افغانستان سے 35 لڑکیاں ایک ایسا کام کرنے کے لئے یورپ پہنچ گئیں کہ ملک میں ہنگامہ برپاہوگیا

افغانستان سے 35 لڑکیاں ایک ایسا کام کرنے کے لئے یورپ پہنچ گئیں کہ ملک میں ...
افغانستان سے 35 لڑکیاں ایک ایسا کام کرنے کے لئے یورپ پہنچ گئیں کہ ملک میں ہنگامہ برپاہوگیا

  

ڈیواس (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان جیسے قدامت پسند ملک میں گانے بجانے کا شغل کرنے والے مردوں کو بھی موت کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اسی ملک کی درجنوں نو عمر لڑکیوں پر مشتمل ایک میوزگ گروپ بین الاقوامی سطح پر اپنے فن کا مظاہر کرنے کے لئے یورپ جا پہنچا ہے۔

ویب سائٹ فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق افغان لڑکیوں پر مشتمل میوزک گروپ ”زہرہ“ اپنی پہلی بین الاقوامی پرفارمنس کا مظاہرہ ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ڈیواس میں کرے گا۔ اس گروپ میں کل 35 لڑکیاں شامل ہیں جن کی عمریں 13 سے 20 سال کے درمیان ہیں۔ گروپ کی سربراہ 20 سالہ نگینہ ہیں، جنہوں نے بتایا کہ تمام تر مشکلات اور خطرات کے باوجود ان کے گروپ نے بیرون ملک پرفارم کرنے کا فیصلہ کیا۔

نگینہ نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان میں لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، موسیقی تو بہت دور کی بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے موسیقی سیکھنے کا ارادہ کیا تو سارے خاندان کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ کافی تگ و دو کے بعد وہ اپنے والدین کو راضی کرنے پر تیار ہوگئیں، لیکن ان کا ساتھ دینے پر ان کے والدین کو بھی خاندان کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

نگینہ نے بتایا کہ ان کی دادی نے تو ان کے والد کو یہاں تک کہہ دیا کہ ”اگر تمہاری بیٹی گانے بجانے کا کام کرے گی تو میں تمہیں اپنا بیٹا تسلیم نہیں کروں گی۔“ بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث نگینہ اور ان کے والدین کو صوبہ کنڑ چھوڑ کر افغان دارالحکومت کابل منتقل ہونا پڑا۔ سب سے بڑا خطرہ باہر سے نہیں بلکہ ان کے اپنے خاندان کے اندر سے تھا۔ نگینہ کو ان کے چچا نے دھمکی دی ”تم نے ہمارے خاندان کو بدنام کردیا ہے۔ مجھے تم جہاں بھی نظر آئی میں تمہیں قتل کردوں گا۔“

نگینہ کا کہنا تھا کہ اب ان کے لئے ایک ہی محفوظ راستہ بچا ہے کہ بیرون ملک رہ کر موسیقی کا شوق پورا کریں۔ وہ اس خواب کو ممکن بنانے کے لئے کسی اچھی یونیورسٹی میں سکالرشپ حاصل کرنے کے لئے بھی کوشاں ہیں تاکہ تعلیم حاصل کرکے بیرون ملک ہی کوئی ملازمت بھی حاصل کرسکیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس