نماز پڑھنے کے وہ فائدہ جو مسلمانوں کو بھی شاید معلوم نہ ہو

نماز پڑھنے کے وہ فائدہ جو مسلمانوں کو بھی شاید معلوم نہ ہو
نماز پڑھنے کے وہ فائدہ جو مسلمانوں کو بھی شاید معلوم نہ ہو

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) نماز اسلام کا بنیادی رکن اور ہرمسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے ، ہرمسلمان اپنے اس فریضے سے بخوبی آگاہ ہے لیکن غیرمسلم عمومی طورپر نقطہ چینی کیلئے مذہب کی کھوج لگانے میں لگے رہتے ہیں اور ایسی ہی ایک تحقیق کے بعد سائنس دان بھی اس وقت حیران رہ گئے جب یہ انکشاف ہواکہ اس فریضے کی ادائیگی کے روحانی کے علاوہ میڈیکلی بھی بے انتہاءفوائد ہیں ، پانچ وقت کی باقاعدہ ورزش انسانی اعضاءکے پرسکون ہونے کا سبب بنتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق طبی فوائد کا آغاز وضو سے ہوتا ہے ، اور پھر حالت قیام میں کھڑے ہونے سے کمر ،گھٹنے اور ایڑیوں کے درد سے افاقہ حاصل ہوتا ہے۔سیدھے کھڑے ہوکر رکوع پرموجود ہونا گھٹنوں کیلئے بہت مفید ہے،اورطبی طورپر سب سے زیادہ مفید رکوع سوکر اٹھنے کے بعد یعنی فجر کی نماز کا ہے ۔

رکوع کیلئے گھٹنوں کو پکڑ کر جھکنا

قیام کے بعد دوسرا رکن رکوع ہوتا ہے جس میں گھٹنوں کو تھام کر جھکا جاتا ہے۔ نیوزویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کے مطابق یوگا کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ حالت انسانی جسم کی کلائیوں، کندھوں، اور کمر کی لچک میں اضافہ کرتی ہے اس کے ساتھ ساتھ ریڑھ کی ہڈی کے نچلے مہروں کے درد میں بھی افاقے کا سبب بنتی ہے اس کے ساتھ ساتھ کمر درد اور کلائی کے درد کا بھی خاتمہ کرتی ہے۔

سجدہ کرنا

اپنی پیشانی کو دیگرجسم سے نیچے جھکانے سے دوران خون بہتر ہوتا ہے اور دماغ کو خون کی روانی بہتر ہوتی ہے جو انسان کو فالج کے خطرے سے بچاتی ہے، انسانی پٹھوں،جوڑوں کو بھی مناسب خون کی فراہمی ہوتی ہے جو ریڑھ کی ہڈی کے درد کا خاتمہ کرتا ہے

قعود

سجدہ کے بعد ٹانگیں اپنے جسم کے نیچے رکھ کر سیدھا بیٹھ جانے کو قعود کہتے ہیں۔اس حالت میں بیٹھنے سے انسانی جسم کو سکون حاصل ہوتا ہے اور اس کی کمر اور گھٹنے ورزش کے بعد ایک درست آرام دہ حالت میں آجاتے ہیں جس سے درد میں افاقہ ہوتا ہے۔

سلام

سر کو دائیں اور بائیں گھمانا گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے لے ایک بہترین ورزش ہوتی ہے۔ یوگا کے ماہرین کے مطابق اس سے انسانی گردن مضبوط ہوتی ہے اور ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ گردن کے جوڑ کے دوران خون میں بہتری آتی ہے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اسلام نے 1400سال پہلے ہی نماز کے فوائد بتادیئے تھے ۔

مزید : اسلام آباد