کرائے کی فوج یا۔۔۔۔۔۔؟

کرائے کی فوج یا۔۔۔۔۔۔؟
 کرائے کی فوج یا۔۔۔۔۔۔؟

  

کچھ روز پہلے ایک دوست سے ملاقات ہوئی۔ کافی لکھے پڑھے اور صاحب علم ہیں اور لکھاری بھی ہیں۔ انہوں نے ایک ایسا سوال پوچھاجو قبل ازیں بہت سے دوستوں نے بھی پوچھا تھا۔ لیکن ان کا یہ سوال شائد سنی سنائی باتوں پر مبنی تھا، شائد ان کو قائم افواج (Standing Armies)اور کرائے کی افواج کا تاریخی پس منظر معلوم نہ تھا یا شائد ان کا منشاء ایک سابق فوجی سے اس موضوع پر سوال کرکے، پاکستان آرمی کو بطور ایک قومی ادارہ کے مشق ستم بناناتھا۔

ایسے دوستوں کی نیت پر شک کرنے کی گنجائش شائد موجود ہو لیکن جو صاحب اس روز یہ سوال پوچھ رہے تھے ان کی نیت میرے سامنے آئینہ تھی۔ بڑے محبِ وطن اور پُرخلوص آدمی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سوال کے ساتھ جو افسانے وابستہ کئے جاتے ہیں میں ان کی اصلیت جاننا چاہتا ہوں۔

میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ پاکستان آرمی ایک منضبط قومی ادارہ ہے۔ اگر کوئی فوج کسی دور میں کرائے کی فوج رہی بھی تھی تو اس دور میں سارے ہی قومی ادارے کرائے کے سپاہی تھے۔ وہ بادشاہوں کا دور تھا، مطلق العنان حکمرانوں کا دور اور سفاک آمروں کا دور۔۔۔ زندگی یا موت کے درمیان انتخاب کرنے کی واحد آپشن نے انہیں اگر کرائے کا سپاہی بنایا بھی تھا تو ان کی معذوری قابلِ گرفت نہیں، قابل معافی ہونی چاہیے۔

زمانہ ء قبل ازمسیح کے اکثر فرمانروا چونکہ آمرانہ اختیارات رکھتے تھے اس لئے وہ پیسے دے کر فوجی خرید لاتے تھے اور جب ان کی ضرورت پوری ہو جاتی تو وہ ان فوجیوں کو فارغ کر دیتے ۔ ان فوجیوں کی کوئی باقاعدہ تنخواہ مقرر نہ تھی۔ سارا انحصار مالِ غنیمت پر ہوتا تھا۔ پھر یہی سلسلہ اسلامی دور تک چلتا رہا۔ جب آنحضور سرور کائنات ﷺ کا دور آیا تو پہلی دفعہ قائم (Standing) اور قومی (National) افواج کی بنیاد دیکھنے کو ملی۔ غزوۂ بدر کا کوئی ایک فوجی بھی محض چند سکوں کی خاطر آنحضورؐ کی قیادت میں جنگ کی بھٹی میں نہیں کودا تھا، کسی پر کوئی جبر و اکراہ اور قدغن نہیں تھی۔ بیٹا باپ کے مقابل اور بھائی بھائی کے سامنے تھا۔ یہ مالی منفعت یا حصولِ مالِ غنیمت کی روائتی جنگ نہیں تھی۔ اسلام کی اسی طرزِ جنگ نے ’’جہاد‘‘ کا نام پایا۔ پھر خلیفہء دوم حضرت عمرؓ نے فوج کو باقاعدہ تنظیمی بنیادوں پر استوار کیا ۔مولانا شبلی نے اسلامی فوج کی تنظیم پر اپنی معروف کتاب الفاروق میں اس کی تفصیل دی ہے۔ خلافتِ راشدہ کے بعد جب ملوکیت کا آغاز ہوا تو اسلامی جہاد کا یہ نظریہ پس منظر میں چلاگیا اور شاہی فرامین کے کوڑے غالب آ گئے۔ اب یہ جہاد کی بجائے جنگ بن گئی تھی۔ بعد کے اسلامی دور کی صلیبی جنگوں کو جہاد کہاجائے یا جنگ کا نام دیا جائے اس موضوع پر بھی مورخین نے کافی بحث کی ہے۔ نتیجہ یہ نکالا گیا تھاکہ چونکہ نیت کسبِ زر اور حصولِ اقتدار نہیں تھی بلکہ اعلائے کلمۃ الحق تھا اس لئے ان صلیبی جنگوں کو جہاد کا نام دیا جا سکتا ہے ۔اور مزید بعد میں تو اسلامی لشکر کے مخالف فریق نے لفظ صلیبی (Crusade) کہہ کر اس فرق کو یکسر مٹا دیا جو جنگ اور جہاد میں تھا۔

تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو کرائے کی فوج اور کرائے کے سپاہی کا تصور استعماری جنگوں کے ساتھ وابستہ ہے۔کرائے کے سپاہی کو انگریزی میں مرسنری (Mercenary) کہا جاتا ہے جس کا لغوی معنی یہ ہے: ’’ایسا سپاہی جو کسی بادشاہ یا حکمران یا سردارِ قبیلہ کے ماتحت نہیں ہوتا، اپنی فوجی ٹریننگ خود کرتا ہے اور جس طرح بازار سے دوسری قابلِ خرید اشیاء خریدی جاتی ہیں اسی طرح وہ بھی برسرِ بازار اپنے آپ کو بیچتا ہے اور اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ نہیں بلکہ دوسرے ملکوں کے فوجیوں کے ساتھ جا کر لڑتا ہے‘‘۔۔۔ دوسرے لفظوں میں مرسنری کا مطلب ایسا جنگجو ہے جو بکاؤ مال ہے، پردیس میں جاکر نبرد آزما ہوتا ہے اور کسی بادشاہ کی مرضی کے لئے نہیں بلکہ اپنی غرض کے لئے لڑتا ہے۔ کرائے کے سپاہی کی یہ متذکرہ بالا اصطلاح بڑی جامع ہے ۔ اور اگر ایسا ہے تو پھر پاکستان میں یہ سوال کیوں پوچھا جاتا ہے کہ آیا پاک فوج کرائے کی فوج ہے یا قومی فوج ہے؟

جہاں تک کسی غیرملک میں جاکر لڑنے کا سوال ہے تو پاک فوج کا سپاہی بھی بنیادی طور پر غیرملک (دشمن) کے خلاف ہی تیار کیا جاتا ہے۔ماضی ء قریب میں خودکش حملے نہ ہوتے اور دہشت گردی کی وبا بیچ میں نہ آدھمکتی تو پاک فوج کا سپاہی اپنے ہی ملک میں اپنے ہی لوگوں سے کبھی نہ لڑتا۔ یہ تو جب اپنے غیر ہو گئے تو پاک فوج کے سپاہی کواپنے ملک کی حدود ہی میں ان ’’غیروں‘‘ سے جنگ کرنا پڑی۔ اس جنگ میں دہشت گردوں نے لفظ ’’جہاد‘‘ کے مفہوم کو سادہ لوح لوگوں کے لئے ایک نئے معانی میں متعارف کروایا۔ ان شدت پسندوں نے جہاد کی جو تعریف کی وہ ان کی اپنی ایجاد کردہ تھی۔ یہ نئی اختراع تقریباً گزشتہ دو عشروں سے دنیا بھر میں مروج ہے۔ القاعدہ، طالبان، داعش اور اسی طرح کے دوسرے کئی گروپ جہاد، کا نام لے کر اُس اصطلاح کو کرپٹ کر رہے ہیں جو صلیبی جنگوں میں کفر و اسلام کے درمیان عربوں کی ابتدائی جنگوں کا حربی ڈاکٹرین تھی۔

۔۔۔ یورپ میں 1618ء سے لے کر 1648ء تک ایک ایسی جنگ ہوئی جس کی وجوہات بیشتر مذہبی تھیں۔ اس کو ’’تیس سالہ جنگ‘‘ کا نام دیاجاتا ہے۔ جب یہ جنگ 1648ء میں بند ہوئی تو اس میں 80لاکھ انسان (سویلین) لقمہ ء اجل بن چکے تھے۔ ان میں وہ 10لاکھ سپاہی شامل نہیں تھے جو وردی پوش تھے۔ وسطی یورپ اسی طرح کھنڈرات کا ایک ڈھیر بن چکا تھاجس طرح تقریباً 300سال بعد دوسری جنگ عظیم میں 1945ء کے آتے آتے بن گیا تھا۔ اس جنگ کی ہولناکی کا عالم یہ تھاکہ لوگوں کو ازراہِ مجبوری اپنے مردہ بھائیوں کا گوشت کھانا پڑا تھا۔ جنگ کی بربریت نے یورپین اقوام کو اٹلی کی 15ویں صدی کی ’’پُرامن‘‘ جنگوں کی طرف لوٹ جانے پر مجبور کیا۔ آپ حیران ہوں گے کہ کیا کبھی کوئی جنگ بھی پُرامن ہوتی ہے؟ لیکن برصغیر ہندو پاک میں جو دور سلاطینِ دہلی کے نام سے جانا جاتا ہے، وہ مغلوں سے پہلے کا دور ہے۔ اس دور میں آپ کو کوئی ایسی بڑی جنگ پڑھنے کو نہیں ملے گی جو 1192ء (اور پھر 1193ء) میں ترائن کے میدان میں غوری اور پرتھوی راج کے مابین ہوئی تھی۔ ترائن کی لڑائی اور پانی پت کی پہلی لڑائی کے درمیان جو ابراہیم لودھی اور بابر کے درمیان 1526ء میں ہوئی ،تین ساڑھے تین سو سال کا وقفہ ہے (1193ء تا 1526ء)۔ یہی وہ مدت ہے جس میں کرائے کی فوج کی اصطلاح کا سراغ ملتا ہے۔ اسی دور میں اٹلی کی مختلف ریاستوں (مثلاً فلورنس اور میلان وغیرہ) میں کرائے کے سپاہیوں کو بھرتی کرنے کا رواج شروع ہوا۔ ہوتا یہ تھا کہ فریقین انتہائی تربیت یافتہ اور پروفیشنل سولجرز کو بھرتی کر لیا کرتے تھے۔ اس فوج کو تاریخ میں کونڈوٹیری (Condottieri) کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ صرف حصولِ زر کی خاطر لڑتے تھے۔ ایک سال ایک شہزادے کی فوج میں بھرتی ہو جاتے اور اگلے سال کسی دوسرے پرنس کی فوج میں چلے جاتے۔ یہ جنگ نہیں ایک کاروبا تھا، ایک ذریعہء معاش تھا۔ دشمن کو قتل نہیں کیا جاتا تھا، جنگی قیدی بنا لیا جاتا تھا اور پھر بھاری تاوان لے کر رہا کر دیا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جنگ کو طول دیا جاتا اور فیصلہ کن بنانے سے احتراز کیا جاتا۔ دشمن سے دوبدو ہونے کی بجائے اس کا محاصرہ کر لیا جاتا اور پورے 6 مہینے محاصرے میں گزار دیئے جاتے ، جنگ کو اتنا طول دیا جاتا کہ حکمران کرائے کے سپاہیوں کو تنخواہیں دے دے کر تنگ آ جاتے ۔ جب یہ جنگ ختم ہوتی تھی تو معلوم ہوتا تھا کہ طرفین کا ایک سپاہی بھی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ جنگ کے اسی کلچر سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ : ’’جنگیں ہتھیاروں سے نہیں، عیاری، مکاری اور چالاکی سے جیتی جاتی ہیں۔‘‘

یہی تاریخی پس منظر تھا جس کو افرنگی اقوام نے ہندوستان میں بھی رائج کرنا چاہا۔ مغلیہ خاندان کے زوال کا سبب مغل فوج کا زوال تھا اور مغل فوج کا زوال ، مال و زر کے زوال کی وجہ سے آیا۔ چونکہ مغلوں نے ہندوستان کی سرحدوں سے باہر نکل کر کبھی کسی غیر ملک پر تاخت و تاراج نہ کی اس لئے خزانہ خالی ہونے لگا۔ فوج کو مشاہرے کہاں سے ملتے؟ سپاہی بیکار اور بے روزگار ہو گئے۔ مرزا سودا نے اپنی ایک نظم ’’مخمس شہر آشوب‘‘ میں کرائے کی فوجیوں کی حالت زار کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ حد درجہ قابل توجہ ہے۔ اس مخمس کے پہلے دو بند دیکھئے:

کہا میں آج یہ سودا سے کیوں تو ڈانواں ڈول

پھرے ہے، جا کہیں نوکر ہو لے کے گھوڑا مول

لگا وہ کہنے یہ اس کے جواب میں دو بول

جو میں کہوں گا تو سمجھے گا تو کہ ہے یہ ٹھٹھول

بتا کہ نوکری بکتی ہے ڈھیریوں یا تول

سپاہی رکھتے تھے نوکر امیر دولت مند

سو آمد ان کی تو جاگیر سے ہوئی ہے بند

کیا ہے ملک کو مدت سے سرکشوں نے پسند

جو ایک شخص ہے بائیس صوبے کا خاوند

رہی نہ اس کے تصرف میں فوجداری کول

تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا بھر میں افرنگی حکمرانوں کی کامیابیوں کا راز یہی تھا کہ انہوں نے کرائے کی سپاہ کو ’’وقتی ضرورت سے اٹھا کر مستقل‘‘ بنیادوں پر استوار کر دیا۔ جنگ ہو نہ ہو، سپاہی کی ماہوار تنخواہ کے علاوہ وردی، رہائش، خوراک، علاج وغیرہ سب مفت تھے ۔جب سپاہی کی جوانی ڈھلنے لگتی تو اسے جواب نہیں دیا جاتا تھا، پنشن دے دی جاتی تھی اور یہ ’’آدھی تنخواہ‘‘ اسے تاحیات ملتی رہتی تھی۔ فوج کا یہی سسٹم تھا جو حضرت عمرؓ نے رائج فرمایا لیکن بعد کے مسلم حکمرانوں نے اسے کرپٹ کر دیا۔ ان کے دور میں معمول یہی تھا کہ جنگ ہوتی تو تنخواہ بھی ہوتی اور جنگ نہ ہو تو تنخواہ بھی رک جاتی۔ کرائے کی سپاہ کا تصور اسی ایکسرسائز سے وابستہ ہے۔ جنگ نہ ہو تو قائم فوج کو رکھنا سفید ہاتھی پالنے کے مترادف گردانا جاتا ہے ۔۔۔ اور یہ ایک الگ بحث ہے۔

چین 1949ء میں آزاد ہوا۔ آج اسے آزاد ہوئے تقریباً 68 برس ہو چکے ہیں۔ ماسوائے اکتوبر 1962ء میں صرف ایک ماہ کی جھڑپ جو انڈیا کے ساتھ ہوئی، پیپلزلبریشن آرمی (PLA) نے کسی جنگ میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ لیکن کیا ان سات عشروں میں PLA فارغ بیٹھی رہی ہے؟ اگر نہیں تو اس کا بجٹ کہاں سے آتا رہا اور وہ اس بجٹ کو جنریٹ (Generate) کرنے میں PLAنے کیا کردار ادا کیا، یہ بحث بھی ہمارے موضوع کا حصہ نہیں۔

پاک فوج (اور اس طرح انڈین آرمی بھی) 1947ء سے پہلے برٹش انڈین آرمی کا حصہ تھی۔ اگر کوئی ’’دانشور‘‘ یہ استدلال کرے کہ برٹش انڈین آرمی چونکہ کرائے کی فوج تھی اس لئے پاک فوج بھی اسی کا تسلسل ہے اور اس حوالے سے یہ بھی کرائے کی فوج ہے تو پھر تو 1947ء سے بعد سے لے کر آج تک سارا حکومتی انفراسٹرکچر بھی کرائے کا انفراسٹرکچر بن جائے گا۔ ملک کے دوسرے اداروں کو تو قومی ادارے تصور کرنا اورافواجِ پاکستان کو کرائے کی فوج قرار دینے کا ڈول ڈالنا جنگ و جدل کے عالمی کلچر اور اس کی عہددار تاریخ سے بے خبری کے سوا اور کچھ نہیں۔

مزید : کالم