قائد اعظم یونیورسٹی میں شرمناک پارٹیوں کا انکشاف،انتظامیہ منشیات اور شراب نوشی روکنے میں ناکام

قائد اعظم یونیورسٹی میں شرمناک پارٹیوں کا انکشاف،انتظامیہ منشیات اور شراب ...
قائد اعظم یونیورسٹی میں شرمناک پارٹیوں کا انکشاف،انتظامیہ منشیات اور شراب نوشی روکنے میں ناکام

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )اسلام آباد میں قائم قائد اعظم یونیورسٹی میں طالبعلم تعلیمی ادارے کے نام کا مان نہیں رکھ پا رہے اور ایسے شرمناک کاموں میں ملوث ہیں جس کے بارے میں سن کر والدین کے ہواس غائب ہو جائیں گے ۔

ایکسپریس ٹریبون کے مطابق قائدا عظم یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر وسیم احمد نے کہاہے کہ انتظامیہ کیمپس میں منشیات کے استعمال اور شراب نوشی پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے ۔

قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ کا اجلاس ڈاکٹر امیر اللہ مروت کی زیر صدارت یونیورسٹی میں ہوا جس میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا ممنوعہ اشیاءکی خریدو فروخت کے علاوہ کیمپس میں جوئے کی لت بھی بڑھتی جارہی ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ کمروں میں جنگلی تقریبات کا انعقاد کیا جاتاہے جہاں پر منشیات اور شراب نوشی آزادی کے ساتھ کی جاتی ہے اور اس حوالے سے کئی بار پولیس کو اطلاع دی اور کارروائی بھی عمل میں لائی گئی لیکن یہ تمام اگلی ہی صبح رہا ہو جاتے ہیں ۔

پروفیسر وسیم احمد کا کہناتھاکہ یونیورسٹی کے ملازمین بھی اس مکروہ کاروبار میں ملوث ہیں ،200گارڈز کی موجودگی کے باوجود انتظامیہ اسے روکنے میں ناکام ہے ۔پروفیسر وسیم احمد نے اسطرف اشارہ دیتے ہوئے دبے الفاظ میں کہا کہ ممکنہ طور پر اس کی پشت پناہی کچھ بااثر افراد کر رہے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ ان سب کے علاوہ کچھ غیر متعلقہ لوگ بھی ہاسٹلز کے کمروں میں رہائش اختیار کیے ہیں ۔

مزید : اسلام آباد