پاک افغان حکومتوں کو بہتر تعلقات کیلئے بہت کام کرنا ہوگا :راحیل شریف

پاک افغان حکومتوں کو بہتر تعلقات کیلئے بہت کام کرنا ہوگا :راحیل شریف

 ڈیووس(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے کہا ہے کہ بطور آرمی چیف 3سالہ دور میں بہت کچھ حاصل کیا لیکن کسی کے پاس جادو کی چھڑی نہیں جس سے پاکستان کے تمام مسائل یک دم حل کرلئے جائیں۔سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں معروف دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل نے سابق آرمی چیف جنرل (ر)راحیل شریف کے اعزاز میں عشائیہ دیا، اس موقع پر جنرل ((ر)راحیل شریف نے کہا کہ پاکستان عزت و وقار کے ساتھ اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ امن کا خواہاں ہے جب کہ پاکستان کو تینوں عالمی طاقتوں سے یکساں تعلقات رکھنے چا ہئیں اور یہی اس وقت ہورہا ہے اورپاکستان کے تمام عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور آرمی چیف 3 سالہ دور میں بہت کچھ حاصل کیا لیکن ملک میں کسی کے بھی پاس جادو کی چھڑی نہیں جس سے تمام مسائل یک دم حل کرلیے جائیں۔سابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اچھی اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھا جاسکتا ہے اور اسی سوچ نے مجھے چین، افغانستان اور خلیجی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے میں بہت مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ میرے 3سالہ دور میں افغانستان سے تعلقات میں بہتری آئی تھی، امید ہے نئے آرمی چیف کی جانب سے بھی اس پیش رفت کو آگے لے جایا جائیگا تاہم پاکستان اور افغانستان کی قیادت کو تعلقات بہتر بنانے کے لیے ابھی بہت کام کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مل کر دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی فضا کو بحال کرنا ہوگا جب کہ دونوں ممالک میں تعلقات کی بہتری کے لیے بہت ضروری ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کے لیے گیم چینجر ہے۔یہ منصوبہ ہر حال میں مکمل ہو گا۔

ڈیووس(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم نہیں تھا اور اسامہ کے حوالے سے پاکستان پر الزام لگانے والے غلط ہیں۔سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں سابق امریکی سفیرکا پاکستان کے سابق جنرل(ر)راحیل شریف کے اعزازمیں دیئے گئے عشائیے میں کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو اسامہ کی موجودگی کا علم نہیں تھا، اسامہ بن لادن کے حوالے سے پاکستان پرالزام لگانے والے غلط ہیں۔ایسے الزامات کے باعث پاکستان اورامریکا کے تعلقات کو بھی بہت نقصان پہنچا، پاکستان میں جاری سیاسی اصلاحات کو صبرکے ساتھ دیکھنا اور انتظار کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان سے ہمیں مثبت تعلق رکھنے ہوں گے جس سے دونوں ممالک کے درمیان بد اعتمادی کی فضا دور کیا جاسکتاہے۔

مزید : علاقائی