گیس شارٹ فال کنٹرول سے باہر صارفین سراپا احتجاج ، شہری لکڑیوں پر کھانے بنانے پر مجبور

گیس شارٹ فال کنٹرول سے باہر صارفین سراپا احتجاج ، شہری لکڑیوں پر کھانے بنانے ...

لاہور ( خبر نگار) گیس کی بند ش نے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کردئیے ہیں۔ سی این جی اسٹیشنوں اور فرٹیلائرزسیکٹرکی گیس بند کرنے سے بھی گیس کا پریشر گھروں تک نہیں پہنچ سکاہے جس پر گھریلو صارفین مجبورا ایل پی جی کے سلنڈروں اور لکڑیوں سے کھانے پکانے لگے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سردی کی شدت اور دھند کے باعث گیس کی ڈیمانڈ حیرت انگیز تک بڑھ گئی ہے اور گیس کمپنی کی جانب سے سی این جی سیکٹر، فرٹیلائزر سیکٹر سمیت ایک بڑے پاورپلانٹ کوگیس کی سپلائی معطل کرنے سے بھی گھروں میں گیس کاپریشرنہیں بڑھ سکاہے جس پر گھریلو صارفین گزشتہ روز بھی گیس کی بندش کے خلاف سراپااحتجاج بنے رہے ہیں لاہور میں گڑھی شاہو ،بی بی دامن ،رشید پورہ ،غازی آباد ،باغبانپورہ سمیت سمن آباد اور ساند ہ کے مکین گیس کی بندش کے خلاف سراپا احتجاج بنے رہے ہیں جبکہ اس کے ساتھ گیس کمپنی کے دفاترمیں بھی شکایات لیکر آنے والے صارفین کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیاگیاہے سوئی گیس کمپنی کے ذرائع کے مطابق گیس کی ڈیمانڈ 22 سو ملین کیوبک فٹ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ گیس ذخائر1554ملین کیوبک فٹ ہیں جس کے باعث گیس کاشارٹ فال کنٹرول سے باہر ہو کر رہ گیا ہے اس حوالے سے گیس کمپنی کے ایم ڈی امجد لطیف کاکہناہے کہ گیس کی ڈیمانڈ 1954 ملین کیوبک فٹ ہے اور اس کے مقابلہ میں گیس ذخائر1554ملین کیوبک فٹ ہیں ۔جس میں 450 ملین کیوبک فٹ شاٹ فال ہے اور اس شارٹ فال کوپوراکرنے کیلئے سی این جی اور فرٹیلدئزسیکٹرسمیت ایک پاور سیکٹرکوگیس کی سپلائی معطل کی گئی ہے ایم ڈی نے بتایاکہ گھروں میں کمپریسراستعمال بڑھ جانے پر گیس کی قلت کی شکایات زیادہ ہیں صارفین گیس ہیٹرزکی بجائے گرم کپڑوں کااستعمال کریں اور کمپریسرکااستعمال کرنے سے گریز کریں اس سے گیس کنکشن منقطع ہوسکتے ہیں جبکہ گیزرکاکم سے کم استعمال کریں ۔ایم ڈی نے مزید بتایاکہ صارفین گیس کھانے تیارکرنے کے لیے استعمال کریں تاکہ تمام صارفین تک گیس کی سپلائی کوممکن بنایاجاسکے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر