا آٹھ سالہ اقتدار ختم کر کے واپس جارہے ہیں تو افغانستان میں امن و استحکام کا مسئلہ بدستور پیچیدہ بنا ہوا ہے اس کے لئے کبھی ’’ہارٹ آف ایشیا‘‘ کانفرنسیں ہو رہی ہیں اور کبھی روس، چین اور پاکستان کو مل کر اس معاملے پر سوچ بچار کرنی پڑتی ہے اس کا واضح مطلب تو یہی ہے کہ ہنوز روز اول والا معاملہ ہے ابھی چند روز پہلے ہی صدر اوباما نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ نائن الیون کے بعد امریکہ میں کوئی دہشت گردی نہیں ہوئی اور یہ امریکہ کی بڑی کامیابی ہے۔ اس حد تک تو ان کا فرمان درست ہے کہ امریکہ میں اب دہشت گردی کرنے والے کہیں باہر سے نہیں آتے، یہ جونائٹ کلبوں میں بیک وقت پچاس پچاس لوگ گولیوں سے بھون دئے جاتے ہیں یہ ’’ہوم گراؤن دہشت گردی‘‘ ہے اور اس کی جڑیں خود امریکہ کے اندر ہیں۔

جنرل(ر) راحیل شریف نے ڈیووس میں خطاب کرتے ہوئے دنیا کو انٹیلی جنس شیرنگ کی جو تجویز پیش کی ہے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اس سلسلے میں کوئی عالمی لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ دہشت گردوں کا رخ اب دنیا کے کئی ایسے ملکوں کی طرف بھی ہو گیا ہے جو پہلے محفوظ سمجھے جاتے تھے اور انہیں اس عفریت کا سامنا نہیں تھا، بظاہر پُر امن ملکوں میں جب دہشت گردی کے واقعات ہوئے تو وہ حیران و ششدر رہ گئے اور ان کا ابتدائی رد عمل زیادہ منضبط نہیں تھا، تاہم جب وہ حیرت و استعجاب کی فضا سے نکلے تو انہوں نے بعض ایسے اقدامات کئے جن کے ذریعے وہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوئے۔

چند برس قبل جب فرانس میں دہشت گردی ہوئی تھی تودہشت گردوں کا ٹارگٹ وہ عالمی سربراہی کانفرنس تھی جو کوئی ایک ماہ بعد پیرس میں ہونے والی تھی، دہشت گردی کے باوجود اس کا نفرنس میں بڑی تعداد میں حکومتو ں اور ملکوں کے سربراہ شریک ہوئے اور انہوں نے مل کر نہ صرف فرانس سے اظہار یکجہتی کیابلکہ دہشت گردوں کو یہ متفقہ پیغام بھی دیا کہ وہ اس طرح ہار نہیں مانیں گے۔ ان واقعات نے دنیا کو یہ احساس دلا دیا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ متحد ہو کر ہی کیا جاسکتا ہے اور اس سلسلے میں انٹیلی جنس شیرنگ بڑی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے جنرل (ر) راحیل شریف نے یہ اہم بات کہی کہ اگر پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو وہ افغانستان چلے جاتے ہیں اور اگر افغان فورسز ان کے خلاف کارروائی کرتی ہیں تو وہ پاکستان آجاتے ہیں ، یہ بہت ہی بنیادی بات ہے اور دونوں ملکوں کو مل کر اس پر قابو پانا ہوگا، جب تک دونوں ملک نیک نیتی اور صدق دلی سے یہ انتظام نہیں کریں گے کہ ایک دوسرے کے ملک میں دہشت گردوں کی آمدورفت کے تمام راستے پورے بند کردئے جائیں اور سرحدوں پر ایسی سخت نگرانی کی جائے کہ دہشت گردوں کی آمد و رفت ممکن نہ ہو اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

پاک افغان سرحد ایک مشکل اور دشوار گزار سرحد ہے مقامی لوگوں نے پہاڑوں میں ایسے خفیہ راستے بنائے ہوئے ہیں جہاں سے وہ کسی روک ٹوک کے بغیر گزر کر ایک سے دوسرے ملک میں چلے جاتے ہیں اور پھر سرحد سے مُتصل پہاڑی سلسلوں کے اندر ایسے ٹھکانے بنالیتے ہیں جہاں آسانی سے کارروائی نہیں ہو پاتی، یہ عملی مسائل ہیں اور دہشت گردی کے اسیتصال میں بڑی رکاوٹ بھی ہیں ان سب پہلوؤں اور معروضی حالات کو مد نظر رکھ کر ہی آئندہ لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے، پاکستان نے سرحدوں کی نگرانی کا جو انتظام اس وقت کیا ہوا ہے اس کے تحت سفری دستاویزات کے بغیر لوگوں کی آمدورفت مشکل تو بن گئی ہے لیکن دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ انتظام سو فیصد کامیاب اور فول پروف بن گیا ہے، جنرل (ر) راحیل شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ جہاں فوجیوں کے سرکاٹے جائیں گے وہاں سخت اقدام بھی کرنا ہوں گے اس حوالے سے بھی حکمتِ عملی طے کرنے کی ضرورت ہے پاکستان میں سخت سزاؤں کے بعد دہشت گردی کو روکنے میں بہت مدد ملی ہے اور دنیا میں جو ملک سزائے موت کے خلاف ہیں اور پاکستان پر زور دیتے رہتے ہیں کہ اس سزا کو ختم کیا جائے انہیں اس پس منظر سے اچھی طرح آگاہ کرنے کی ضرورت ہے دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے اور دنیا کی مشترکہ مساعی سے ہی حل ہوگا۔

مزید : اداریہ