مسلمان ووٹر ناراض نوٹ بندی کے منفی اثرات ، بی جے پی کے ریاستی انتخاب نہیں جیت سکے گی

مسلمان ووٹر ناراض نوٹ بندی کے منفی اثرات ، بی جے پی کے ریاستی انتخاب نہیں جیت ...

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

 بھارت میں نریندر مودی کی حکومت اپنی ہر دلعزیزی کے زعم میں حماقت پر حماقت اور غلطی پر غلطی کرتی چلی جا رہی ہے۔ اس دوران اسی برس پانچ ریاستوں میں ریاستی انتخابات ہونے والے ہیں۔ حزب اختلاف کانگرس نے بدھ کے روز ملک بھر میں بڑے نوٹ بند کرنے کے خلاف یوم احتجاج منایا، پہلے ہی کہا یہ جا رہا تھا کہ یو پی کے انتخابات پر نوٹ بندی کا فیصلہ اثر ڈالے گا اور یہاں سے الیکشن جیتنے کی مودی کی خواہش پوری نہیں ہوسکے گی، یہ ریاست گنجان آبادی کی ریاست ہے اور اس کی آبادی پاکستان کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ اب مودی نے ایک اور حماقت یہ کی ہے کہ ریاستی اسمبلی کے الیکشن کے لئے کسی ایک مسلمان کو بھی بی جے پی کا ٹکٹ نہیں دیا حالانکہ 23 کروڑ آبادی کی اس ریاست میں مسلمان ووٹروں کے ووٹ کی اہمیت ہے اور جس جماعت کے حق میں مسلمان ووٹ ڈالتے ہیں عموماً وہی جیت جاتی ہے لیکن بی جے پی اس الیکشن میں خالصتاً ہندو جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ جس کا خمیازہ اسے الیکشن میں بھگتنا پڑے گا۔

جہاں تک نوٹ بندی کا تعلق ہے اس فیصلے کے منفی اثرات اب تک محسوس کئے جا رہے ہیں۔ پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں کو بند کرکے دو ہزار روپے کا جو نوٹ جاری کیا گیا ہے، سادہ لوح عوام کو لوٹنے کے لئے نوسر باز فوری طور پر میدان میں آگئے اور انہوں نے فوٹو کاپی کئے ہوئے جعلی نوٹ چلانے شروع کر دئیے۔ لوگوں نے چونکہ یہ نوٹ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، اس لئے وہ جعلی نوٹ کوہی اصلی سمجھے اور یوں غریب لوگ نوسر بازوں کے ہاتھوں لٹنے لگے۔ 8 نومبر کو وزیر اعظم مودی نے جس طرح اچانک نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا تھا اس کے پیچھے کوئی منصوبہ نہیں تھا، بس کالے دھن کو سامنے لانے کا ایک موہوم سا تصور تھا، اس لئے نوٹ بند کرنے کے ساتھ ہی جب عملی مشکلات سامنے آئیں تو ہر روز وضاحت کے لئے نئے سے نئے نوٹیفکیشن جاری ہونے لگے۔ 8 نومبر کے بعد اب تک 130 ایسے وضاحتی نوٹیفکیشن جاری ہوچکے ہیں جن میں نوٹوں کی تبدیلی کے حوالے سے کسی نہ کسی بات کی وضاحت ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نوٹ بندی کے اعلان کا بی جے پی کے بعض حلقوں کو پہلے سے علم تھا چنانچہ وہ نوٹ بند ہونے سے پہلے ہی انتظامات کرچکے تھے، پھر یہ بھی ہوا کہ بی جے پی کے لوگوں نے 40 فیصد کمیشن پر لوگوں سے نوٹ خرید لئے اور اس رقم کو پارٹی فنڈ ظاہر کرکے بینکوں سے تبدیل کرالیا، عام لوگوں کی حالت یہ تھی کہ انہیں گھنٹوں قطاروں میں لگ کر خجل خواری کا سامنا کرنا پڑا۔ بیرونی دنیا جو بھارتی فلموں کی چکاچوند سے متاثر ہے یہ سمجھ رہی تھی کہ ’’شائننگ انڈیا‘‘ کا یہی اصلی چہرہ ہے لیکن نوٹوں کی بندش سے پتہ چلا کہ ایک انڈیا وہ بھی ہے جہاں کروڑوں کی تعداد میں میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس اور گندے ماحول میں رہنے والے فاقہ مست لوگ رہتے ہیں۔ ان قطاروں میں کھڑے ہوئے کم از کم ڈیڑھ سو لوگ کھڑے کھڑے انتقال کرگئے، یہ وہ لوگ تھے جو صبح ہی صبح بھوکے پیاسے آکر بینکوں کے باہر قطاروں میں کھڑے ہو جاتے تھے کہ انہیں نوٹ بدلوانے کا موقع مل جائیگا، کئی کئی گھنٹے کھڑے رہنے کے بعد انہیں مایوسی نے گھیر لیا تو ان کے غمزدہ دل نے ساتھ چھوڑ دیا، نوٹ بند ہونے سے تھوڑی دیر پہلے تک جو لوگ لکھ پتی تھے ان کے پاس گاڑی میں پٹرول ڈلوانے کے پیسے نہیں تھے، اس کا حل یہ نکالا گیا کہ پٹرول پمپوں کو منسوخ شدہ نوٹ وصول کرنے کی اجازت دی گئی۔ مودی کا یہ بھی خیال تھا کہ کشمیر میں جو تحریک آزادی جاری ہے اسے باہر سے فنڈز مل رہے ہیں اور جونہی نوٹ بند ہوں گے یہ تحریک بھی دم توڑ دے گی لیکن مودی کو یہ دیکھ دیکھ کر مایوسی ہو رہی ہے کہ نوٹ تو بند ہوگئے لیکن تحریک پہلے کی طرح توانا ہے اور اس پر کوئی اثر نہیں پڑا پھر مودی نے ایک اور خواب دیکھا کہ پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر اسے تنہا کر دیا جائے لیکن یہ سودا دنیا میں کسی ملک نے نہیں خریدا، گوا میں ہونے والی برکس کانفرنس میں مودی نے پاکستان پر دہشت گردی کا لیبل لگانے کی کوشش کی تو انہیں ناکامی ہوئی، یہی حال امرتسرکی کانفرنس میں ہوا جہاں انہوں نے اپنے دیرینہ دوست روس کے نمائندے کو بھی تضحیک کا نشانہ بنانے کی کوشش کی اور کہا پرانا دوست نئے دوست سے بہتر ہوتا ہے ان کا اشارہ روس کے پاکستان کے ساتھ بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کی طرف انہی دنوں روس نے پاکستان کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں بھی کی تھیں، اس حوالے سے روسی مندوب نے کھل کر کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے وہ دہشت گردی کیسے کراسکتا ہے، مودی جس پاکستان کو تنہا کرنے چلے تھے اس کے وزیراعظم سے ڈیووس میں ملاقاتیں کرنے والے عالمی رہنماؤں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ جن میں بل گیٹس جیسے لوگ شامل ہیں، جن کی مصروفیات کا شیڈول حکومتی سربراہوں سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

عالمی بینک نے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں پاکستان کی شرح نمو میں اضافہ کرکے 5.2 فیصد کر دیا گیا ہے۔ رواں مالی سال کی ترقی کی شرح بڑھا دی ہے جبکہ بھارت کے بارے میں تخمینہ یہ ہے کہ اس کی شرح نمو میں ایک سے ڈیڑھ فیصد تک کمی ہوجائے گی۔ یہ بات دنیا بھر کے ماہرین کہہ رہے ہیں، نوٹ بند ہوئے 70 دن گزر گئے، لیکن بحران ابھی تک نہیں ٹلا اس دوران یو پی اور اتر کھنڈ میں الیکشن ہونے والے ہیں، یو پی میں 10 فروری کو الیکشن ہوں گے اور کچھ بعید نہیں کہ ستائے ہوئے عوام سارا غصہ ریاستی الیکشن میں اتار دیں، مسلمان پہلے ہی مودی کی عصبیت کے ہاتھوں نکونک ہیں، اس لئے بی جے پی کے لئے اس سب سے بڑی ریاست کا انتخاب جیتنا ممکن نظر نہیں آتا۔

یو پی

مزید : تجزیہ