محکمہ تعلیم کی لاپرواہی،4 ہزار سے زائدسکول کی عمارتیں خطرناک قرار

محکمہ تعلیم کی لاپرواہی،4 ہزار سے زائدسکول کی عمارتیں خطرناک قرار

لاہور(سپیشل رپورٹر)صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں محکمہ تعلیم کی لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے خطرناک قرار دی گئی سکولوں کی عمارتیں معصوم بچوں کی جانوں کے لئے خطرہ کا باعث بن گئی ہیں ،بارشوں سے پنجاب بھر کے ساڑھے 4ہزار سے زائدسکولوں کی خطرناک اور بوسیدہ عمارتیں مستقبل کے معماروں معصوم بچوں کی زندگیوں کے لیے ہر وقت ان پر لٹکتی ہوئی تلوار کی مانند ہیں ہزاروں سکولز کی بوسیدہ اور غیر مرمت شدہ عمارتیں کسی بھی وقت بڑے حادث کا باعث بن سکتی ہیں جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھیجتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ذرائع کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر کے سکولوں کی خطرناک قرار دی گئی عمارتیں جن میں37سو سے زائدجزوی طور پر خطرناک اور860مکمل طور پر خطرناک ہیں جبکہ لاہور کی کل127سکول کی عمارتیں خطرناک قرار دی جاچکی ہیں ان میں سے107جزوی اور 20کے قریب مکمل خطرے کی علامت قرار دی جاچکی ہیں۔بیشتر سکولوں میں تعمیرو مرمت کا کام تین سال سے فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے رکا ہوا ہے جس کے باعث بوسیدہ اور خطرناک سکول کی عمارتیں بچوں کے لیے خطرے کا باعث بن چکی ہیں اور اساتذہ بھی ان سکولوں میں پڑھاتے ہوئے خوف کا شکار ہیں۔

عمارتیں خطرناک

مزید : صفحہ آخر