سندھ میں غیرسیاسی گورنرکی تقرری کی بازگشت ،لیگی رہنماسیخ پا

سندھ میں غیرسیاسی گورنرکی تقرری کی بازگشت ،لیگی رہنماسیخ پا

(تجزیہ: کامران چوہان) مرحوم گورنرسندھ جسٹس (ر) سعیدالزماں صدیقی کے انتقال کے بعدگورنری کے خواہشمندوں کی لائن لگی ہوئی ہے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق سندھ کانیاگورنراردوبولنے والا اور غیر سیاسی ہوگا۔جس کے بعدمفتاح اسماعیل، محمد زبیر، ایس ایم منیر،عبداﷲحسین ہارون،سابق کورکمانڈرکراچی لیفٹینٹ جنرل(ر)طارق وسیم غازی سمیت ودیگرنام زیرگرش ہیں جبکہ عوامی حلقوں کاخیال ہے کہ سابق گورنرشہیدحکیم محمدسعیدکی صاحبزادی وچیئرپرسن ہمدردفاؤنڈیشن محترمہ سعدیہ راشدکی بطورگورنرتقرری قابل سائش اقدام ہوگا۔کیونکہ حکیم محمد سعید کی ملک کے لیے گراں قدر خدمات ہیں ۔۔ذرائع کے مطابق اس صورتحال کے بعدمسلم لیگ(ن)سندھ کے رہنماؤں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔پارہ چڑھے لیگی رہنماؤں نے صدر مملکت ممنون حسین سے درخواست کی ہے کہ وہ کسی غیر مسلم لیگی کی بطورِگورنر تقرری سے گریز کریں۔ بلکہ وزیراعظم کو کسی سینئر مسلم لیگی رہنماکوسندھ کا گورنرتعینات کرنے کی سفارش کریں۔جبکہ کسی تاجروصنعتکارکوگورنرکی مسندپربراجمان کرنے کیلئے سرگرداں وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارپربھی برہمی کااظہار کرتے ہوئے انہیں سندھ کی سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا مشورہ دیا۔اس طرح واضح ہے کہ مسلم لیگ (ن) سندھ اور کراچی کے رہنماء کسی تاجر،صنعتکار یا پھر ریٹائرڈ جسٹس و جنرل کی تقرری کو قبول نہیں کریں گے۔یہ تاثراب تقویت پکڑچکا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سندھ اورکراچی کے رہنماؤں بشمول منتخب بلدیاتی اراکین،رکن قومی وصوبائی اسمبلی یا سینیٹرزکووزیراعظم میاں محمد نواز شریف سمیت دیگرسینئررہنمالفٹ ہی نہیں کرواتے ۔ شایداسی وجہ سے سابق وفاقی وزیر اور ملیر سے رکن قومی اسمبلی عبدالحکیم بلوچ نے وزارت اور قومی اسمبلی کی نشست کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیارکی اوردوبارہ پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیکر اسی نشست پررکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ۔سندھ کے سینئررہنماعرفان اﷲ مروت کی بھی پارٹی چھوڑنے اور پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبریں میڈیاکی زینت بن چکی ہیں جبکہ رکن صوبائی اسمبلی حاجی شفیع جاموٹ کے بھتیجے پہلے تحریک انصاف اوراب پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ اورسابق صدرمسلم لیگ(ن)سندھ سیّد غوث علی شاہ اورسینیٹر سلیم ضیا ء کے درمیان عرصۂ دراز چلنے والے اختلافات جب پوائنٹ آف نوریٹرن پر پہنچے توسید غوث علی شاہ نے مسلم لیگ (ن) کو خیرباد کہنے میں ہی عافیت جانی۔اسی طرح کئی سینئر مسلم لیگی رہنما اعلیٰ قیادت کی جانب سے نظرانداز کئے جانے کے بعد اپنے گھروں میں محواستراحت ہیں۔قطع نظر اس کے کہ اس میں سندھ میں مسلم لیگ ن کو فعال بنانے میں ان رہنماؤں نے کسی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ انکے ذاتی مفادات اورچپقلشوں کے سبب پارٹی کو شدید نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مرکز میں برسراقتدار سیاسی جماعت کا ایک بہت بڑے صوبے میں کوئی فعال کردار نہیں ہے۔ سیاسی تبصرہ نگاروں کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو سندھ میں فعال نہ کرنے کے پس پردہ نواز/ زرداری مفاہمتی پالیسی ہے۔ جس کے تحت مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے صوبہ سندھ کو پیپلزپارٹی کے لئے اوپن چھوڑاہواہے اسی سبب مسلم لیگ(ن)سندھ اور کراچی کے رہنماؤں کووہ مقام ومرتبہ حاصل نہیں جودیگر صوبوں کے رہنماؤں کوحاصل ہے۔ اسی لئے کراچی سے منتخب ہونے والے بلدیاتی نمائندے بھی مرکزی قیادت کی جانب سے ان کواہم معاملات میں مشاورت کے عمل میں شامل نہ کرنے کاروناروتے دکھائی دیتے ہیں۔ صورتحال تقریباً واضح ہے، گورنری کا تاج کس کے سر پر ہوگا اس کاحوالے سے حتمیٰ فیصلہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کریں گے اوراپنے فیصلے سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی ضرور اعتماد میں لیں گے۔ کیونکہ وہ ہرگز نہیں چاہیں گے نیا آنے والاگورنر پیپلز پارٹی کیلئے کسی قسم کی کوئی پریشانی پیدا کرے مگر لیگی رہنمااس عمل کے متمنی ہیں۔ شنیدہے کہ نیاگورنر سندھ غیرسیاسی ہوگا۔ سندھ کے مسلم لیگی رہنماؤں کی ناراضگی کارگر ثابت نہیں ہوں گی اورنئے گورنرکی مسندکاقرعہ فعال تاجر، صنعتکار، ریٹائرڈجج یاجنرل کے نام کاہی نکلے گا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر