اورنج ٹرین ،پیدل چلنے والوں کیلئے خصوصی گزر گاہیں تعمیر کرنیکا فیصلہ

اورنج ٹرین ،پیدل چلنے والوں کیلئے خصوصی گزر گاہیں تعمیر کرنیکا فیصلہ

لاہور(جنرل رپورٹر) سٹیرنگ کمیٹی کے چیئرمین خواجہ احمد حسان نے بتایا ہے کہ پید ل چلنے والوں کی سہولت کے لئے دو ارب روپے کی لاگت سے اورنج لائن میٹر و ٹرین کے انار کلی سٹیشن کو میٹرو بس سروس (گرین لائن)کے ایم اے او کالج سٹیشن اور بوہڑ والا چوک نکلسن روڈ سٹیشن کو لاہور ریلوے سٹیشن سے منسلک کرنے کے لئے خصوصی راستے تعمیر کئے جائیں گے ۔ زیر زمین انار کلی سٹیشن کی تعمیر کے لئے کھدائی کا کام شروع کر دیا گیا ہے ۔ یہاں سے ایم اے او کالج تک جانے کا راستہ بھی زیر زمین ہی تعمیر کیا جائے گا جبکہ بوہڑ والا چوک سٹیشن سے ریلوے سٹیشن تک بالائے زمین راستہ تعمیر کیا جائے گا۔گزشتہ روز اورنج لائن منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کے دوران انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے پر کام کی رفتار تیز کرنے کے لئے چائنہ انجینئرنگ کنسلٹنس سے منصوبے کے مختلف حصوں کے ڈیزائنز کی جلد منظوری حاصل کرنے کے لئے چینی ماہرین کا لاہور میں تقرر کروانے کا انتظام کیا جائے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر منصوبے کا 60 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے ۔ڈیرہ گجراں سے چوبرجی تک پیکیج ون کا74 فیصد‘ چوبرجی سے علی ٹاؤن تک پیکیج ٹو کا 44.25فیصد ‘پیکیج تھری ڈپو کا 60.5فیصد جبکہ پیکیج فور سٹیبلینگ یارڈ کی تعمیر کا 58فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے ۔ڈیرہ گجراں سے میکلوڈ روڈ تک زمین سے 12میٹر بلند راستے کے لئے 670یوٹب گرڈرز نصب کئے جائیں گے جن میں سے 310پری کاسٹ کر لئے گئے ہیں جبکہ یہاں لگانے کے لئے تمام 341ٹرانزم بھی تیا ر کئے جا چکے ہیں ۔ چوبرجی سے علی ٹاؤن تک پیکیج ٹو کا تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا ہے ‘ پائلنگ ‘ پائل کیپس اور پیئرز کی تعمیر کا کام جاری ہے جبکہ اس حصے کے تمام بالائے زمین سٹیشنوں کی تعمیر کے لئے شٹرنگ جاری ہے۔اجلاس میں ایم این اے وحید عالم‘ ایم پی اے چودھری شہباز ‘ ڈپٹی میئرز چوہدری بلال اور مہر محمود‘چیف انجینئر ایل ڈی اے اسرار سعید‘ چیف انجینئر ٹیپا سیف الرحمن اور پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی ‘ نیسپاک‘ لیسکو‘پی ٹی سی ایل ‘سوئی گیس ‘ ریلوے‘ ٹریفک پولیس ‘سول ڈیفنس‘ریسکیو112 اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلی افسران کے علاوہ منصوبے کے چینی کنٹریکٹر سی آر نورنکو اور چائنہ انجینئر نک کنسلٹنس کے نمائندوں اور مقامی کنٹریکٹرز نے شرکت کی ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1