آئی جی آفس آنے والے سائلین نے پولیس کیخلاف شکایتوں کے انبار لگا دیئے

آئی جی آفس آنے والے سائلین نے پولیس کیخلاف شکایتوں کے انبار لگا دیئے

لاہور(بلال چوہدری)آئی جی آفس کے باہر آنے والوں نے پولیس کے خلاف شکایتوں کے انبار لگا دیئے ۔تھانہ کلچر ،پولیس کی زیادتیوں، مقدمات کے بروقت اندراج نہ ہونے ،تفتیش کے درست نہ ہونے اور پولیس کا رشوت کے بغیر کام نہ کرنے کا رونا روتے رہے ۔سب سے زیادہ درخواستیں آپریشن پولیس کے خلاف لیکر لوگ آئی جی آفس آئے ہوئے تھے ۔چند ایک آئی جی آفس کے اندر داخل ہو سکے جبکہ متعدد سائلین کو ان کے اصل شناختی کارڈ نہ ہونے کا بہانہ بنا کر واپس کر دیا گیا ۔روزنامہ پاکستان نے جب شہریوں کے مسائل کے حوالے سے آئی جی پولیس پنجاب کے دفتر کے باہر کا سروے کیا تو معلوم ہوا کہ درخواست گزاروں میں جہاں عام شہری موجود تھے وہاں پولیس افسران کے ستائے ہوئے ان کے اپنے ماتحت بھی موجود تھے۔ایک سابق کانسٹیبل علی حسین نے بتایا کہ وہ گجرات کا رہائشی ہے اور ایک سال قبل اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ڈیوٹی کے دوران تکلیف ہو گئی جس کی وجہ سے اس کو 21روز کی چھٹی کرنا پڑی ۔لیکن اسی بناء پر اس کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ۔اس کے پاس میڈیکل رپورٹ سمیت تمام کاغذات موجود ہیں لیکن اس کی فریاد پولیس کا کوئی افسر نہیں سن رہا اس نے متعلقہ ایس پی کو درخواست بھی دی لیکن اس کی شنوائی نہیں ہوئی اب وہ مجبوراًگجرات سے لاہور آئی جی آفس فریاد لیکر آیا ہے تاکہ اس کی نوکری کو بحال کیا جا سکے ۔اس نے الزام لگایا کہ گجرات میں ایس پی آفس اور بعد ازاں جو جس بھی اعلیٰ افسر کے دفتر گیا ہے وہاں عملہ کے اہلکار اس سے بحالی کے لئے مبینہ طور پر پیسے مانگتے ہیں لیکن وہ غریب آدمی ہے تمام جگہوں سے نا امید ہو کر وہ مجبورا آئی جی آفس لاہور آیا ہے لیکن تاحال اس کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔گوجرانوالہ سے آئے ہوئے شہری محمد الیاس گجر کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ پولیس اہلکار محمد یونس نے زیادتی کی ہے جو کہ اس کا ہمسایہ ہے ۔اس نے بتایا کہ ہماری دونوں کی بیویوں کی چندماہ قبل بچوں کے گلی میں کھیلنے پر لڑائی ہوئی جس پر محمد یونس نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اگلے روز پولیس بلوا کر اس کو تھانہ لے گئے اور تشدد کا نشانہ بنایا ۔معززین علاقہ نے مل کر اس کو رہا کروایا ۔اس حوالے سے وہ پولیس اہلکار کے خلاف درخواست لیکر آئی جی آفس آیا ہے کیونکہ کوئی اور افسر اس کی ایک نہیں سن رہے ہیں ۔اس نے بتایا کہ آئی آفس کے کمپلینٹ سیل میں اس نے درخواست جمع کر وا دی ہے امید ہے جلد ہی اس کی شنوائی ہو جائے گی۔شاہدرہ ٹاؤن کے رہائشی رانا محمد اقبال کا کہنا تھا کہ اس کے علاقہ میں کانسٹیبل ارشد،عمران اور رضا کار شکیل احمد نے اندھیر نگری مچا رکھی ہے ۔ان پولیس اہلکاروں اور رضا کار نے چند روز قبل اپنے نامعلوم مسلح افراد کے ساتھ سول لباس میں ان پر گھر پر دھاوا بول دیا اور گھر میں گھس کر 3گھنٹے تک تلاشی لیتے رہے اور خواتین کے ساتھ بد تمیزی کرتے رہے،پولیس اہلکاروں نے 4لاکھ کے قریب نقدی اور 5تولہ زیور چوری کر لئے اوربعد ازاں اس کی بیٹی اور بہو کو لیکر تھانہ چلے گئے ۔جب ہم ان کو چھڑ وانے وہاں پہنچے تو کانسٹیبل عمران نے مبینہ طور پر 50ہزار کی رقم لیکر ان کی خواتین کو رہا کیا اور مجھ سمیت میرے 14سالہ بیٹے محمد ثاقب علی کے خلاف دفعہ 9سی کے تحت 1850گرام چرس کا مقدمہ نمبر 33\2017درج کر دیا ۔انہوں نے بتایا کہ خواتین کی جانب سے احتجاج کرنے پر اگلے روز ان کے خلاف بھی سڑک بلاک کرنے کا مقدمہ درج کر دیا گیا ۔اس نا انصافی کے خلاف وہ آئی جی آفس میں درخواست لیکر آئے ہیں کہ ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات کو ختم کر کے ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور ان کی رقوم انہیں واپس کروائی جائیں ۔جبکہ موقع پر آئے ہوئے شاہدرہ ٹاؤن کے پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ مقدمہ بلکل درست درج کیا گیا ہے ۔ملزمان منشیات فروش ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی گئی ہے۔

مزید : صفحہ اول