عظیم شاعروں، گلوکاروں اور فنکاروں کی پھولوں سے مزین قبریں فاتحہ خوانی کرنیوالوں سے محروم

عظیم شاعروں، گلوکاروں اور فنکاروں کی پھولوں سے مزین قبریں فاتحہ خوانی ...

لاہور (عامر بٹ سے)جن کو ہم نے پلکوں پہ بٹھایا ،ان کی قبروں کا کیا حال،کوئی نہیں جانتا،شہرت ،اقتدار،دولت ،سب کا اختتام قبرستان،ماضی کے عظیم شاعر ،ادیب ،نقاد قتیل شفائی ،فیض احمد فیض ،پروین شاکر،حبیب جالب،قدرت اللہ شہاب،سعادت حسن منٹو،اشفاق احمد ،انشاء جی قبروں پر ویرانی اور وحشت کا عالم،شوبز کی چکا چوند روشنیوں میں گلیمر کی علامت ،اپنی آواز سے لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والے فنکاروں معین اختر،رانی، چکوری، استاد امانت علی خان،سلامت علی خان ،غلام فرید صابری اور مقبول احمد صابری قوال،ملکہ ترنم نورجہاں،وحید مراد،اقبال بانوں ،منور ظریف،نیر سلطانہ ،درپن،رنگیلا، مستانہ ،ببو برال ، سنتوش کمارکی قبریں فاتحہ پڑھنے والوں کی منتظر ،برصغیر کے عظیم گلوکار مہدی حسن خان پانی میں ہوئی گھری ہوئی قبر پر جانوروں کے پیروں کے نشانات نے دنیاکی بے اعتنائی واضح کر دی ،درگاہ حضرت شمس الدین اور درگاہ حضرت میاں میر کے احاطہ میں مدفون اداکار سلطان راہی اور وحید مراد کی قبریں پھولوں اور چادروں سے مزین لیکن فاتحہ پڑھنے والوں سے محروم،تفصیلات کے برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں ایسے سینکڑوں فنکار ہیں جن کی خوبصورتی ،گلیمر اور شہرت کا کوئی ثانی نہ تھا جن کی ایک جھلک دیکھنے کو لوگ بے تاب رہتے انہی فنکاروں ،ادیبوں کی شہرت اور طمکنت،تالیوں کی گونج اور واہ واہ کا شور،تصویریں بنانے اور آٹوگراف بنانے والوں کی لمبی قطاریں ،مستیاں ،رانائیاں اور شوبز کی چکا چوند روشنیوں میں چمکتے ستاروں کی سانسیں تھمنے کے ساتھ ہی ان کہ قبروں پر خوف ناک ،سناٹا ،وحشت ناک تنہائی نے انسانوں کی اپنے ہیروز اور شخصیات سے بے ثباتی واضح کر دی ہے ان شاعروں نے اپنے الفاظ اور شاعری سے کروڑوں دلوں پر راج کیا آج ان کی قبریں اس بات کی منتظر ہیں کہ ان کی قبر پر کوئی ایک انسان ہی آکر فاتحہ پڑ دے ،کراچی پاپوش نگر قبرستان میں 1978میں وفات پانے والے عظیم شاعر ،شہرہ آفاق کتابوں چلتے ہو تو چین کو چلئے ،اردو کی آخری کتاب اور لازوال غزل انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو سے امر ہونے والے ابن انشاء کی قبر ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ کہاں پر ہے ،ابن انشاء کی غزل سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے بہت بڑے گلوکار استاد امانت علی خان کی قبر کہاں پر ہے یہ بھی کوئی نہ جانتا ہے ،1974کو اپنے خالق حقیقی سے ملنے والے گلوکار استاد امانت علی خان کی قبر لاہور مومن پورہ قبرستان میں ایک عجیب ہی منظر پیش کرتی ہے ،معروف قوال غلام فرید صابری اور مقبول احمد صابری بھی اسی قبرستان میں مدفون دعا کے منتظر ہیں ،برصغیر میں غزل گائیگی کے استاد مہدی حسن خان کی قبر پانی سے گھری ہوئی ہے جس پر جانوروں کے پیروں کے نشانات اس بات کی علامت ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے ،معروف شاعر قتیل شفائی کی قبر لاہور کے علامہ اقبال ٹاؤن کریم بلاک میں ہے اور مکمل ویرانی کا منظر پیش کررہی ہے،اسی قبرستان میں کئی دہا ئیوں تک لوگوں میں مسکراہٹیں بانٹٹنے والے فنکا ر خاور بیگ عرف ننھا کی قبر ہے جس پر کوئی بھی نہ آتا ہے ،کراچی کے ماڈل ٹاؤن قبرستان میں لازوال فنکار معین اختر کی قبر ہے جن کے جنازے میں سینکڑوں لوگ دھاڑے مار مار کر روتے رہے اور کہتے رہے کہ اب ان کے گھروں کے چولہے کیسے جلے گیں ،آج اس فنکار کی قبر بھی ویران ہے جہاں کوئی محبت کرنے والا نہ آتا ہے ،حسن ،دولت ،بناؤ سنگھار،شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی اور ملکہ ترنم کا خطاب حاصل کرنے والی گلوکارہ نورجہاں کی قبر ڈیفنس کراچی میں ہونے کے باوجود ویران ہے ،لاہور کے علی زیب قبرستان میں خوبصورت ،خوبرو،چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی قبر ہے جس کا حال بھی دوسری قبروں سے مختلف نہ ہے ،عظیم فنکارہ اقبال بانوں بھی لاہور کے گارڈن ٹاؤن قبرستان میں ابدی نیند سو رہی ہیں جن کی قبر پر ان کے نام کی تختی بھی نہیں ہے ،عظیم شاعر فیض احمد فیض اور ادیب ،دانشور اشفاق احمد کی قبر بھی اسی قبرستان میں ہے لیکن مکمل سکوت اور وحشت لئے ہوئے ہے ،1960اور 1970کی دہائی کے چمکتے ستاروں ،رانی ،نیر سلطانہ ،درپن اور موسیٰ رضا عرف سنتوش کمار کی قبریں مسلم ٹاؤن لاہور قبرستان میں ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہیں ،ماضی اور گزرتے ماہ و سال نے اب انکی قبروں کے کتبوں کو بھی ماند کر دیا ہے ،میانی صاحب لاہور میں ماضی کے عظیم شاعر سعادت حسن منٹوکی اور حیبب جالب کی قبر سبزازار قبرستان میں ہیں جو کہ کئی برسوں سے کچھ پھولوں اور دعا کی منتظر ہیں ،غربت کی زندگی گزار کر موت کی وادیوں میں اترنے والے درویش شاعر صاغر صدیقی بھی لاہور میانی صاحب میں مدفون ہیں ،پوری زندگی غربت میں گزارنے والے شاعر کی قبر کے ساتھ کسی محبت کرنے والے لنگر خانہ کھول کر اس شاعر کی روح کی تسکین کا ساما ن کیا ہے ،لاکھوں دلوں کی دھڑکن اور کئی رومانوی شاعری کی کتابوں کی مصنفہ پروین شاکر اسلام آباد ایچ ایٹ قبرستان میں مدفون ہیں ،استاد امانت علی خان کے صاحبزادے استاد سلامت علی خان کی قبر لاہور مومن پورہ قبرستان میں ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فنکار اپنی والدہ کے ساتھ ایک ہی قبر میں مدفون ہیں ،درگاہ حضرت شمس الدین کے احاطے میں مدفون پاکستان فلم انڈسٹری کے سب سے مقبول اداکار سلطان راہی کی قبر ہے جو کہ ایک بند کمرے میں پھولوں کی چار اور چند پھولوں کے ساتھ مکمل خاموشی کا منظر پیش کررہی ہے اس کے علاوہ اداکار محمد علی کی قبر بھی حضرت میاں میر کے احاطے میں ہے جہاں پر لوگ اکثر فاتحہ خوانی کرتے نظر آتے ہیں اس کے علاوہ اداکار رنگیلا،منور ظریف ،مستانہ ،ببوبرال ،سدھیر کی قبریں کہاں ہیں اور کس حال میں یہ کسی کو معلوم نہ ہے ۔

مزید : صفحہ آخر