ڈکٹر تنظیموں کی پنجاب حکومت کو مسائل حل کرنے کیلئے 15روز کی ڈیڈ لائن

ڈکٹر تنظیموں کی پنجاب حکومت کو مسائل حل کرنے کیلئے 15روز کی ڈیڈ لائن

لاہور( جنرل رپورٹر) ڈاکٹر تنظیموں نے حکومت پنجاب کو ہسپتالوں کے مسائل حل کرنے کے لئے 15 روز کی ڈیڈ لائن دے دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ حکومت تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایک بیڈ ایک مریض کی پالیسی پر فوری عمل شروع کرے ورنہ تمام تنظیموں احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہو جائیں گی۔ اس امر کا اظہار پی ایم اے لاہور کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اجمل حسین نقوی نے دیگر تنظیموں کے ہمراہ (بقیہ نمبر36صفحہ12پر )

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وائی ڈی اے کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر التمش کھرل، ڈاکٹر احسان الرحمن، ڈاکٹر نذر ، ڈاکٹر طارق میاں اور ڈاکٹر شاہد شہبا بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل جناح ہسپتال لاہور میں شوگر، بلڈ پریشر اور گردوں کے امراض میں مبتلا زہرہ بی بی کی موت نے جہاں سارے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے وہاں ڈاکٹر برادری کے مقتدر حلقے بھی سوچنے پر مجبور ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں آئے دن نجانے کتنی ہی ایسی زہرہ ناکافی طبی سہولیات کی وجہ سے زندگی ہار جا تی ہیں جن کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ڈاکٹروں کے دل بھی اس صورت حال پر سخت رنجیدہ ہیں مگر اپنے پیشہ کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے خدمت میں مصروف ہیں اور اللہ کی خوشنودی کیلئے بہترین راستہ پر گامزن ہیں اوررہیں گے۔ ہم حکومت وقت اور بیوروکریسی کو ان کی نااہلی اور نالائقیوں کا ملبہ ڈاکٹر برادری پر ڈالنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حالیہ اندوہناک واقعہ ہسپتال میں بستروں کی شدید کمی کی وجہ سے پیش آیا جس کا معطل کیے جانے والے ڈاکٹر صاحبان سے دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ انتقامی کاروائی ہے جسے ہم یکسر مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام ڈاکٹر تنظیمیں متفقہ طور پر حالیہ واقعہ کی ذمہ دار بیوروکریسی کو سمجھتی ہیں جس نے 1984 سے محکمہ پر قبضہ کیا ہوا ہے اور گزشتہ 5سالوں سے 7نامی گرامی بیوروکریٹس کی اس محکمہ کو چلانے میں بری طرح ناکامی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے اور حال ہی میں اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے دو حصوں میں تقسیم کر کے پرائیویٹائزیشن کے ایجنڈے پر عمل کرنا چاہتی ہے جس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم محکمہ صحت کی نااہلی اور ناکام پالیسیوں پر جلد ہی وائٹ پیپر کا اجراء کریں گے اور کسی صورت بھی ڈاکٹرز کی کردارکشی کی اجازت نہیں دیں گے۔ ڈاکٹرز کی عزت و تکریم کیلئے تمام تنظیمیں متحد ہیں اور اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے متحد رہیں گے۔ڈاکٹر برادری نے اس واقعہ کو شدت سے محسوس کیا اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ مریضوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کا آغاز بھی ڈاکٹر برادری ہی کرے گی۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم حکومت کو 15دن کی مہلت دیتے ہیں کہ وہ فوری طور پر تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایک مریض ایک بستر کی پالیسی کا اطلاق کرے تاکہ آئندہ کسی بھی زہرہ بی بی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش نہ آ سکے اور آئے روز ایمرجنسی اور وارڈز میں ایک بستر پر 3,3 مریضوں کے ساتھ علاج معالجہ کے نام پر کھلواڑ بند کیا جا سکے۔ زہرہ بی بی انکوائری رپورٹ کو پبلک کیا جائے تاکہ رات کے اندھیرے میں یکطرفہ سفارشات پر غیرقانونی معطلی کا پردہ فاش ہو سکے۔محکمہ صحت کو بیورکریسی کے نت نئے تجربات کی بھینٹ چڑھانے کی بجائے ڈاکٹرز کے حوالے کیا جائے تاکہ عوام الناس کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر