مالی کے فوجی کیمپ پر خود کش دھماکہ 60افراد ہلاک ،100سے زائد زخمی ،دھماکہ فرانس کے ساتھ تعاون کی سزا ہے ’’ المرابطون‘‘ نے ذمہ داری قبول کر لی

مالی کے فوجی کیمپ پر خود کش دھماکہ 60افراد ہلاک ،100سے زائد زخمی ،دھماکہ فرانس ...
مالی کے فوجی کیمپ پر خود کش دھماکہ 60افراد ہلاک ،100سے زائد زخمی ،دھماکہ فرانس کے ساتھ تعاون کی سزا ہے ’’ المرابطون‘‘ نے ذمہ داری قبول کر لی

  

مالی(ڈیلی پاکستان آن لائن) مغربی افریقی ملک مالی کے شمالی شہر گاؤ میں ایک فوجی کیمپ کے قریب خود کش کار بم دھماکے میں کم سے کم 60لوگوں کی موت ہو گئی اور 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں،ہلاک ہونے والوں میں 5 حملہ آور بھی شامل ہیں،مقامی عہدے داروں کے مطابق ان دھماکوں میں ایک فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا جہاں سابق باغی اور حکومت نواز عسکریت پسند ٹھہرے ہوئے تھے، حملے کی ذمہ داری القائدہ کی زیلی تنظیم ’’المرابطون ‘‘ نے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ، مجاہدین کے خلاف جنگ کرنے ،فرانس کو بیرکس اور اڈے فراہم کرنے اور فرانس کے ساتھ تعاون کی سزا ہے ۔

مالی فوج کے ترجمان دیارین کونے نے بتایا کہ سال کے اب تک کے اس سب سے بڑے دھماکے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ایک مقامی شہری نے کہایہ بہت خوفناک دھماکہ ہے، جب یہ دھماکہ ہوا اس کے بعد تمام لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے اور اس نے وہاں پر لاشوں کے کئی ٹکڑے ٹکڑے دیکھے۔ترجمان نے بتایا کہ یہ خودکش دھماکہ صبح نو بجے سے تھوڑی دیر پہلے کیا گیا اور اس وقت وہاں 600 فوجیوں کو جمع ہونا تھا لیکن ان حملہ آوروں نے وہاں موجود لوگوں پر اپنی گاڑی چڑھا دی اور اس کے بعد خود کش حملے کو انجام دیا۔یہ کیمپ فرانسیسی فوج کی قیادت میں علاقے سے اسلام پسندوں کو نکالنے کے لیے شروع کیے جانے والے آپریشن کے بعد حکومت اور وفادار ملیشیاؤں کے درمیان 2015ء میں ایک معاہدہ طے پانے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ مالی کا شمالی علاقہ فوجی کارروائیوں کے باوجود بدستور بدامنی کا شکار ہے۔

دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیم ’’ہیومن رائٹس واچ‘‘ کی اس ہفتے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عسکری گروہوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے امن کاروں اور مقامی آبادیوں پر حملے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کو ملک کے شمالی اور وسطی حصوں میں شہریوں کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے ۔مالی کے صدر ابراہیم بوباکار تا نے اس واقعہ کے بعد تین دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔اس کیمپ میں سرکاری فوجیوں اور مختلف مسلح باغی گروپوں کی رہائش گاہیں تھیں، یہ سب یہاں پر مشترکہ طور پر گشت بھی کرتے تھے۔ فرانس کے وزیر داخلہ برونو لیراکس نے اسے ’زیادہ اور وسیع علامتی دھماکہ‘ بتایا۔ انہوں نے صدر فرانسواں اولاند کے ساتھ ایک دن پہلے ہی اس علاقے کا دورہ کیا تھا۔

مزید : بین الاقوامی