برطانیہ کا جون 2017ء تک آف شور کمپنیوں سے متعلق قانون سازی کرنے پر غور

برطانیہ کا جون 2017ء تک آف شور کمپنیوں سے متعلق قانون سازی کرنے پر غور

اسلام آباد(نعیم مصطفےٰ سے) برطانیہ میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جس کے تحت برطانیہ میں کاروبار کرنے والی آف شور کمپنیوں کو پابند کیا جا سکے کہ وہ اپنے حقیقی مالکان کے ناموں سے حکومت کو آگاہ کرے ۔تاہم برطانوی حکومت جون2017ء تک آف شور کمپنیوں کے حوالے سے قانون سازی کرنے پر غور کر رہی ہے جس کے ذریعے آف شور کمپنیوں یا انہیں رجسٹرڈ کرانے والی لاء فارموں کو پابند بنایا جائے گا کہ کمپنیوں کے حقیقی مالکان کے بارے میں برطانوی حکومت معلومات لینے کی مجاز بن سکے پاکستان میں پانامہ لیکس کیس کی سماعت کے حوالے سے برطانوی آئین اور قانون کے ممتاز ماہرین نے’’ پاکستان ‘‘کو بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے زیر اہتمام میلسن اور میسکول وغیرہ جن کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے دوران سماعت بحث جاری ہے وہ کمپنیاں برطانیہ میں رجسٹرڈ نہیں تاہم برطانیہ میں کاروبار ضرور کر رہی ہیں لیکن اگر پاکستانی عدلیہ یا حکومت برطانیہ سے ان کمپنیوں کے حقیقی مالکان کے بارے میں معلومات لینا چاہے گی تو برطانوی حکومت کے لئے معلومات کی فراہمی ناممکن ہو گی کیونکہ برطانوی قانون میں ایسی کوئی شق ہی نہیں جس کے ذریعے وہاں کی حکومت کمپنی مالکان کی تفصیلات حاصل کر سکے برطانیہ میں یہ کمپنیاں تو بیئرر سرٹیفکیٹس کی طرز پر کاروبار کر رہی ہیں اور جن فرموں کے ذریعے ان کی رجسٹریشن کروائی گئی وہ بھی اس امر کی پابند نہیں کہ برطانوی حکومت کو آف شور کمپنیوں کے اصل مالکان کی تفصیلات فراہم کرے ۔آئینی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم نے پانامہ لیکس منظر عام پر آنے کے بعد نئی قانون سازی کا اعلان کیا ہے جس میں برطانیہ میں کاروبار کرنے والی ایسی کمپنیوں کو تمام تفصیلات فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے گا جن کے مالکان غیر ملکی ہیں ۔جن کمپنیوں کے مالکان پاکستانی ہیں اور وہ برطانیہ میں کاروبار میں مصروف ہیں ان کی کسی قسم کی دستاویزات برطانوی حکومت کے پاس موجود نہیں ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں پانامہ کیس میں ان آف شور کمپنیوں کے حقیقی مالکان کی تفصیلات میسر نہیں ہو سکیں گی اور کیس کے فیصلے میں دشواری پیش آ سکتی ہیں ۔

مزید : صفحہ اول