تری آواز مکے اور مدینے! (2)

تری آواز مکے اور مدینے! (2)
تری آواز مکے اور مدینے! (2)

  

صدر اول کا انبیائی اسلام موجودہ مروج تاریخی اسلام سے یکسر مختلف تھا،جیسے ارسطو کا تصور کائنات قرآن کے تصور کائنات سے بالکل میل نہ کھاتا تھا۔ یہ الگ بات علما وفقہا اور فلاسفا و حکما یونانی دانش کو اسلام کے فکری چوکھٹے میں فٹ کرنے کے لئے فن تطبیق کا یدِ طولیٰ استعمال کرتے رہے۔تیرہ صدیوں کی طویل تاریخ ،اتنے بڑے سقوط ،پھر اتنے بڑے بڑے انحرافات او رآفات۔۔۔اور اس پر اتنا کم مواد کہ لٹریچر کو اصل کیف وکم اور حجم و تنظیم سے کوئی علاقہ نہیں۔امت کے سیاسی تنازعات،انحرافات اور التباسات ایک ایسا حادثہ عظمیٰ،المناک المیہ اور دلدوز داستاں ہے کہ شاید و باید۔مذاہبِ عالم کا مطالعہ مطلع کرتا ہے کہ مذہبی تاریخ میں ہمیشہ غلو کے راستے ہی التباسات نے اپنا راستہ تراشا ۔انسانوں کاٹکڑوں میں بٹ جانا،مذہبی انحراف کے حوالے سے ہی عمل میں آیا کئے۔یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو دبے پاؤں اس طرح آتی ہے کہ شروع شروع میں اس کا ادراک واحساس بھی نہیں ہوتا۔مذاہب عالم کی تاریخ میں ہمارا حادثہ فاجعہ نیانہیں۔

دنیا میں غالباًیونانی عیسائیت کا سب سے قدیم ادارہ جبل سینا کے دامن میں سینٹ کیتھرائن کی خانقاہ ہے۔کہا جاتا ہے عہد نبوی میں اس خانقاہ سے عیسائی راہبوں کا وفد آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا ۔ ذاتِ ختمی رسالت کی جانب سے انہیں ایک امان نامہ دیا گیاجس میں اس بات کی ضمانت ہے کہ اہل کلیسا کی مذہبی زندگی سے کوئی تعرض نہ کیا جائے گا۔ان کی جان و مال ،عبادت گاہوں اور عزت و آبرو کی حفاظت مسلمانوں کے ذمہ ہو گی۔عیسائی عورتوں سے مسلمان اگر شادی کرنا چاہیں تو ان خواتین کی رضامندی ضروری ہو گی اور شادی کے بعد انہیں چرچ جانے سے نہ روکا جائے گا۔مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ آخری لمحہ تک اس امان نامہ کی پاسداری کریں۔مسلم دور حکومت میں سینائی کی یہی خانقاہ اسی امان نامہ کے سبب نہ صرف اپنی سرگرمیوں کے ساتھ محفوظ و مامون رہی بلکہ اس کے اوقاف بھی ٹیکس سے مستثنیٰ رہے۔16ویں صدی کی ابتدا میں ترک عثمانی خلیفہ سلطان سلیم اس امان نامہ کو تحفظ کے خیال سے قسطنطنیہ لے گئے۔ہاں البتہ اس کی تصدیق شد ہ کاپیاں خانقاہ کے لئے چھوڑے گئے جو آج بھی زائرین کی توجہ کا مرکز ہیں۔ (ادراک زوال امت ،راشد شاز۔ج2۔ص519 ) اسلامی ریاست اہل کتاب کے حقوق کے ضمن میں حد سے زائد حزم و احتیاط کا مظاہرہ کرتی رہی۔کہا جاتا ہے جب حضرت عمرؓ فاتح کی حیثیت سے یروشلم میں داخل ہوئے تو محض اس خیال سے انہوں نے چرچ کے اندر نماز پڑھنا مناسب نہ جانا،مباد اان کا یہ عمل مسلمانوں کے لئے چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کا باعث بن جائے۔حتیٰ کہ چرچ کے باہر جن سیڑھیوں پر آپؓنے نماز ادا کی ،اس بارے بھی انہوں نے یہ تحریری ضمانت دینی ضروری جانی کہ مسلمان صلوۃ عمرؓ کو نظیر بناتے ہوئے اس جگہ کو مسجد میں تبدیل نہ کریں۔

عہد نبوی میں نجران کے عیسائی وفد سے الفت و محبت کے ساتھ پیش آنا۔۔۔ اس کے باوجود کہ انہیں اپنے عیسائی بنے رہنے پر باتکرار اصرار تھا۔حبشہ کا وہ نجاشی بادشاہ جس نے مسلمانوں کو سیاسی پناہ بخشی۔آپ ﷺکااس کی موت پر گہرے اندوہ والم کااظہار اور غائبانہ نمازجنازہ کی ادائیگی تاریخی مصادرمیں محفوظ ہے ۔دراصل مسلمانوں کی اولیں نسلیں اس نکتے سے بخوبی آگاہ رہیں کہ بھری پری کائنات میں مختلف شعوب وقبائل کا پایاجانا،سابقہ انبیائے کرام کی باقیات دراصل خدائی اسکیم کا ہی حصہ ہیں۔خدانے انسانوں کو مختلف اقوام وملل میں پیدا کیااورمتعدد ایمانی طائفوں میں ان کی شناخت تشکیل دی۔ان سب چیزوں کی حقیقت اور حیثیت لتعارفو سے زیادہ نہیں کہ تم پہچانے جاؤ!

بااسالیب مختلف یوں کہئے کہ صدراول کی نسل اگر ممتاز اور منفرد رہی تو اس کی وجہ ان کی تبدیلی قلب اور تصورحیات ہی تو تھا۔ورنہ اکل و شرب ،لسان و لباس اور معاشرت وتہذیب میں وہ اپنے عہد کے دوسرے لوگوں کی طرح ہی دکھائی دیتی تھی۔قلب و نگاہ کی تبدیلی ،بلند نگاہی اور وسعت ظرفی نے ہی ان کے دل کی دنیا بدلی تھی ۔کہا جاتا ہے عہد نبوی میں کسی شخص کا اسلام قبول کرنا یا ایمان لانا گویا اس بات کا اعلان تھاکہ شخص مذکور راہ یابوں کے قدسی قافلے میں شامل ہو گیا ہے ۔اور ہاں اس صالح کارواں میں شمولیت کے لئے دل ونگاہ کی تبدیلی اور کلمہ پڑھ کر اقرار بس کافی تھا۔اسے نہ تو مسلمانوں کا سا لباس اختیار کرنے کی حاجت ہوتی اور نہ ہی وہ کوئی نیامسلمان نام رکھتا تھا کہ تب مسلم نام کی کوئی شناخت ہی کب تھی ۔نہ ہی اسلامی لباس کا کوئی تصور تھا اور نہ ہی مروج معنوں میں تبدیلی مذہب کے عمل سے لوگ واقف ہوتے۔کہا جاتا ہے اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ہر شخص ویسا ہی دکھائی دیتا تھا جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ہاں البتہ اس کے دل کی دنیا بدل جاتی تھی اور وہ نئی سوچ اور تصور حیات سے شناسا ہوتا۔تب قلب و نگاہ کی اسی تبدیلی کوایمان کہتے تھے جس کی گواہی عمل کے ذریعے دی جاتی نہ کہ ظاہری تراش خراش یا جبوں عماموں سے۔

ہجرت کے بعد جب مسلمان مدینہ آئے تو انہیں بنی اسرائیل کے ان قبائل و ملل سے سابقہ پیش آیا جو خود کو مصحف موسیٰ کا امیں کہتے تھے ۔حضور ﷺنے مدینہ کی اجتماعی زندگی کی ترتیب و تنظیم کے لئے جس صحیفے کی منظوری دی ۔۔۔اس پر انصارو مہاجر کے ساتھ ساتھ اہل یہود سے بھی دستخط لئے گئے ۔اس صحیفہ کے مطابق قانون کی نظر میں ہر شخص برابرٹھہرااور اس کے حقوق و تحفظ کی ضمانت غیر جانبدار عدلیہ کے ذریعے دی گئی۔دماغ روشن اور نگاہ کھلی ہو تو اس صحیفہ میں بھی غیر اقوام کے لئے وسعت قلبی صاف دیکھی جا سکتی ہے ۔ڈاکٹر حمیداللہ ایسے محققین نے اس صحیفہ کو دستور مدینہ کی حیثیت سے پڑھنے کی کوشش کی ہے ۔حالانکہ اس کی حیثیت کسی قانونی دستاویز کی بجائے ایک ایسے محضر نامہ کی ہے ،جس کے ذریعے مختلف اقوام و ملل کے تعاون واشتراک سے ایک نئے سماج کی تشکیل کی کوشش کی گئی ہو۔اس صحیفہ میں محمد النبیﷺکے الفاظ تو پائے جاتے ہیں۔۔۔البتہ اس بات کی صراحت موجود نہیں کہ کس کے نبی!اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے انبیائے سابقین کی امتیں اپنے بدبختانہ رویے کی وجہ سے اگرذات ختمی رسالتؐ کے سلسلے میں کسی ذہنی تحفظ کا مظاہرہ بھی کریں۔۔۔تب بھی انہیں ان کے حقوق سے محروم نہیں کیاجانا چاہئے۔ (جاری ہے)

مزید : کالم