سعودی عرب سے ایسی خبر آگئی کہ جان کر وہاں مقیم پاکستانیوں کے خاندان والوں کی پریشانی آسمان کو چھونے لگے گی

سعودی عرب سے ایسی خبر آگئی کہ جان کر وہاں مقیم پاکستانیوں کے خاندان والوں کی ...
سعودی عرب سے ایسی خبر آگئی کہ جان کر وہاں مقیم پاکستانیوں کے خاندان والوں کی پریشانی آسمان کو چھونے لگے گی

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی ہر سال بھاری رقوم واپس اپنے ممالک میں بھیجتے ہیں، جو ان کے خاندانوں کے لئے اہم ترین معاشی سہارا تصور کیا جاتا ہے۔ اس ترسیل زر پر نئی فیس عائد کرنے کی تجاویز نے غیر ملکیوں کو ایک عرصے سے خدشات میں مبتلاءکر رکھا تھا، اور اب بالآخر یہ خبر سامنے آگئی ہے کہ اگلے ہفتے سعودی شوریٰ کونسل اس تجویز پر باقاعدہ غوروخوض شروع کر رہی ہے۔

سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق غیر ملکیوں کی جانب سے سعودی عرب سے اپنے ممالک بھیجی جانے والی رقوم پر فیس عائد کرنے کی تجویز شوریٰ کونسل کے رکن حسام العنکری کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ یہ تجویز شوریٰ کی مالیاتی کمیٹی کی جانب سے پہلے ہی منظور کی جاچکی ہے لیکن اگلے ہفتے جنرل اسمبلی کے سامنے بھی پیش کردی جائے گی۔

مزیدپڑھیں:سعودی عرب میں درجنوں پاکستانیوں سمیت 40ممالک کے شہری دہشتگردی کے شبہ میں گرفتار

تجویز کے مطابق پہلے سال کے دوران غیر ملکیوں کی بھیجی گئی رقوم پر چھ فیصد فیس عائد کی جائے گی جبکہ بعدازاں اسے بتدریج بڑھایا جائے گا۔ حسام العنکری کا کہنا تھا کہ ان کی تجویز کا مقصد غیر ملکیوں کو مملکت میں رقوم خرچ کرنے پر مائل کرنا ہے۔ تجویز کے مطابق غیرملکیوں کی رقوم سے کاٹی گئی رقم کو سعودی عریبین مانیٹری اتھارٹی کو جمع کروایا جائے گا۔

یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ کوئی غیر ملکی جب حتمی طور پر مملکت کو چھوڑے تو ساتھ لیجائی جانے والی زیادہ سے زیادہ نقد رقم کی بھی حد مقرر کردی جائے۔ شوریٰ کو یہ بھی بتایا گیا کہ 2004ءمیں غیر ملکیوں کی جانب سے باہر بھیجی گئی رقوم کا حجم 57 ارب ریال تھا جو کہ 2013ءمیں بڑھ کر 135ارب ریال ہوچکا تھا۔

مزید : عرب دنیا