بیوروکریسی منہ زور،پولیس کلچر تبدیلی خواب،افسر تعلیم یافتہ ،تھانیداروں کی حوصلہ شکنی کرنے لگے

بیوروکریسی منہ زور،پولیس کلچر تبدیلی خواب،افسر تعلیم یافتہ ،تھانیداروں کی ...
بیوروکریسی منہ زور،پولیس کلچر تبدیلی خواب،افسر تعلیم یافتہ ،تھانیداروں کی حوصلہ شکنی کرنے لگے

  

ملتان(ڈیلی پاکستان آن لائن)پولیس بیوروکریسی نے وزیراعلیٰ پنجاب کے پولیس کلچر کی تبدیلی کے اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں شروع کر دیں ،پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کیلئے جانے والے پڑھے لکھے نوجوانوں کو پولیس کلچر کی بہتری کیلئے استعمال کرنے کی بجائے غیر اخلاقی رویہ سے بد ظن کرنے میں مصروف ہے ۔سی پی او ملتان کی جانب سے چند منٹ کی تاخیر کے جرم میں دو نوجوان تھانیداروں کو ہتھکڑیاں لگوانے کے بعد پولیس لائن کے چکر لگائے جانے پر ایک کی جانب سے خود کشی کی کوشش کی گئی ۔ایس ایس پی احسن یونس نوجوان تھانیداروں کو ہتھکڑیاں لگوانے کے بعد تحکمانہ انداز میں آئی جی پنجاب بارے بھی مبینہ طور پر نازیبا الفاظ میں بڑھکیں مارتے رہے ۔

تفصیل کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے تھانہ کلچر کو عوام کیلئے موزوں بنانے کیلئے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پڑھے لکھے نوجوانوں کی بھرتی کاعمل شروع کر رکھاہے ۔سال 2014میں بھی پڑھے لکھے نوجوانوں کو سب انسپکٹرز بھرتی کیا گیا جنہیں عملی تربیت مکمل ہونے کے بعد تھانوں میں ایس ایچ او تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا گیا مگر پولیس بیورو کریسی نے اس منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں ،پڑھے لکھے تھانیداروں کو پولیس کلچر کی بہتری کیلئے استعمال کرنے کی بجائے غیر اخلاقی رویہ سے بدظن کرنے میں مصروف ہیں ۔اس کی ایک بڑی مثال سوموار کے روز سامنے آئی جب سی پی او ملتان احسن یونس نے اپنے آفس میں دو سب انسپکٹروں زوہیب اشفاق اور مہتاب حسین کو چند منٹ تاخیر سے پہنچنے کے” جرم “میں ہتھکڑیاں لگوا دیں اور پولیس لائن کاچکر لگوانے اور رات گئے تک پولیس لائن میں تحویل میں رکھا ۔اس دوران ایس ایس پی احسن یونس نے ایس ایچ او چہلیک بشیر ہراج کو طلب کر کے دونوں تھانے داروں کو حوالت میں بند کرنے کا حکم جاری کیا ۔تاہم ایس ایچ او بشیر ہراج نے معذرت خواہانہ انداز اپنایا تو انہوں نے تحکمانہ انداز میں گالیاں دینا شروع کر دیں اور آپے سے باہر ہوتے ہوئے آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کے حوالے سے بھی مبینہ طور پر نازیبا الفاظ میں بڑھکیں ماریں ۔بعد ازاں ایس ایچ او چہلیک بشیر ہراج کو شوکازنوٹس دیتے ہوئے ان کیخلاف کارروائی کا عندیہ دیا جبکہ سوموار اور منگل کی درمیانی شب دونوں انسپکٹروں کو گھر بھجوایا گیا ۔گھر پہنچ کر سب انسپکٹر زوہیب اشفاق نے اپنے گھر میں موجود لائسنسی پستول سے خود کشی کی کوشش کی ۔گھر کے افراد اور ان کے والد سابق ڈی ایس پی محمد اشفاق نے بمشکل قابو کیا اور ان کی ذہنی صدمہ کی کیفیت کو بہتر کیا ۔ذرائع کے مطابق دونوں نوجوان تھانیداروں نے اپنے چند منٹ تاخیر سے آنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے واضح بھی کیا کہ وہ ایس پی گلگشت علی مردان کھوسو کے آفس میں میٹنگ میں موجود ہونے کے باعث لیٹ ہوئے مگر ایس اسی پی احسن یونس نے انہیں برا بھلا کہہ کر انوکھی سزا دی ۔

ذرائع نے بتایا کہ منگل کی شام بھی دونوں تھانیداروں کو سی پی او احسن یونس نے طلب کر کے پولیس لائن میں جبری ڈیوٹی پر معمور رکھا ،جنہیں رات گئے تک گھر واپس نہیں جانے دیا گیا ۔سی پی او احسن یونس کے اس اقدام سے ضلعی پولیس کے نوجوان تھانیداروں میں تشویش پھیل چکی ہے ۔

مزید : ملتان