اسرائیل اورفلسطین پرکسی بھی قسم کاحل مسلط نہیں کرسکتے، اوبامہ

اسرائیل اورفلسطین پرکسی بھی قسم کاحل مسلط نہیں کرسکتے، اوبامہ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ پیوٹن کے دور میں امریکا مخالف جذبات میں اضافہ ہوا،روس کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنا امریکا کے مفاد میں ہے،تنازع کا2ریاستی حل اسرائیل اورفلسطین کے مفادمیں ہے،کئی عشروں کے بعداسرائیل کیلیے انتباہ لازمی تھا،اسرائیل اورفلسطین پرکسی بھی قسم کاحل مسلط نہیں کرسکتے۔امریکی صدر باراک اوبامہ نے بطور صدر آخری پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور دنیا کے مفاد میں روس کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں،آزاد میڈیا ملک چلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے،میڈیا کو میرے احتساب کا حق ہے ،آزاد میڈیا ملک کے معاملات چلانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ نئے سائبر دور میں ہم شفافیت اور سیکیورٹی میں درست توازن کو یقینی بنائیں گے،کوشش کریں گے روسی صدر کے ساتھ کام کرتے رہیں ،پیوٹن کے دور میں امریکا مخالف جذبات میں اضافہ ہوا،روس کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنا امریکا کے مفاد میں ہے،میں نے نومنتخب صدر کو مفید مشورے دیے ہیں،ایٹمی ہتھیاروں میں کمی سے متعلق روس تعاون نہیں کررہا تھا،روس کی منفی سوچ نے مسائل اور کشیدگی کو جنم دیا ہے،ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں،کئی عشروں کے بعداسرائیل کیلیے انتباہ لازمی تھا،یہودی آبادکاری2ریاستی حل میں رکاوٹ ہے،ریاستی حل سے ہی اسرائیل جمہوری یہودی ریاست رہ سکتاہے،تنازع کا2ریاستی حل اسرائیل اورفلسطین کے مفادمیں ہے،تنازع کے حل کیلیے پلیٹ فارم فراہم کرسکتے ہیں،اسرائیل اورفلسطین پرکسی بھی قسم کاحل مسلط نہیں کرسکتے،مشرق وسطیٰ کی صورتحال اسرائیل کیلیے خطرناک ہے،مشرق وسطیٰ کے تنازع پرتشویش برقرارہے،سیاسی استحصال پرکیوباسے اختلافات ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے ٹوئٹ پردھیان نہیں دیتا،امریکابڑاملک ہے،بڑے ملک کوچھوٹے ملک پرقبضہ کرنازیب نہیں دیتا،مسائل کی پیچیدگیاں ڈونلڈٹرمپ کومیری پالیسیاں اپنانے پرمجبورکرسکتی ہیں،شکست پرڈیموکریٹس کوپالیسی پرنظرثانی کرناہوگی۔انہوں نے کہا ہے کہ بطور صدر میرا تجربہ یادگار ہے،صدارت کے دور میں بیوی اور بچوں نے میرا ساتھ دیا جن کا میں شکر گزار ہوں۔

مزید : صفحہ اول