ڈی آرسی کے فعال کردار سے کچہری پر بوجھ کم ہوچکا ،ڈی آئی جی

ڈی آرسی کے فعال کردار سے کچہری پر بوجھ کم ہوچکا ،ڈی آئی جی

چارسدہ (بیورورپورٹ) ڈی آئی جی اعجاز خان نے کہا ہے کہ ڈی آر سی کے فغال کردار کی وجہ سے تھانہ کچہری پر بوجھ کم ہو چکا ہے ۔ قانونی تحفظ ملنے کے بعد ڈی آر سی مثبت اور موثر کردار سے بہترین معاشرہ کے قیام میں بھی مدد گار ثابت ہو گی ۔ڈی آر سی نے سالوں پرانے خاندانی ، موروثی اور جائیداد کے تناذعات حل کرکے نسل در نسل چلنے والے عدالتی جنگ سے عوام کو نجات دلا دی ہے ۔ وہ چارسدہ میں ڈی آر سی ممبران کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد ، ایس پی انوسٹی گیشن چارسدہ پیر شہاب خان، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز سید افتخارشاہ، ڈی ایس پی سٹی نذیر خان اورڈی ایس پی شبقدر فیاض خان کے علاوہ ڈی آر سی چارسدہ، ڈی آر سی شبقدر اور ڈی آر سی تنگی کے تمام ممبران موجود تھے۔ ڈی آئی جی مردان ریجن اعجازخان نے جرگہ ہال میں ممبران سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آر سی چارسدہ کے کردار کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیااور اس عزم کا اطہار کیا کہ قانونی تحفظ ملنے کے بعد یقیناًڈی آر سی اپنے موثر کردار کے بدولت ایک مثالی معاشرے کی تشکیل میں کامیاب ہوئی ہے۔ڈی آر سی کے قیام سے عوام الناس کے خاندانی ، موروثی ، جائداد، رقم لین دین کے مسائل فوری حل ہورہے ہیں۔ عوام ڈی آر سی پر اعتماد کررہے ہیں اسلئے اپنے تناذعات حل کرنے کیلئے ڈی آر سی سے رجوع کر رہے ہیں ۔پختون معاشرے میں جرگہ سسٹم بڑی اہمیت کا حامل ہے جس کے ذریعے خونی دشمنیاں اور بڑے بڑے تنازعات خوش اصلوبی سے حل ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آر سی پشتون معاشرے میں جرگہ سسٹم کا دوسرا نام ہے اور اس میں عوام کو انصاف فراہم کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عوام تھانہ کچہری کے چکر وں سے بچ جاتے ہیں ۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سہیل خالد نے بھی خطاب کیا اور ڈی آر سی کی کارکردگی رپورٹ پیش کی جبکہ ڈی آر سی چارسدہ کے چیئر مین پروفیسر محمد شفیق اور دیگر نے سسٹم کو مزید فغال بنانے کے حوالے سے تجاویز پیش کئے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر