’تمہاری ان ہی حرکتوں کی وجہ سے زلزلے آتے ہیں۔۔‘ 30 سال تک اپنے ہی باپ کے ہاتھوں قید میں رہنے والی خاتون نے ایسی بات کہہ دی ہر کسی کو پریشان کردیا

’تمہاری ان ہی حرکتوں کی وجہ سے زلزلے آتے ہیں۔۔‘ 30 سال تک اپنے ہی باپ کے ...
’تمہاری ان ہی حرکتوں کی وجہ سے زلزلے آتے ہیں۔۔‘ 30 سال تک اپنے ہی باپ کے ہاتھوں قید میں رہنے والی خاتون نے ایسی بات کہہ دی ہر کسی کو پریشان کردیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) بچے فطری طور پر اپنے ماں باپ سے آرام و آسائش اور پیارومحبت کے متمنی ہوتے ہیں۔ ان بچوں پر کیا گزرتی ہو گی جن کے ماں باپ ہی ان کے لیے آدم خور دیو بن جائیں؟ ایسا ہی کچھ برطانوی خاتون کیٹی مورگن ڈیویس کو برداشت کرنا پڑا جسے اس کے باپ نے ہی پیدائش سے لے کر 30سال کی عمر تک ایک گھر میں قید رکھااوراس کا جنسی، ذہنی و جسمانی استحصال کرتا رہا۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس بدبخت شخص کا نام اروندن بالاکرشنن (Aravindan Balakrishnan)ہے جو اب اپنے ہوس پرستی کی پاداش میں 23سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔

یونیورسٹی میں نوعمر لڑکی کی آمد، اورپھر ہرطرف تباہی ہی تباہی پھیل گئی، یہ دراصل کون تھی؟ ایسا انکشاف کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا

رپورٹ کے مطابق اروندن نامی اس شخص نے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی اور خوداس مذہب کے ماننے والوں کا ”خدا“ بن بیٹھا۔ اس کے پیروکاروں میں زیادہ تر خواتین شامل تھیں جنہیں اس نے ایک گھر میں ایک عرصے تک محبوس کیے رکھا۔ اس نے ان کا برین واش کیا اور مجبور کر دیا کہ وہ اسے خدائی صفات کا حامل سمجھیں، اس سے خوف کھائیں اور اس کی مرضی کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں۔ اپنی بیوی اور بیٹی سے بھی اس نے یہی سلوک روا رکھا۔ وہ ان لوگوں کو ڈراتا تھا کہ اگر انہوں نے گھر سے باہر قدم رکھا تو ان پر آسمانی بجلی گر جائے گی اور وہ مر جائیں گے۔ اس نے اپنی بیٹی کو ڈرا رکھا تھا کہ دنیا میں زلزلے تمہارے برے اعمال ہی کی وجہ سے آتے ہیں۔ ایسی ہی چیزوں سے خوف دلا کر اروندن نے درجنوں لوگوں کو ذہنی غلام بنا رکھا تھا۔

رپورٹ کے مطابق جب کیٹی 30سال کی عمر میں اس گھر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی تو وہ دنیا سے اتنی ہی آشنا تھی جتنی کوئی 5سال کی بچی ہوتی ہے، وہ نہ سڑک عبور کر سکتی تھی اور نہ ہی کوئی گھریلواستعمال کی مشین اسے چلانی آتی تھی۔ دنیا اس کے لیے بالکل نئی تھی کیونکہ زندگی میں پہلی بار اس کا بیرونی دنیا سے رابطہ ہوا تھا۔ کیٹی کا کہنا ہے کہ ”میں اپنے ’قیدخانے‘ کے واش روم میں لگے نل سے باتیں کرتی تھی۔ میں اس نل کو بوسہ دیتی اور اسے کہتی تھی کہ تم میری سہیلی ہو ناں۔ جب واش روم کا فلش ٹھیک کام کرتا تو میں اسے گلے لگا لیتی تھی۔ آج جب میں اپنی ان باتوں کے متعلق سوچتی ہوں تو یہ مجھے انتہائی احمقانہ لگتی ہیں۔“

17 سالہ بچہ جس کی ماہانہ آمدنی 30 لاکھ روپے ہے، اب لوگوں کو بھی پیسے کمانے کا راز بتادیا

کیٹی اور دیگر خواتین کی اس ابتلاءپر ایوارڈ یافتہ پروڈیوسر ونیزا اینگل نے ایک ڈاکومنٹری بنائی ہے جو جلد نشر کی جائے گی۔ اس میں پہلی بار اروندن کے مذہب ”ماﺅازم“ ، اس کی تعلیمات اور اس کے چنگل میں خواتین پر ہونے والے مظالم دنیا کے سامنے لائے جائیں گے۔دہائیوں تک ظلم کی یہ داستان لندن کے وسط میں برکسٹن کے علاقے میں لکھی جاتی رہی۔ لوگ اس گھر کو ایک عام گھر سمجھتے رہے لیکن اس کے اندر عورتوں سے جنسی زیادتی کا رسیا شخص اپنی ہوس کی داد دیتا رہا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔

کیٹی کی والدہ، سین ڈیویس، ایک ذہین طالبہ تھی لیکن اپنی عمر کی 20کی دہائی میں ہی اروندن کے چنگل میں پھنس گئی اور اس کی پیروکار بن گئی۔ بالآخر وہ اروندن ہی کے بچے کی ماں بنی اور کیٹی کو جنم دیا۔ سین ڈیویس تمام عمر اس شخص کے جال سے نہ نکل سکی اور 1996ءمیں گھر کی کھڑکی سے گر کر موت کے منہ میں چلی گئی۔ کیٹی کا کہنا ہے کہ ”مجھے یقین ہے کہ میری ماں گھر سے فرار ہونے کی کوشش میں کھڑکی سے گری تھی۔ وہ حقیقت جان گئی تھی۔ اس لیے میرا باپ اور اس کے پیروکار میری ماں پر شدید تشدد کرتے تھے۔“

کیٹی کا مزید کہنا تھا کہ ”میری ماں کی موت کے دن بھی میرے باپ اروندن اور اس کے مریدوں جوزی، اوم، چندا و دیگر نے اسے بری طرح پیٹا تھا اور باندھ کر فرش پر ڈال دیا تھا، کیونکہ اس نے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔ اس کے منہ میں انہوں نے کپڑا ٹھونس دیا تھا تاکہ اس کی آواز باہر نہ جا سکے۔“ اپنی ماں کی موت کے وقت کیٹی کی عمر صرف 14برس تھی۔ ڈاکومنٹری میں اروندن کی قید میں رہنے والی ایک اور خاتون ایشاہ وہاب کا انٹرویو بھی شامل ہے جو اب 72برس کی ہے۔ یہ خاتون بھی کیٹی کے ساتھ ہی اس گھر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی تھی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس