اپوزیشن کیساتھ اتفاق رائے سے پولیس کو زیادہ اختیارات دیئے :پرویز خٹک

اپوزیشن کیساتھ اتفاق رائے سے پولیس کو زیادہ اختیارات دیئے :پرویز خٹک

پشاور( سٹاف رپورٹر )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے پولیس بل 2016 پر سیلیکٹ کمیٹی کے تیسرے اجلا س کی صدارت کی جس میں ڈی ایس پی کی پانچ فیصد پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اختیارات کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی کے لئے سیفٹی کمیشنز کو مزید فعال اور متوازن بنانے پر اتفاق ہوا۔ صوبائی سیفٹی کمیشن کے مہینے میں دو اجلاس ہو ں گے۔ اجلاس نے اتفاق کیا کہ عوامی شکایات کے ازالے کے لئے اختیارات کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ کمپلینٹ اتھارٹی اور چیک اینڈ بیلنس کا طریقہ کار بھی موجود ہو گا۔۔صوبائی وزراء عنایت اﷲ، امتیاز شاہد قریشی ، شاہ فرمان ، اپوزیشن لیڈر لطف الرحمن ، ڈپٹی سپیکر ڈاکٹر مہر تاج روغانی، ایم پی ایز سردار حسین بابک، صاحبزادہ ثناء اﷲ، امجد خان آفریدی، بخت بیدار، محمد اشرف، محمد علی شاہ ، نور سلیم ، زریں گل ، جعفر شاہ ، محمود احمد خان، عبد الستار، فخر اعظم وزیر ، سلیم خان ، آمنہ سردار، جمشید خان، گل صاحب ، نگہت اورکزئی ، ایڈو کیٹ جنرل ، سابق آئی جی پی فیاض طور اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں پولیس بل 2016 کے مسودہ پر تفصیلی غور وخوض کیا گیا اور مجوزہ مسودہ میں ترامیم لانے کیلئے کئی اہم فیصلے کئے گئے ۔اجلاس میں انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی کے طریقہ کار کا بھی از سرنو جائزہ لیا گیا اور اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ شارٹ لسٹنگ کی متعلقہ فورم کی عدم موجودگی کی صورت میں وفاق صوبے کو اس پوسٹ کیلئے گریڈ 21 اور22 کے موزوں تمام افسران کی لسٹ فراہم کرے گاجس میں سے جو زیادہ مناسب ہو گا اُس کی صوبے میں انسپکٹر جنرل پولیس کی حیثیت سے تعیناتی کی جائے گی ۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیاکہ ایف آئی آر کے موجودہ طریقہ کار میں بہت کمزوری ہے اس میں شفافیت ہونی چاہیئے اور اس کے متعلق جو شکایات ہیں ان کا ازالہ کیا جائے. علاوہ ازیں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں پولیس کو روڈ بند کرنے کا بھی اختیار ہو گا مگر یہ اختیار حکومت کی منظوری سے مشروط ہو گا۔ اسی طرح جلسے جلوسوں کے لئے بھی پولیس اجازت دینے کی مجاز ہو گی۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ قوانین عوام کیلئے بنائے جاتے ہیں اسلئے ان کو کسی کی ذاتی آراء پر مبنی بنانے کی گنجائش نہیں ہوتی اختیارات کے ساتھ ذمہ داری کا عنصر ہونا چاہئے اور موجودہ بل میں ان سب کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں اختیارات کے غلط استعمال پر با زپرس ہو گی ۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے پولیس کو بنیادی طور پر بغیر ایکٹ کے اختیارات دیئے تھے۔ پولیس نے جس کے نتیجے میں بہتر کارکردگی دکھائی اس لئے ہم اب قانونی طور پر پولیس کو اختیارات دے رہے ہیں۔ ہم ایک سسٹم بنا رہے ہیں اور پولیس کو ایک با اختیار ادارے کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ہم نے اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے سے پولیس کو زیادہ اختیارات دیئے ہیں۔ پولیس نے بھی اس ضمن میں تعاون کیا ہے۔کمیٹی نے پورے اتفاق رائے سے یہ قانون تشکیل دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے عندیہ دیا کہ یہ قانون کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا وہاں سے منظوری کے بعد اسے صوبائی اسمبلی کے سامنے رکھا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہم نے پولیس کو مکمل اختیارات منتقل کئے ہیں۔ہم نے پولیس کو پروفیشنل لائنز پر کام کرنے کیلئے اختیارات دیئے ہیں اور سیاسی مداخلت کا راستہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا ہے اب پولیس کو اپنی ذمہ داریاں مزید بہتر بنانا ہو ں گی ہم عوام کیلئے انصاف چاہتے ہیں اور اس پورے عمل کے پیچھے یہی جذبہ کار فرما ہے۔انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں میں پولیس کے پاس یہ اختیارات نہیں ہیں انکو بھی چاہئے کہ وہ سیاسی مداخلت ختم کریں تاکہ غریب آدمی کو تھانے میں انصاف مل سکے۔ انہوں نے کہاکہ صوبے میں جتنی قانون سازی کی گئی ہے اس کا مقصد ایک ایسا سسٹم دینا ہے جس سے عوام کو ریلیف اور انصاف ملے اور تمام قوانین اپوزیشن کی اتفاق رائے شامل ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول