پنجاب میں، بلاول کی پہلی رونمائی، آج جلوس کی قیادت کریں گے

پنجاب میں، بلاول کی پہلی رونمائی، آج جلوس کی قیادت کریں گے

تجزیہ:چودھری خادم حسین

سیاست پر پاناما لیکس حاوی ہے، سپریم کورٹ کے باہر الفاظ کی جنگ جاری ہے، اس پر اب تبصرہ درست نہیں، جو حضرات کررہے ہیں یہ انہی کو مبارک، آج تو اہم بات لاہور اور مرکزی پنجاب کے لئے بلاول بھٹو زرداری کی پہلی عوامی رونمائی ہے آج(جمعرات) وہ لاہور سے فیصل آباد تک ریلی یا جلوس کی قیادت کررہے ہیں، جس کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں گزشتہ روز سے خصوصی طور پر یہ ابتدا زیر بحث ہے اور سوال کیا جارہا ہے کہ کیا پیپلز پارٹی لوگوں کو باہر نکالنے اور جلوس میں شرکت کے لئے آمادہ کر سکے گی، یہ قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن اور مصطفی نواز کھوکھر کے لئے بھی غور کا مقام ہے کہ بنیادی ذمہ داری ان کی ہے، قمر زمان کائرہ اور دیگر عہدیداروں نے اپنے طور پر محنت تو کی ہے تاہم اس سلسلے میں جو ملاقاتیں اور میٹنگز کی گئیں وہ ان پرانے حضرات یا سابقہ عہدیداروں سے ہی ہوئیں جو تنظیم نو کے حوالے سے فارغ کئے گئے اور تاحال ڈویژن اور ضلعی سطح تک تنظیموں کا اعلان نہیں ہوا، بہر حال ٹرک لاہور پہنچ گیا، سوشل میڈیا پر خوب تبصرہ ہے یہ بلٹ اور بم پروف ہے پھر بھی کہ سیکیورٹی کا مسئلہ اپنی جگہ ہے، اس کے لئے بلاول کے سیکیورٹی والوں نے روٹ کا جائزہ لیا اور استقبال کرنے والوں کے انٹرویو بھی کئے ہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے اثرات ابھی تک موجود ہیں کہ ایسے انتظامات کرنا پڑتے ہیں، ورنہ وہ زمانہ بھی تھا جب ذوالفقار علی بھٹو اور خود محترمہ بھی کارکنوں میں گھل مل جاتی تھی، پہلا نشانہ تو محترمہ کی واپسی پر کراچی میں شاہکار کے مقام پر دھماکوں سے بنایا گیا تھا، تب بھی محترمہ ٹرک پر ہی تھیں، اس لئے اب یہ سب انتظامات ہیں، بہر حال بلاول لاہور سے فیصل آباد کے درمیان مخصوص مقامات پر ہی خطا ب کریں گے، اس سلسلے میں شیخوپورہ کی بات کی جارہی ہے جس کے بارے میں پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات چودھری منظور نے لاہور والوں کو دھمکی دی تھی کہ وہ نہیں شامل ہونا چاہتے نہ ہوں وہ (منظور) بلاول کو شیخوپورہ لینڈ کرا کے وہاں سے اسلام آباد تک ریلی نکال لیں گے، اگرچہ لاہور والے پہلے جیسے ولولے سے شرکت کررہے ہیں تاہم چودھری منظور زیر بحث ہیں اور پیپلز پارٹی والے پوچھتے ہیں کہ یہ رویہ پارٹی کے لئے مفید ہے؟

سوال یہ ہے کہ کیا بلاول کی پہلی رونمائی کے موقع پر لوگ اور پیپلز پارٹی والے بی بی کے بیٹے کے لئے باہر آئیں گے ؟ یہی امتحان بھی ہے اور بلاول کے لئے حوصلہ افرائی کا سبب بھی بنے گا، گزشتہ روز اس سلسلے میں ایک محفل میں بحث بھی ہوئی کہ پیپلز پارٹی کا انحصار اب بھی بوڑھے کارکنوں پر ہے، نیا خون یا جوان طبقہ ادھر نہیں آیا اور کیا بلاول کے متحرک ہونے نوجوان پڑھے لکھے لوگ پارٹی میں آئیں گے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو کئے جارہے ہیں بہر حال بلاول کو بھی اندازہ ہو جائے گا۔

کسی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بلاول بار بار روٹھنے والوں کو منانے اور گھر بیٹھے لوگوں کو باہر لانے کے لئے ان کے گھروں پر جانے کی بات کرتے رہے ہیں تو پھر اب تک ایسا کیوں نہیں ہوا۔ قمرزمان کائرہ کے تو اس حوالے سے کوئی تحفظات بھی نہیں ہیں ان کو چاہیے کہ وہ بلاول کو ساتھ لے کر جائیں ۔ اس کے علاوہ پرانی گروہ بندی ختم کرنا بھی ضروری ہے۔

ایک خبر رساں ایجنسی نے یہ خبر چلا دی ہے کہ آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی کے لئے ضمنی انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے کہ قانونی پیچیدگیاں حائل ہو گئی ہیں اگرچہ سید خورشید شاہ نے اس خبر کو غلط قرار دیا لیکن یہ مسئلہ تو موجود ہے کہ دونوں باپ بیٹے تیر کا نشان پر کس طرح الیکشن لڑیں گے اور اس کی قانونی پیچیدگیاں کیا ہیں، اس مقصد کے لئے اعتزاز احسن کی قیادت میں لیگل ٹیم بنائی گئی تھی جس نے بہت غور کے بعد کوئی رائے دی ہے۔ شاید ایسی ہی الجھن کے حوالے سے یہ مشورہ دیا گیا ہو کہ صرف بلاول کو ہی قومی اسمبلی میں بھیجا جائے۔ بہرحال یہ فیصلہ بھی آصف علی زرداری کی واپسی پر ہی ہوگا بلاول تو یقیناً ضمنی الیکشن میں حصہ لیں گے۔25 جنوری کے بعد حتمی فیصلہ ہو گا اور سب کو پتہ چل جائے گا۔

پاناما لیکس اپنی جگہ اب مسئلہ فوجی عدالتوں کے قیام کا بھی ہے۔ پیپلزپارٹی مخالف ہے۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق نے بھی مخالفت کی ہے۔ گزشتہ روز اس سلسلے میں اتفاق رائے کے لئے سپیکر کی صدارت میں جو اجلاس ہوا اس میں بھی یہ فیصلہ نہیں ہو سکا، اب رانا ثناء اللہ نے پھر کہہ دیا کہ وہ اپنے پہلے بیان پر قائم ہیں اب اپوزیشن کی یہ تجویز بھی ہے کہ ان کیمرہ اجلاس میں فوج سے بریفنگ لے لی جائے اس کے بعد فیصلہ ہو۔ بہرحال حکومت نے متبادل نظام (خصوصی عدالتیں) کا خاکہ بھی تیار کیاہے جو ایک آرڈیننس کے ذریعے قائم کی جائیں گی تاہم یہ تھوڑا طویل ہوگا، اس وقت فوری ضرورت فوجی عدالتیں ہی ہیں جن کے لئے پھر سے آئین میں ترمیم لازمی قرار دی جا رہی ہے۔ اگلے اجلاس سے پہلے پس پردہ کوشش جاری رہے گی۔

مزید : تجزیہ