کالعدم لشکر جھنگوی کا امیر آصف چھوٹو دہشتگردی کی 200سے زائد وارداتوں میں ملوث تھا

کالعدم لشکر جھنگوی کا امیر آصف چھوٹو دہشتگردی کی 200سے زائد وارداتوں میں ملوث ...

 لا ہور (اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے)شیخوپورہ بائی پاس کے قریب انسداد دہشت گردی فورس کے ساتھ مبینہ مقابلے میں مارا جانے والا خطرنا ک ترین دہشت گرد آصف چھوٹو کے متعلق حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب شیخوپورہ بائی پاس کے نزدیک کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپار ٹمنٹ(سی ٹی ڈی)کے ساتھ ہونے والے مبینہ مقابلے میں اپنے 3ساتھیوں کے ہمراہ مارے جانے والا 30لاکھ روپے سر کی قیمت والا ملک کا مطلوب ترین دہشت گرد اور کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا سربراہ آصف چھوٹو پنجاب کے سرائیکی بیلٹ میں واقع دائرہ دین پناہ مظفر گڑھ کا رہائشی تھا۔تقریبا 20سال قبل آصف چھوٹو نے کالعدم تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں حصہ لینے کے بعد اپنے آبائی علاقے کو چھوڑ کر کراچی میں رہائش اختیار کر لی ،جہاں سے وہ مختلف شہروں میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے کے بعد دوبارہ کراچی بحفاظت واپس چلا جاتا تھا۔ملزم آصف چھوٹو ماضی کے بدنام زمانہ دہشت گرد اور حیدر آباد جیل میں قید اکرم لاہوری کا بھی قریبی ساتھی بتایا جاتا ہے۔آصف چھوٹو کے کھاتے میں پورے ملک میں 200سے زائد افراد کے قتل کے مقدمات تھے جبکہ ماضی میں آصف چھوٹو پنجاب اور سندھ کی مختلف جیلوں میں 7سال تک قید بھی رہا لیکن 2012ء میں ضمانت پر لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہونے کے بعد وہ پراسرار طور پر لاپتا ہو گیا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد آصف چھوٹو ایک مرتبہ پھر ملک کے مختلف حصوں میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کے واقعات میں ملوث ہو گیا ،جبکہ کالعدم تنظیم کے سابق سربراہ ملک محمد اسحق کی16ساتھیوں سمیت مظفر گڑھ میں سی ٹی ڈی کے ساتھ مقابلے میں ہلاکت کے بعد آصف چھوٹوکو کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔کراچی میں مشہور زمانہ دہشت گرد عطا الرحمن عرف نعیم بخاری جو اس سے قبل کالعدم لشکر جھنگوی کا سربراہ بتایا جاتا ہے کے ساتھ بھی آصف چھوٹو نے مل کر دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں حصہ لیا تاہم بعد میں ان دونوں کے درمیان اختلافات کی بنیاد پرلشکر جھنگوی 2دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ،ایک دھڑے کی قیادت نعیم بخاری کرتا رہا جبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت آصف چھوٹو کے پاس رہی ،لیکن کچھ عرصہ بعد کراچی میں سیکیورٹی اداروں نے ایک مقابلے میں نعیم بخاری کو ’’پار ‘‘ کیا تو نعیم بخاری کادھڑا بھی آصف چھوٹو کے ساتھ مل گیا تھا ،جس کے بعد آصف چھوٹو نے کئی فرقہ وارانہ قتل و غارت کی کئی بڑی وارداتیں بھی سرانجام دیں۔آصف چھوٹو پر مومن پورہ قبرستان لاہور، ملتان امام بارگاہ میں حملہ ، روالپنڈی میں ایرانی کیڈٹس کو ہلاک کرنے ، اکتوبر 2004 میں سیالکوٹ میں امام بارگاہ پر حملہ جس میں 30 افراد ہلاک ہوئے ،اسلام آباد میں بری امام کے مزار پر ہونے والے خود کش حملہ ،کراچی میں امام بارگاہ پر بم حملہ ، کراچی میں ہی دو مختلف فرقہ وارانہ حملے جن میں 40 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ،اس حملے میں بھی آصف چھوٹو کا ہی نام لیا گیا تھا۔علامہ طالب جوہری کے بھتیجے ابن حسن، امام بارگاہ اورنگی کے متولی شمیم حیدر، سی آئی ڈی کے ملازم عبدالعلیم، کراچی میں بس حملے سمیت متعدد امام بارگاہوں پر خودکش حملے بھی آصف چھوٹو نے ہی کروائے تھے۔ مذکورہ دہشت گرد اورکزئی ایجنسی میں بیٹھ کر کراچی سمیت دیگر شہروں کی اہم شخصیات سے بھتہ بھی وصول کرتا رہا۔ آصف چھوٹو خودکش حملہ آوروں اور بارودی مواد تیار کرنے کا بھی ماہر تھا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے آصف چھوٹو کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔ وہ سات سال جیل میں بھی رہا اور 2012 میں ضمانت پر رہا ہونے کے بعد آصف چھوٹو روپوش ہو گیا تھا جو د و روز قبل رات اپنے دیگر ساتھیوں شاکر اللہ اور نورالعین کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا تھا۔آصف چھوٹو کو 2005 میں صادق آباد کے علاقے شکریال سے ساتھیوں سمیت گرفتار ہوا اور سات سال تک مختلف جیلوں میں قید رہا۔یاد رہے کہ پاکستان میں مبینہ طور پر پہلی خاتون خود کش حملہ آور بہنیں عارفہ اور صبا جو بعد میں گرفتار ہو گئیں تھیں کہ بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ ان دونوں بہنوں کو آصف چھوٹو نے ہی شدت پسندی کی طرف مائل کیا اور بعد میں ان میں سے صبا کے ساتھ شادی بھی کر لی تھی۔

آصف چھوٹو

مزید : صفحہ اول