خواتین کی محبوب کشمیری شال ہر زمانے کی شناخت، ہر زمانے کی پسند

خواتین کی محبوب کشمیری شال ہر زمانے کی شناخت، ہر زمانے کی پسند

ناصرہ عتیق

کشمیری شال اپنی گوناگوں خوبیوں کی بدولت تین صدیوں سے مشہور و معروف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کشمیر کے فن و ثقافت اور معاشی خوشحالی کو تب عروج حاصل ہوا جب اس کا واسطہ بیرونی تہذیبوں سے پڑا تھا۔ وادی کشمیر کی شال سازی کی داستان تین صدیوں سے زائد عرصہ پر محیط ہے۔ اس خوبصورت خطۂ ارضی پر مغلوں، افغان، سکھوں اور ڈوگروں نے بالترتیب حکمرانی کی اور دیگر فنون کے ساتھ ساتھ شال کی صنعت کو بھی متاثر کیا تھا۔ اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ صرف ایک ہی دورِ حکمرانی نے شال بافی پراپنا اثر ڈالا تھا۔ کشمیری شال کی بتدریج اٹھان اور ترقی پر نگاہ دوڑائیں تو اس کی بنت اور نمونے میں امن اور جنگ کا زمانہ جھلکتا دکھائی دیتا ہے، قحط سالی کے ایام اور اشیاء کی بہتات کے دنوں کا پتہ چلتا ہے اور شال کی بناوٹ ہی سے حکومت کی تبدیلی کا واضح احساس ہوتا ہے۔

صاحب ثروت خواتین اچھی سے اچھی کشمیری شال تلاش کرتی اور فخر سے اوڑھتی ہیں۔ پشمینے کی شال اور شاہ توش مہنگی ہونے کے سبب امارت کی علامت ہیں۔ خوبصورت شال اوڑھی ہو تو شخصیت کی جاذبیت میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ شال اوڑھنے والے اس بات سے بے نیاز ہوتے ہیں کہ اس پر گل بوٹی کا کام کرنے والے کتنے مرد اور عورتوں نے انپی آنکھوں کا نور صرف کیا ہے۔

وادی کشمیر میں آج بھی ظلم و بربریت کے سائے تلے، بارود اور خون کی بو سے رچی بسی فضا میں اور آزادی کے پر شور نعروں کے بیچ خواتین اور مرد جوشال بافی کے ہنر سے وابستہ ہیں، اپنے فن میں مستغرق ہیں۔ وہ تکالیف اور مصائب کے عادی ہو چکے ہیں۔ صبر ان کا سب سے موثر ہتھیار اور امید ان کی سب سے بڑی روحانی قوت ہے۔ ان کی تیار کردہ ہر شال اپنی بناوٹ اور ڈیزائن میں انفرادیت رکھتی ہے۔

شال کا استعمال زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ بدن پر سجاوٹ اور پہناوے کے طور پر اوڑھا جانے والا اونی کپڑا صرف امراء یا اعلیٰ طبقے ہی کے زیر استعمال نہیں تھا بلکہ غریب لوگ بھی شال اوڑھنا پسند کرتے تھے۔ قدیم بدھ تحریروں میں شال کا ذکر ایک اہم اونی پہناوے کے طور پر آتا ہے۔ کشمیر کی وادی میں سترھویں صدی سے قبل بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ ایک سیاح بیرن فان ہیوگل نے سلطان زین العابدین (1420- 1470) کے دور میں شال سازی کو ایک مقبول صنعت کے طور پر بیان کیا ہے۔ تاہم شال کے دستیاب دو نمونے جو سترھویں صدی سے متعلق ہیں اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ شال بافی سولھویں صدی میں بھی جاری و ساری تھی۔ نئی تحقیقات کے مطابق پتا چلتا ہے کہ اس کا آغاز پندرھویں صدی سے ہوا تھا۔ کشمیر میں شال کی صنعت بارے انیسویں صدی میں ایک شخص حاجی مختیار شاہ نے ایک تحقیقی تحریر قلم بند کی تھی۔ مختار شاہ کے بزرگ اس صنعت سے سترھویں صدی سے وابستہ تھے ۔ مختار شاہ نے یہ کتاب معروف مستشرق جی ڈبلیو لٹنر کی درخواست پر مرتب کی تھی۔ اس نے لکھا کہ اس صنعت نے پانچ لاکھ افراد کو روزگار مہیا کیا ہے۔مختار شاہ مزید لکھتا ہے کہ کشمیر پر حیدر دوغلات نے جو تاشغر میں پیدا ہوا تھا اور ظہیر الدین محمد بابر کا عم زاد تھا، نے 1540ء میں کشمیر پر قبضہ کے بعد اس صنعت کو متحرک کیا تھا جس کا اجراء سو سال قبل سلطان زین العابدین نے کیا تھا۔ پٹو اور پشم دو اوڑھنے والے پہناوے بھی اسی دور سے چلے آ رہے ہیں۔ پٹو کھردری لداخی اون سے بنا جاتا تھا جبکہ پشم بکری کی نرم اون سے تیار کیا جاتا تھا۔ حیدر دوغلات کی ایما پر ایک نئی قسم قانی شال کا آغاز ہوا پھر مغلوں نے اس صنعت کی سر پرستی کی اور کشمیرمیں شال بافی کو ایک بھرپور شناخت مل گئی۔

ابو الفضل لکھتا ہے کہ شہنشاہ اکبر نے شال کی ظاہری صورت کی طرف خاص توجہ دی اور توش یا شاہ توش کی سر پرستی کی تھی۔ شاہ توش ایک ایسی شال ہے جو وادی کی بکریوں کی ایک قسم کے پیٹ پر سے اتاری گئی نرم ترین اون سے بنائی جاتی ہے۔ یہ اتنی نازک، سبک، ہلکی اور گرم ہوتی ہے کہ انگوٹھی کے چھلے میں سے پوری شال گزر جاتی ہے۔ آج بھی شاہ توش سب سے قیمتی شال گردانی جاتی ہے۔ اکبری دور میں اون کی رنگائی سے متعلق مختلف تجربات کئے گئے جس سے شال کا معیار بہتر ہو گیا تھا۔

آئین اکبری میں درج ہے ’’شالیں کشمیر سے لائی جاتی تھیں۔ بعض لوگ اسے چار تہوں میں اوڑھتے تھے۔ بعض پوری طرح اوڑھ لیتے۔ شہنشاہ(اکبر) اسے دوہرا کر کے اوڑھتے تھے جوبہت بھلی دکھائی دیتی تھی۔‘‘اوڑھنے کے اس طریقہ سے دو شالہ و جود میں آیا جو دو شالیں جوڑ کر سی لیتے تھے۔ مغل دور میں کشمیر میں شال بنانے کی چالیس ہزار کھڈیاں لگی ہوئی تھیں اور لاکھوں لوگ ان شالوں پر دن رات محنت کرتے تھے۔ شہنشاہ اکبر کے بعد آنے والے سبھی مغل حکمرانوں بالخصوص شاہ جہاں نے اس صنعت کی خوب سر پرستی کی تھی۔ اس وقت مغرب میں نشاۃثانیہ کا ظہور ہو چکا تھا جبکہ مشرق میں بھی فن و ثقافت عروج پر تھے۔ ابتدائی مغل دور کی شالیں بہت کم دستیاب ہیں۔ البتہ جہانگیر کے عہد (1605-1627)سے اس کی ترقی کا پتا چلتا ہے کیونکہ اسی دور میں شال پر بیل بوٹوں کی کڑہائی کا آغاز ہوا تھا۔ نزاکت و نفاست لئے ان ڈیزائنوں نے ایسی مقبولیت حاصل کی کہ ابھی تک اپنی فوقیت جتائے ہوئے ہیں ۔ تاہم دیگر ڈیزائن معدوم نہیں ہوئے بلکہ وہ بھی اپنا اثر اب تک قائم رکھے ہوئے ہیں۔

افغان دور حکومت میں کشمیر نے بہت صعوبتیں اٹھائیں۔ اسی لئے اس دور کی شالوں میں ان کی بے بسی و بے کسی نمونوں کی صورت میں عیاں ہے۔ پھول پتوں کی نزاکت کی بجائے سخت جان بیل بوٹوں نے لے لی تھی۔ بعدازاں بوٹی کا ڈیزائن مقبول ہوا جو اب تک جاری ہے ۔

1753ء میں احمد شاہ ابدالی کے حملے نے کشمیر پر مغلوں کا تسلط ختم کر دیا۔67برس وادی نے ظلم و ستم سہے۔ ہندو کشمیریوں نے اپنے کاروبار بند کر دیئے اور دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئے۔ تاہم شال کی صنعت اونچ نیچ کے باوجود جاری و ساری رہی اور کشمیر کی آمدن میں اضافہ کرتی رہی۔ افغان گورنر حاجی داد خان کے زمانے میں شال سازی پر سخت وقت گزرا جب اس نے بھاری ٹیکس عائد کر دیئے تھے۔

افغانوں کے بعد سکھوں کے دور میں بھی حالات بہتر نہ ہوئے۔ تب شالیں ایرانی تاجر ایران اور پنجابی تاجر امرتسر اور لاہور بھجواتے تھے۔ البتہ سکھ دور میں شالوں کے ڈیزائن میں شان و شوکت زیادہ نمایاں ہونے لگی۔ پھر قحط پڑا جس کے نتیجے میں شال کی صنعت عارضی طور پر امرتسر منتقل ہوگئی۔

سکھوں کے دور کے خاتمے کے بعد کشمیر ڈوگرہ راج کی عملداری میں آگیا۔ 1877ء میں وسیع پیمانے پر قحط نے وادی کے حالات دگر گوں کر دیئے اور شال کی صنعت کو خاصا ضعف پہنچا۔ تاہم فرانسیسیوں نے شال سازی کی سرپرستی کی اور اسے سنبھالا دیا۔

مجھے امید ہے کہ جو خواتین کشمیری شال اوڑھنا پسند کرتی ہیں وہ اس کی پر صعوبت تاریخ سے آگاہی کے بعد وادی کے ان مرد و خواتین کو دعا ضرور دیں گی جن کے ہاتھ خوبصورت بیل بوٹے کاڑھتے ہیں اور جن کی آنکھیں کام کی باریکی کے سبب دکھتی رہتی ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1