قبائلی علاقوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے مجوزہ سمری کو حتمی شکل دینے کا کام شروع

قبائلی علاقوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے مجوزہ سمری کو حتمی شکل دینے کا کام شروع

 اسلام آباد (آئی این پی) قبائلی علاقوں کے آئینی‘ سیاسی‘ معاشی اور سماجی حقوق کے تحفظ کیلئے مجوزہ سمری کو حتمی شکل دینے کا کام شروع کردیا گیا ہے‘ سمری میں اتحادیوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت اہم تبدیلیوں کا امکان ہے ‘ اس معاہدے کے مطابق قبائلی علاقوں میں قیام امن اور تعمیر و ترقی کو یقینی بنانے کے بعد فاٹا کی آئینی حیثیت پانچ سال کے بعد دوبارہ وسیع مشاورت کی جائے گی‘ فی الحال حکومتی اتحادی جماعت نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے سے متعلق حکومتی کمیٹی کی رپورٹ کی مخالفت کردی ہے اس مخالفت پر وفاقی کابینہ کی منظوری کے لئے نئی سمری کی تیاری اور اعلیٰ سطح پر اس بارے میں صلاح مشورہ شروع کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قبائلی عوام کے حقوق کیلئے حکومت اور اتحادی جماعت علماء اسلام (ف) میں جو معاہدہ طے پایا ہے اس پر تحریر کیا گیا ہے کہ آئینی حیثیت کے تعین کے لئے قبائلی عوام سے پانچ سال کے بعد وسیع تر مشاورت کی جائے گی یعنی وہ اس بات کی رائے دیں گے کہ وہ صوبہ خیبرپختونخوا میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا نیا صوبہ چاہتے ہیں یا وہ موجودہ حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت فاٹا کی موجودہ حیثیت کو پانچ سال تک برقرار رکھا جائے گا دیگر اصلاحات پر اس دوران عمل درآمد شروع ہوجائے گا جن میں قبائل میں عدالتی نظام متعارف کروایا جانا‘ بلدیاتی انتخابات ‘ آپریشن کے باعث ہجرت کرنے والے قبائلیوں کی آباد کاری ‘ قیام اور تعمیر و ترقی کے معاملات سرفہرست ہونگے۔ ذرائع دعویٰ کررہے ہیں کہ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے پانچ سال کے بعد ریفرنڈم کی طرز پر رائے لینے کا وسیع بندوبست کرنے کی اس نئی سمری کی پہلے مرحلے میں وزیراعظم نواز شریف سے منظوری لی جائے گی اور اتحادی مولانا فضل الرحمن کی ٹیم کے ساتھ اس بارے میں ہونے والے مذاکرات ے وزیراعظم کو آگاہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم کی طرف سے اس نئی سمری کی توثیق پر فاٹا اصلاحات کی منظوری کے لئے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کیا جائے گا جہاں وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات اکرم خان درانی بھی حکومت اور جے یو آئی (ف) کے درمیان فاٹا کی حیثیت کے بارے میں ہونے والے معاہدے کے پس منظر سے آگاہ کریں گے۔

قبائلی علاقوں

مزید : علاقائی