پروٹوکول اور احتجاجی مظاہروں کے باعث ٹریفک جام معمول ، وارڈنز ناکام ہوگئے

پروٹوکول اور احتجاجی مظاہروں کے باعث ٹریفک جام معمول ، وارڈنز ناکام ہوگئے

 لاہور(کرائم رپورٹر) مختلف اسباب و عوامل کے باعث لا ہور میں ٹریفک کا جا م ہو نا معمو ل بن گیا ہے ۔ گذشتہ روزلیسکو ملا زمین کے احتجا جی مظا ہر ے کی وجہ سے ڈیو س روڈ پر جبکہ راوی پل پر ڈمپر کے خرا ب ہو نے سے مصر ی شا ہ ایک مو ریہ پل ،ریلو ے سٹیشن اکبر چو ک اور داروغہ وا لا میں ٹر یفک حا دثے کی وجہ سے بد تر ین ٹر یفک جا م ہو گئی اور گھنٹو ں ٹر یفک کی روانی میں بہتری نہ آ سکی۔ شہر یو ں نے الزا م لگا یا ہے کہ ٹر یفک وا رڈن سا را دن ریو نیو اکھٹا کر نے میں مصرو ف رہتے ہیں جبکہ ٹر یفک میں پھنسے شہر ی سا ر ا دن سسٹم کو تنقید کا نشنا نہ بنا تے رہتے ہیں ۔ اکثر علاقوں میں ٹریفک کے جا م ہو نے کی وجہ سے بچے سکو لو ں سے لیٹ ہو جا تے ہیں ۔بعض علا قو ں میں گا ڑی سوارشہری کئی کئی گھنٹوں لائن میں کھڑے رہتے ہیں ،اب تو ٹریفک کے جام ہوجانے کے باعث مریض بھی بر وقت ہسپتا لو ں میں پہنچ نہیں پا تے ۔شہر میں چوبچہ انڈر پاس ،ملتان روڈ پر ترقیاتی کاموں اور اورنج لائن ٹرین کے منصوبے کی وجہ سے شہر میں ٹریفک ہر وقت جام رہتی ہے ۔لاہور میں کہیں پروٹوکول تو کہیں احتجاج اور مظاہروں نے ایسے رنگ پکڑے کہ آدھے شہر میں ٹریفک بلاک ہو کر رہ جاتی ہے ،گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، ایمبولینسز بھی پھنسی نظرآ تی ہیں ، شہری پریشان ہو کر حکومت کوکوستے رہتے ہیں۔احتجاج اور ٹریفک کے اضافی دباؤ کی وجہ سے ٹریفک کا جام ہونا معمول بنا ہوا ہے ۔مال روڈ پر آئے روز کوئی نہ کوئی احتجاج جاری رہتا ہے جس سے مال روڈ اور اس کی ملحقہ سڑکیں جام ہو کر رہ جاتی ہیں جس سے شہریوں کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ٹریفک اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ ٹریفک پولیس کو سگنل بند کرکے صرف ٹریفک کورواں دواں رکھنا پڑتا ہے ۔اس کے باوجود ٹریفک پولیس کامیاب نہیں ہوتی ۔ریلوے اسٹیشن اور راوی پار سے آنے والی سڑکیں تو ہر وقت لا قانونیت کے مناظر پیش کر رہی ہوتی ہیں ۔ان علاقوں میں ٹریفک اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ صبح سے لیکر رات گئے تک بھی بعض اوقات ان سڑکوں پر ٹریفک جام رہتی ہے ۔ گو جرا نوا لہ سے آنے وا لے گا ڑی سوارو ں کو لا ہو ٹو ل پلا زہ پر آنے کے دورا ن جو وقت درکا ر ہو تا ہے اس سے کہیں زیا دہ وقت انھیں راوی پل تک آنے میں لگ جا تا ہے ۔ علامہ اقبال روڈ گڑھی شاہو کے علاقہ میں سکولوں کی چھٹی کے اوقات کے دوران ٹریفک اس قدر جام ہو جاتی ہے کہ اس سڑک پر سائیکل سوار کا گزرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔اسی طرح ان اوقات میں شہر کے دیگر علاقوں میں بھی جن میں مغلپورہ ،شالیمار لنک روٖڈ ،جی ٹی روڈ ،شالیمار چوک ،کینال روڈ ،فیروز پور روڈ ،بند روڈ ،گلشن راوی ،داتا دربار ،سمن آباد ،چوبرجی ،لٹن روڈ ا ور گنگا رام ہسپتال کی سڑکیں شامل ہیں جہاں ٹریفک اس قدر زیادہ جام ہوتی ہے کہ گاڑی سواروں کو ان علاقوں سے گزرنے میں خاصا وقت لگتا ہے ۔ اب چوبچہ انڈر پاس کی تعمیر تک شہری جو ریلوے کراسنگ کے پار رہتے ہیں انہیں اب ایک خاص وقت تک دشواری سے گزرنا پڑے گا ۔ ڈی آئی جی ٹریفک لاہور کیپٹن (ر) سید احمد مبین نے کہا ہے کہ شہر میں دو مقامات پر احتجاجی ریلیوں کے باعث شہریوں کو ٹریفک کے شدید دباؤ کا سامنا رہا جہاں 3ایس پیز، 5ڈی ایس پیز اور 150سے زائد ٹریفک وارڈنز نے موقع پر پہنچ کر ٹریفک روانی کو یقینی بنایا اور متبادل راستہ دیا گیا ۔ ڈی آئی جی ٹریفک لاہور کیپٹن (ر) سید احمد مبین ٹریفک کے دباؤ کے دوران ٹریفک وارڈنز کی ڈیوٹی چیک کر نے مال روڈ خود پہنچ گئے اور ٹریفک بہاؤ کو خود مانیٹر کرتے رہے ۔ اسی طرح ڈیوس روڈپر ٹریفک روانی کی نگرانی ایس پی سٹی آصف صدیق نے کی جبکہ ڈیوٹی پر انچارج مصری شاہ سیکٹر اور 20اضافی ٹریفک وارڈنز بھی موجود تھے۔ایس پی صدر سردار آصف نہر پل جیل روڈ پر ٹریفک بہاؤ کو یقینی بناتے رہے ۔ڈی آئی جی ٹریفک نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سٹرک کے کنارے احتجاج کریں جس سے کسی دوسرے شہر ی کی حق تلفی نہ ہوسکے یا ٹریفک وارڈنز کو شہریوں کو سہولت دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے ۔

مزید : علاقائی