بڑے لوگوں کا احتساب کون کریگا۔۔۔؟

بڑے لوگوں کا احتساب کون کریگا۔۔۔؟
بڑے لوگوں کا احتساب کون کریگا۔۔۔؟

  

میرے سمیت بہت سے لوگوں کا خیال تھاکہ جنرل(ر) راحیل شریف کے جانے اور نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے آنے سے بہت کچھ بدل گیا ہے لوگ ایسا کیوں نہ سوچیں ،جب نئے آرمی چیف بہت سے تقررو تبادلے ایسے کریں گے جن کے بارے لوگ جگہ جگہ کہتے پھریں کہ اپنے ہی لوگ ہیں اور پھر وزیراعظم کے چہرے پر اچانک اطمینان اور مسکراہٹ آجائے تو پھر دیکھنے والے بہت سے اندازے لگاتے ہیں یہ اندازے صرف اندازے نہیں ان میں کافی حقیقت بھی ہے۔ راحیل شریف کے جانے کے بعد عسکری اور سیاسی قیادت کے مابین تناؤ کی کیفیت خاصی حد تک کم ہوئی ہے اگرچہ حکومتی حلقوں کی طرف سے تو دعویٰ کیا جاتا ہے کہ تناؤ نہ ماضی میں تھا اور نہ اب ہے اور نہ آئندہ کبھی ہو سکتا ہے لیکن رانا ثناء اللہ خان بھی عجیب و غریب شخصیت ہیں وہ سات پردوں میں چھپی باتوں اور حقیقتوں کو نکال کر چوراہے پر لے آتے ہیں اور پھر حکومتی ترجمانوں کو اس پر کئی کئی روز تک وضاحتیں دینی پڑتی ہیں۔ رانا ثناء اللہ خان نے پہلے تو آرمی کورٹس کی کارکردگی اور ان کے وجود پر سوال اٹھایا اور کہا کہ میں پہلے دن سے ان عدالتوں کے خلاف ہوں اور ویسے بھی آرمی کورٹس نے کون سی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے یہ بیان جاری کیا اور پھر اچانک کیا ہوا کہ انہوں نے 24 گھنٹے کے اندر اندر ایک مزید پریس کانفرنس کرڈالی جس میں وہ آرمی کورٹس کی کارکردگی کی تعریف کر رہے تھے اور آرمی کورٹس کے نتیجے میں عدلیہ کو ملنے والے ریلیف پر خوش اور پرجوش نظر آ رہے تھے ۔ اب اسی رانا ثناء اللہ نے مزید انکشافات کئے ہیں اور کہا ہے کہ جن قوتوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو راستے سے ہٹایا تھا وہی قوتیں نواز شریف کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں۔رانا ثناء اللہ کچھ کہے بغیر بہت کچھ کہہ گئے یہ سب کچھ کیا ہے اور یہ سب کچھ کیوں ہے یہ دو اہم ترین سوال ہیں جن کا جواب ایوان اقتدار میں ان حضرات کو بھی پتہ ہے جو صبح و شام کہتے ہیں کہ آرمی اور سول قیادت ایک پیج پر ہیں اگر ایسا ہی ہے تو پھر رانا ثناء اللہ کے بقول ان کے لیڈر کو خطرہ کس سے ہے کیونکہ زیڈ اے بھٹو کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق نے پھانسی پر لٹکایا تھا اگر رانا ثناء اللہ کا اشارہ آرمی کی طرف ہے تو آج کی آرمی قیادت اور حکومت کے درمیان تو مثالی تعلقات کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے اور پھر رانا ثناء اللہ خان کو ایسے خدشات کا اظہار کرنے کی کیا ضرورت ہے تمام معاملے کو اگر حالات و واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال کچھ یوں ابھرتی ہے۔ جنرل راحیل شریف کے جانے سے اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے آنے سے بظاہر حالات بہت تبدیل ہوئے ہیں لیکن ابھی بہت کچھ وہیں کا وہیں ہے ۔ اداروں کی سطح پر پالیسیاں افراد کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل نہیں ہوئیں ، دوسری طرف ن لیگ کی طرف بھی معاملات لگ بھگ اسی جگہ پر ہیں ۔ پہلے جو کام مشاہد اللہ خاں ، پرویز رشید ، خواجہ آصف وغیرہ کرتے تھے آج کل وہ کام رانا ثناء اللہ نے سنبھال لیا ہے۔ ایک طرف سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے خدشات جنم لے رہے ہیں تو دوسری جانب پانامہ کا ہنگامہ بڑھتا جا رہا ہے۔ فاضل ججوں کے ریمارکس میں تیزی کے ساتھ ساتھ ن لیگ اور پی ٹی آئی کے ترجمانوں کے مابین بیان بازی میں تلخی آتی جا رہی ہے۔ کرپشن اور پانامہ لیکس سے شروع ہونے والی کہانی ذاتیات تک پہنچ چکی ہے ۔ پی ٹی آئی اور ن لیگ سپریم کورٹ کے باہر اور سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی ایک دوسرے کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہی ہے۔ پانامہ لیکس کے فیصلے کا نتیجہ کیا نکلے گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ البتہ ن لیگ کی قیادت نے ابھی سے پانامہ لیکس کو بھی اندرونی اور بیرونی سازش کہنا شروع کر دیا ہے حالانکہ پانامہ لیکس کیس ایک ایسا ایشو ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوموٹو کہا جا سکتا ہے اگر گزشتہ چند برسوں کا جائزہ لیا جائے تو ملک میں کوئی ادارہ ایسا نظر نہیں آتا جو اس قابل ہو جو ملک میں ایک منظم ایلیٹ کا احتساب کر سکے۔یہ ایلیٹ اقتدار میں بھی ہے طاقت کا محور و مرکز بھی ہے اور مال و دولت پر قابض بھی ۔ عوام عملاً مایوس ہو چکے تھے کیونکہ جس طرح عوام نے عدلیہ ، نادرا ، ایف بی آر ، پارلیمنٹ ، ایف آئی اے ، الیکشن کمیشن اور نیب سمیت ملک کے تمام اداروں کو بے بس دیکھا تو عوام نے موجودہ حالات کو اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا تھا یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان دنیا کی ان چند ریاستوں میں سے ایک ہے

جہاں ریاستی اداروں کی نسبت افراد زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اب تو حالات یہ ہو گئے ہیں کہ کچھ افراد تو ریاست سے بھی بڑے ہو گئے ہیں اور پاکستان ان کے مقابلے چھوٹا ہوتا جا رہا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ کوئی ادارہ بھی ان کو نہ پکڑ پاتا ہے اور نہ ہی ایسے افراد کا احتساب ہو پاتا ہے کیونکہ جب ریاست چھوٹی اور افراد بڑے ہو جاتے ہیں تو پھر ادارے ایسے افراد یا مافیاز کے مرہون منت ہو جاتے ہیں۔ چند مخصوص افراد اور خاندانوں کے بڑے ہونے اور ریاست پاکستان کے چھوٹا ہونے کا آغاز کئی سال پہلے ہوا تھا نتیجتاً یہ لوگ بڑے ہوتے گئے اور آہستہ آہستہ مافیاز کی شکل اختیار کرتے چلے گئے اور ان کے مقابلے میں ریاست کمزور اور چھوٹی ہوتی چلی گئی اور یہ تبدیلی راتوں رات نہیں آئی اس کیلئے کئی دہائیوں تک کام کیا گیا ہے بلکہ خوفناک اور منظم پلاننگ کی گئی ہے اور یہ جو آج لوگ ریاست سے بھی بڑے ہوگئے ہیں یا اس غلط فہمی کا شکار ہیں یہ دراصل وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں چھوٹے لوگ تھے اور جو لوگ حقیقت میں بڑے لوگ تھے وہ آج چھوٹے اس لئے لگنے لگے ہیں کیونکہ انہوں نے لوٹ مار نہیں کی وہ بڑے گھروں سے چھوٹے گھروں میں چلے گئے ہیں اس لئے عوام اور سوسائٹی ان لوگوں کو گھروں اور دولت کے سائز کے اعتبار سے چھوٹا سمجھنے لگی ہے اور جو لوگ اپنی دو نمبری ، کرپشن کی بنیاد پر بڑے بڑے محل بنانے اور دولت کے انبار لگانے میں کامیاب ہو گئے ہیں وہ سوسائٹی میں معزز اور بڑے لوگ بن گئے ہیں لہٰذا سوسائٹی میں جہاں دوسرے شعبوں میں معاشرہ گراوٹ کا شکار ہے وہاں پر یہ ایک عجیب و غریب اور خوفناک تبدیلی آئی ہے کہ بڑے لوگ چھوٹے اور چھوٹے لوگ بڑے گھروں میں چلے گئے ہیں جس سے پوری سوسائٹی اور معاشرے کا بیلنس ہی خراب ہو کر رہ گیا ہے۔ان حالات میں ملک کا سب سے طاقتور ادارہ فوج تھی جو کچھ عرصہ سے عملاً فیصلہ کر چکی ہے کہ وہ اقتدار نہیں سنبھالے گی فوج اگر اقتدار سنبھالنے کیلئے بھی تیار نہیں ہے تو وہ احتساب کیسے کر سکتی ہے باقی کسی ادارے میں یہ سکت ہی نہیں ہے کہ وہ پاکستان کی منظم ایلیٹ اور ملک سے بڑے لوگوں کا احتساب کر سکے۔ عدلیہ پانامہ لیکس کے ایشو پر اگر کوئی بڑا فیصلہ کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو یہ پاکستان کی تاریخ کا انوکھا باب ہو گا لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں اس بات کی گارنٹی کون دے گا کہ یہ فیصلہ صرف ایک شخص تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ فیصلہ پاکستان میں حقیقی معنوں میں احتساب کی بنیاد فراہم کریگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ملک و قوم کی بدقسمتی ہو گی۔

مزید : کالم