میڈیا نمائندوں کا میٹرو منصوبے کا دورہ‘ ٹریک پر بسوں کی کراسنگ کا مظاہرہ

میڈیا نمائندوں کا میٹرو منصوبے کا دورہ‘ ٹریک پر بسوں کی کراسنگ کا مظاہرہ

ملتان(نمائندہ خصوصی ) ملتان میٹرو بس پراجیکٹ انتظامیہ کی دعوت پر میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایڈیٹرز، کالم نگاروں، بیوروچیف صاحبان اور سٹاف رپورٹرز کی بہت بڑی تعداد نے گزشتہ روز میٹرو بس سسٹم کا دورہ کیا۔کمشنر ملتان ڈویژن کیپٹن(ر) اسداللہ خان، ریجنل پولیس آفیسر سلطان اعظم تیموری، ڈپٹی کمشنر نادر چٹھہ، سی (بقیہ نمبر60صفحہ12پر )

پی او احسن یونس، ڈی جی پی ایچ اے رانا رضوان قدیر کے علاوہ ٹیکنیکل ایڈوائزر میٹرو بس پراجیکٹ صابر خان سدوزئی، چیف انجینئر ایم ڈی اے شاہد نجم، ڈائریکٹر میٹرو بس پراجیکٹ خالد پرویز،نذیر احمد چغتائی اور عثمانی اینڈ کمپنی کے نمائندے سرمد اور شہزاد بھی اس موقع پر موجود تھے۔صحافیوں نے مختلف اسٹیشنزاور انڈر پاس دیکھے اور میٹرو بس کے سفر سے لطف اندوز ہوئے۔ صحافیوں کے دورے کے موقع پر میٹرو بس روٹ پر 20سے زائد بسیں رواں دواں تھیں۔ بسوں نے نہ صرف میٹرو بس ٹریک پر کراسنگ کا شاندار مظاہرہ کیا بلکہ میٹرو بس اسٹیشنز پر اوورٹیکنگ بھی کی گئی۔ میٹرو بس منصوبے کی تکمیل کے بعد صحافیوں کا یہ پہلا دورہ تھاکمشنر ملتان ڈویژن کیپٹن(ر) اسداللہ خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ میٹرو بس منصوبے کے افتتاح کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔جب بھی اعلیٰ حکومتی شخصیات کی طرف سے وقت دیا جائے گا افتتاحی تقریب کا انعقاد کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور اور راولپنڈی۔اسلام آباد میٹرو بس منصوبے سے حاصل ہونے والے تجربے سے بھرپور استفادہ کیا گیا ہے اور ملتان میٹرو بس منصوبہ اس تجربے کا نچوڑ ہے۔ کمشنر ملتان ڈویژن نے کہا کہ جدید دور میں میڈیاکا بہت اہم کردار ہے اور وہ معاشرے اور منصوبوں میں پائی جانے والی خامیوں کی نشان دہی کرتا ہے جس کی اصلاح کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ ملتان میٹرو بس منصوبہ اس تاریخی شہر کی ترقی کا زینہ ثابت ہوگا جس کے اثرات پورے جنوبی پنجاب پر مرتب ہوں گے۔ ڈپٹی کمشنر نادر چٹھہ نے اس موقع پر کہا کہ منصوبے کے افتتاح کے لئے تمام پیپر ورک مکمل ہے اور مختلف افسران پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں صرف حکومت کی طرف سے افتتاحی تاریخ کے سگنل کا انتظار ہے۔قبل ازیں ٹیکنیکل ایڈوائزر میٹرو بس پراجیکٹ صابر خان سدوزئی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملتان میٹرو بس منصوبہ تمام نقائص سے پاک ہے اور اس منصوبے پر کام کرنے والے انجینئرز اور مزدوروں کو اس پر فخر ہے۔ اس منصوبے سے2600افراد کو روزگار ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے اٹھارہ کلومیٹر طویل میٹرو بس روٹ پر 28ارب88کروڑ روپے لاگت آئی ہے جس میں 4۔ارب23کروڑ90لاکھ روپے متاثرین کو کی جانے والی ادائیگی کی رقم بھی شامل ہے۔ صابر خان سدوزئی نے بتایا کہ منصوبے کو 9پیکجز میں تقسیم کیا گیا جس میں ٹریک کی تعمیر کے علاوہ زمین کے حصول کے لئے متاثرین کو کی جانے والی ادائیگی، برقی زینوں اور لفٹ کی خریداری، بس ڈپو اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرکی تعمیر اور سٹریٹ لائٹس اور میٹرو اسٹیشنز کے ڈورز کی خریداری شامل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میٹرو بس روٹ پرسروسز کی تبدیلی کے لئے مختلف محکموں کو 35کروڑ 60لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر میٹرو روٹ پر 35بسیں چلائی جائیں گی اور تقریباً 95ہزار افراد روزانہ اس پر سفر کریں گے۔ صابر خان سدوزئی نے مزید بتایا کہ ملتان میٹرو بس منصوبے کے لئے برقی زینے، لفٹ، جنریٹرز، ایکس پنشن جوائٹنس اورلانچنگ پیڈزیورپ سے منگوائے گئے ہیں۔ اس منصوبے سے حافظ جمال روڈ کو35فٹ سے100فٹ کشادہ کردیا گیا ہے اور اب شہریوں کو ایک خوبصورت کاریڈور میسر آگیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کی عمر 50سال ہے اور اگر اس کی بروقت دیکھ بھال کا عمل جاری رکھا گیا تو یہ منصوبہ100سال تک قابل استعمال رہے گا۔انہوں نے بتایاکہ منصوبے کی تعمیر کے دوران اس منصوبے پر 50ہزار سے زائد انجینئرز، ہنرمندوں اور مزدروں کو براہ راست روزگار ملا جبکہ بالواسطہ روزگار حاصل کرنے والے اس کے علاوہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبوں کو فنکشنل کرنے والی کمپنیوں نے2600افراد کو بھرتی کیا ہے اور اس طرح یہ منصوبہ 2600 خاندانوں کے روزگار کا وسیلہ بنا ہے۔اس منصوبے سے ملتان میں ٹرانسپورٹ کلچر تبدیل ہوگا.

مزید : ملتان صفحہ آخر