شیخ زید ہسپتال کی انتظامیہ نے 20ہزار روپے ادانہ کرنے پر لاش روک لی

شیخ زید ہسپتال کی انتظامیہ نے 20ہزار روپے ادانہ کرنے پر لاش روک لی

لاہور(رپورٹ،محمد یونس باٹھ ،بلال چوہدری)شیخ زید ہسپتال کی انتظامیہ نے ہسپتال میں 10 روزسے داخل 55سالہ محمد منظور کی ادویات کی 20ہزار روپے ادائیگی نہ کرنے پر اس کی لاش روک لی،متاثرین منت سماجت کرتے رہے کہ وہ اب تک اڑھائی لاکھ کے قریب ادائیگی کر چکے ہیں اب ان کے پاس تدفین کے لئے پیسے نہیں وہ رقم کہاں سے دیں مگر ہسپتال کی انتظامیہ نے ایک نہ سنی اور انہیں دھکے مار کر وارڈ سے باہر نکال دیا ۔متاثرہ خاندان آہ و پکار کرتا رہا جبکہ متوفی کے بچے اور بیوہ لاش سے لپٹ کر روتے رہے ہسپتال کی انتظامیہ کو ان پر بھی ترس نہ آیا اور انہیں بھی ڈاکٹروں نے زبر دستی باہر نکال دیا ۔ہسپتال کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر اشتر زیدی نے اس بارے میں موقف اختیار کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کر سکتا یہ ادارے کے قوانین ہیں جو واجبات ہیں وہ تو ادا کرنے پڑیں گے۔متاثرہ خاندان نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ 10روز سے شیخ زید ہسپتال کی ایمرجنسی میں زیر علاج مریض محنت کش مزدور داخلے کے بعد ہی بیہوشی کی حالت میں ہسپتال میں موجود تھا جو کہ دو روز سے اب کومہ میں تھا جس کے لواحقین نے ایک روز قبل ڈاکٹروں کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ مفت فراہم کرنے کا دعوی کیا جاتا ہے مگر 9روز کے دوران ٹیسٹوں اور دیگر ادویات اور آئی سی یو کی فیس کے نام پر 2لاکھ 30ہزار حاصل کر لئے گئے مگر ابھی تک بھی مریض کو ہوش نہیں آیا ۔علاج معالجہ کے پیسے سود پر قرض لیکر ادا کئے ۔ڈاکٹر مزید پیسے مانگ رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ بتائیں کہ ہم کہاں جائیں۔ کڈنی آئی سی یو میں زیر علاج محنت کش منظور احمد کے لواحقین بیٹے دانش منظور ،بھائی خالد حسین، بھانجے کاشف عباس،رشتہ داررفیق خان ،محمد حنیف ،عاطف خان ،علی عباس ،آصف عباس نے ہسپتال سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ10روز قبل اپنے محنت کش باپ اور بھائی منظور احمد کو گردوں میں درد کے باعث شیخ زید ہسپتال کی ایمرجنسی میں لائے جہاں داکٹروں نے غلط تشخیص کر کے انہیں لا تعداد درد اور بیہوشی کے انجکشن لگائے جس سے منظور کے گردے فیل ہو گئے تو اسے کڈنی آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا جہاں10روز میں ان پراڑھائی لاکھ روپے خرچ آیا ۔آئی سی یو ،ٹیسٹوں اور میڈیسن کی فیس وصول کی جاتی رہی۔کومہ میں فوت ہو جانے والے مریض منظور کے بیٹے دانش نے کہا کہ اس کا باپ بے روز گار تھا وہ خود 12ہزار ماہوار پر جوتوں کی دکان پر سیلز مین کا کام کرتا ہے ۔اب تک ایک لاکھ 70ہزار روپے سود پر قرض لیکر باپ کے علاج معالجہ پر خرچ کئے اب کوئی سود پر پیسے نہیں دیتا ۔ہم نے ہسپتال کی ا نتظامیہ سے کہا کہ ہمارے پاس اب رقم نہیں ہے اگر ہمارا مریض ٹھیک نہیں ہے اور ہوش میں بھی نہیں آ رہا تو آپ ہم سے مزید پیسے خرچ نہ کروائیں ۔مگر ڈاکٹروں نے ایک نہ سنی اور انہوں نے پیسے نہ دینے پر مریض کو چیک کرنا چھوڑ دیا اور کہنے لگے یہاں مریض فری ٹھیک نہیں ہوتے ڈاکٹروں کی عدم دلچسپی کے باعث ان کا پیارا فوت ہو گیا ہے ۔جس پر ڈاکٹروں نے 20ہزار ایک سادہ کاغذ پر لکھ کر پرچی ان کے ہاتھ میں دے دی کہ لاش اٹھانے سے قبل یہ پیسے ادا کرو ہم فوتگی کی وجہ سے پہلے ہی پریشان اور غم زدہ ہیں لیکن ڈاکٹروں کو ہم پر ترس نہیں آیا ہم رو رہے تھے اور ڈاکٹر ہمیں کہہ رہے تھے کہ پیسے ادا کر و اور لاش لیجاؤ ۔ڈاکٹر اور ہسپتال کی انتظامیہ لاش لیجانے کے لئے مزید20ہزار روپے فیس مانگ رہی ہے پیسے کہاں سے دیں ۔ڈاکٹر اور ہسپتال انتظامیہ کہتی ہے کہ فیس اور دیگر اخراجات ادا نہیں کر سکتے تھے تو باپ کویہاں کیوں لائے تھے ۔وزیر اعلیٰ بتائیں کہ ہم اپنے باپ کی لاش کو کیسے لیکر جائیں ایک باپ ڈاکٹروں کی کوتاہی سے گردوں کے فیل ہونے کے عارضہ میں مبتلا ہو گیا اب وہاں اس کے ڈائلسز بند کر کے اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے ۔اگر ہمارے باپ کی زندگی کا انہیں معلوم نہیں تھا تو ہم سے اتنی رقم کیوں خرچ کروائی گئی۔خادم اعلیٰ نوٹس لیں۔ اس حوالے سے شیخ زید ہسپتال کے بیہوشی کے ڈاکٹر اور میڈیکل افسر عمیر جس نے 20ہزار روپے کی پرچی دیکر لاش اٹھانے کا کہا سے بات کی گئی تو اس نے بتایا کہ اس وارڈ کے پروفیسر ڈاکٹر شوکت شاہ تھے انہوں نے مریض کے لواحقین کو علاج معالجہ کے ذریعے بچ جانے کی یقین دہانی کروائی تھی اب یہ متاثرہ خاندان پچھلے دو دن سے پیسے خرچنے سے لیت و لعل سے کام لے رہے تھے جس پر ہم نے مریض کو وینٹی لیٹر سے اتارنے سے قبل انہیں لکھ کر دینے کو کہا مگر متاثرہ خاندان نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا جب ان سے لاش کے لئے مانگے جانے والے پیسوں کی بات کی گئی تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو اکاؤنٹ کا کام ہے انہیں پیسے چھوڑ دینا میرے بس کی بات نہیں ۔ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر اشترزیدی سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں کچھ نہیں کر سکتا یہ ادارے کے قوانین ہیں جو واجبات ہیں وہ تو ادا کرنے پڑیں گے۔دوسری طرفمتوفی محمد منظور کے بیٹے دانش نے تھانہ مسلم ٹاؤن میں ہسپتال انتظامیہ کے خلاف درخواست دے دی ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے جان بوجھ کر نہ صرف ان سے مختلف ٹیسٹوں کی آڑ میں پیسے بٹورے ہیں بلکہ انہوں نے متوفی کو وینٹی لیٹر پر سے بغیر لواحقین کی اجازت کے اتار کر اس کو قتل کیا ہے ۔اور بعد ازاں لاش کے بدلے 20ہزار کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔پولیس نے درخواست موصول ہونے پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

مزید : صفحہ اول