وزیراعظم کسی فلیٹ اور آف شور کمپنی کے مالک نہیں ،وکیل ، تقاریر اور موقف میں تضاد پر وضاحت دیں :سپریم کورٹ

وزیراعظم کسی فلیٹ اور آف شور کمپنی کے مالک نہیں ،وکیل ، تقاریر اور موقف میں ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے کہاہے کہ وزیراعظم کسی فلیٹ اور آف شور کمپنی کے مالک نہیں، پانچ رکنی بینچ نے پانچویں روز بھی وزیر اعظم کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد پاناما کیس کی سماعت آج تک ملتوی کردی۔ سپریم کورٹ نے نوازشریف کی تقاریر اور عدالتی موقف میں تضاد پروضاحت مانگ لی،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ نوازشریف کی تقاریر اور عدالت میں موقف میں تضاد پر کل وضاحت دیں۔تفصیلات کے مطابق سماعت شروع ہوتے ہی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلق جماعت اسلامی کی درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے وزیر اعظم اور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دئیے ۔ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جماعت اسلامی کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ درخواست پر دلائل دینے کیلئے تیار ہیں جس پروکیل توفیق آصف نے جواب دیا کہ تحریری دلائل تیار ہیں اور ابھی دے سکتا ہوں جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان کے بعد آپ دلائل دیں ، چاہتے ہیں درخواست گزاروں کے دلائل مکمل ہوں اور پھر فریقین کو سنا جائے۔ وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز اپنے والد کے زیر کفالت نہیں ، وزیر اعظم نے مریم نواز کو تحائف بینکوں کے ذریعے دئیے اور وزیر اعظم پر ٹیکس چوری کا الزام غلط ہے۔انہوں نے موقف اپنایا کہ وزیر اعظم اور بچوں کے درمیان رقوم کا تبادلہ بینک کے ذریعے ہوا۔تمام بینک ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بھی موجود ہے ، درخواست گزاروں نے تسلیم کیا کہ تحائف بذریعہ بینک دئیے گئے،انہوں نے حسین نواز پر الزام لگایا گیا کہ ٹیکس نہیں دیتے۔ بینک کے علاوہ تحائف پر انکم ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ حسین نواز کا نیشنل ٹیکس نمبر بھی موجود ہے۔جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعظم کے وکیل سے استفسار کیا کہ بینک ریکارڈ کی تصدیق کیوں نہیں کرائی گئی ؟ آپ کو دستاویزات اپنے جواب کیساتھ جمع کرانی چاہئیں تھیں جس پر وکیل نے جواب دیا کہ عدالت چاہے تو بینکوں سے ریکارڈ کی تصدیق کروا سکتی ہے۔’’عدالت سے کچھ چھپانا نہیں چاہتے‘‘۔ تمام بینکوں سے سرٹیفکیٹ لینا مشکل عمل تھا جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ تصدیق کے بغیر دستاویزات قبول کر لیں تو دوسرے فریق کی دستاویزات بھی ماننا پڑیں گی۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ فریقین کیلئے پیمانہ ایک ہی ہو گا۔مخدوم علی خان نے موقف اپنایا کہ بینک ریکارڈ خفیہ رکھنا ہر شخص کا بنیادی حق ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت سے کچھ چھپانا چاہتے ہیں۔وزیراعظم کے ویلتھ اور انکم ٹیکس گوشوارے عدالت میں جمع ہیں ، وزیراعظم کے اکاؤنٹ سے 3لاکھ 10ہزار ڈالر مریم کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے اور تحائف کا ذکر وزیر اعظم کے گوشواروں میں بھی موجود ہے۔ الزام ہے کہ آمدن کو تحائف ظاہر کر کے ٹیکس چھپایا گیا ہے۔ تحائف اسی صورت آمدن تصور ہو گا جب وہ ٹیکس نمبر نہ رکھنے والے کو دئیے جائیں۔’’مانتا ہوں وزیراعظم نے تحائف لیے لیکن بینک کے ذریعے لئے گئے جس پر جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیاکہ بینکنگ دستایزات مصدقہ ہیں یا نہیں ؟ تو مخدوم علی خان نے جواب میں بتایا کہ اکاؤنٹ نمبر دئیے ہوئے ہیں بینک سے ری چیک کیا جا سکتا ہے۔ بینک تفصیلات مخفی رکھنے کا حق ہر ایک کو حاصل ہے۔ ’’وزیر اعظم نے عدالت سے کچھ نہیں چھپایا ‘‘۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ یادنہیں پڑتا 1.9ملین کا تحفہ شریف فیملی کے ٹیکس ریٹرن میں فائل ہو۔ ’’ہم دیکھنا چاہیں گے کہ 1.9ملین ڈالر بینک کے ذریعے آئے یا نہیں ‘‘۔وزیر اعظم کے وکیل نے جوا ب دیا کہ تحفہ آیا ہے یہ دوسرا فریق بھی تسلیم کرتا ہے لیکن اس پر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ وکیل کہتے ہیں حسین نواز ملک چھوڑ چکے تھے لہٰذا ٹیکس استثنیٰ حاصل نہیں۔مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ تحائف کی وصولی تسلیم کر تا ہوں اس لئے دستاویز کی ضرورت نہیں۔ عدالت کے طلب کرنے پر اکاؤنٹس کی تفصیل فراہم کر دیں گے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عام طور پر یہی دیکھا جا تا ہے کہ ٹیکس گوشوارے جمع ہوئے یا نہیں۔ حسین نواز نے یہ تحائف 2010ء میں دئیے ، جدہ سٹیل ملز 2005ء میں فروخت ہوئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ عزیزیہ سٹیل مل 2005ء میں فروخت ہو گئی تھی۔ کیاسٹیل ملز کے علاوہ حسین نواز کے اور بھی کاروبار تھے تو وزیر اعظم کے وکیل نے جواب دیا کہ حسین نواز کے سعودی عرب میں اور بھی کاروبار ہیں۔ حسین نواز کے وکیل یہاں موجود ہیں وہ وضاحت دیں گے۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ طویل عرصے ملک سے باہر رہنے پر این ٹی این کی حیثیت کیا ہوتی ہے ؟تو وزیر اعظم کے وکیل نے جواب دیا کہ انسان زندہ نہ رہے تو بھی این ٹی این برقرار رہتا ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ کیس کا ایک حصہ منی لانڈرنگ سے متعلق ہے، الزام ہے رقوم غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بھیجی گئیں۔’’رقوم کی منتقلی سے متعلق آپ کو تفصیلات دینا ہوں گی ‘‘۔ جس پر مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ پہلا سوال یہ ہے کیا پاکستان سے کوئی رقم باہر گئی ؟ کسی تکنیکی نقطے کے پیچھے چھپنے کی کوشش نہیں کرونگا۔ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس معاملے کی پہلے بھی تحقیقات ہو چکی ہیں ، تحقیقات میں بعض افراد کے نام بھی سامنے آئے۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ اسحاق ڈار کا اعترافی بیان بھی سامنے آیا تھا۔اعترافی بیان میں کئی لوگوں کے نام بھی تھے۔ تکینیکی بنیادوں پر منی لانڈرنگ والی تحقیقات مسترد ہوئیں۔ انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ نیب نے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی۔ وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وزیر اعظم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز پر وزیر اعظم کے زیر کفالت ہونے کا الزام لگایا گیا ، نوازشریف نے یہ الزام کبھی تسلیم نہیں کیا ، الزام ہے کہ مریم کو کاغذات نامزدگی میں وزیر اعظم کے زیر کفالت ظاہر کیا گیا ہے۔ زیر کفالت افراد میں وزیراعظم نے اپنا اور اہلیہ کا نام درج کیا ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم کے مخالف امیدوار نے کاغذات نامزدگی میں کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے اب ریفرنس دائر کیا ہے۔ زیر کفالت کے معاملے پر شاہد حامد بھی عدالت کی معاونت کریں گے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ ایک معاملے پر 2,2وکلاء کو کیسے سن سکتے ہیں۔ عام طور پر بلیک منی وائٹ کرنے کیلئے رقم ملک سے باہر بھجوائی جاتی ہے۔مخدوم علی خان نے موقف اپنایا کہ مریم نواز کا نام اس خانے میں لکھنے کا مقصد ہرگز یہ نہ تھا کہ وہ زیر کفالت ہیں جس پر جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ ٹیکس فارم میں ترمیم 2015ء میں ہوئی ،پاناما کیس کب سامنے آیا ؟جس پر وزیر اعظم کے وکیل نے جواب دیا کہ پاناما معا ملہ اپریل 2016ء میں سامنے آیا ، فارم میں ترمیم اس سے پہلے ہو چکی تھی۔ نوازشریف نے 2011ء میں مریم نواز کے نام زمین خریدی تھی جس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کیا یہ جائیداد بے نامی تو نہیں تھی؟ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مخدوم علی خان سے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں حسین نواز نے رقم والد کو تحفہ دی اور والد نے تحفے کی رقم سے بیٹی کو تحفہ دیا جبکہ بیٹی نے تحفے کی رقم سے والد کی جائیداد خریدی اور ایسے رقم والد کے اکاؤنٹ میں ڈالی گئی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم نے حسین نواز سے رقم لی تو مریم نواز کو کچھ حصہ کب دیا ؟ آپ کہنا چاہ رہے ہیں ٹیکس گوشوارے میں کالم نہیں تھا پھر بھی مریم کے نام زمین ظاہر کی۔ آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ وزیراعظم کی نیک نیتی ہے۔ہو سکتا ہے کالادھن ہو اور بیٹے نے والد کو رقم بھیجی باپ نے بیٹی کے نام زمین خریدی۔ہو سکتا ہے ایک طرف جائیداد خریدی جارہی ہو اور احتیاط بھی کی جا رہی ہو؟َ ممکن ہے مریم نواز نے والد کی جانب سے دی گئی رقم سے ہی جائیداد خریدی ہو۔’’ہو سکتا ہے یہ کالا دھن ہو‘‘۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے مخدوم علی خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فارسی نہیں بول رہے مالی سالوں کا ریکارڈ بتائیں۔ہم جانتے ہیں کہ آپ کا موقف کیا ہے۔ریکارڈ پر رقم کی منتقلی کی کوئی دستاویز نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زمین کی خریدادی کی تاریخیں اور بیٹے کے تحائف کی تاریخیں عام ہیں۔عدالت کو تمام تحائف سے متعلق تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ 4سال میں حسین نواز نے والد کو 52کروڑ روپے تحفہ دیا ، اس سے تاثر ملتا ہے کہ رقم گردش کر رہی ہے۔ ہم رقم کا سورس جاننا چاہتے ہیں۔ جاننا چاہتے ہیں اتنی بڑی رقم کہاں سے آرہی ہے؟ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں والدین بچوں کو پیسے دیتے ہیں مگر آپ کے کیس میں معاشرے سے مختلف ہو رہا ہے۔مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ حسین نواز کی جانب سے تمام تحائف کا ذکر گوشواروں میں موجود ہے اور حسین نواز نے 20کروڑ کی رقم 2012ء میں بھیجی۔ حسین نواز 12کروڑ 98لاکھ 2012ء میں گفٹ کیے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تحفے میں کوئی گھڑی نہیں دی گئی مسلسل رقم دی گئی۔ ہو سکتا ہے امیروں کے تحفے ایسے ہی ہوتے ہوں۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دئیے کہ کسی نہ کسی نے تو رقم کا جواب دینا ہے۔ریکارڈ کے مطابق آف شور کمپنیوں سے آمدن نہیں ہوئی ، ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا جس سے حقائق معلوم ہوں۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ کوئی فریق بھی نہیں چاہتا کہ سراغ ملے ، ہم کیا کر سکتے ہیں ؟ کیا وزیر اعظم نے کبھی کہا ہے کہ فلیٹ بچوں کے ہیں ؟ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ایشو بڑا ہے ممکن ہے کچھ وقت لگ جائے۔ جسٹس اعجا ز الاحسن نے وزیر اعظم کے وکیل سے استفسار کیا کہ حسین نواز نے صرف والد کو ہی کیوں تحائف دئیے ؟جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حتیٰ کہ شریف خاندان کی جانب سے نوازشریف ہی جوابدہ اور ذمہ دار ہیں۔مخدوم علی خان نے کہا کہ وزیراعظم کسی فلیٹ اور آف شور کمپنی کے مالک نہیں۔ وزیراعظم کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ۔

پاناماکیس

مزید : صفحہ اول