نئی سیاسی صبح

نئی سیاسی صبح
 نئی سیاسی صبح

  

باتوں سے بیمار بندہ صحت مند نہیں ہوتا اورنظریات سے انحرافات کا شجر نہیں اکھڑتا۔ قانونی تعبیرکے جبراور طاقت کے قہر کو چیلنج کرناایک بات ہے اور کسی نئی ابتدا کے لئے ڈول ڈالنا چیزے دیگر است۔پاکستانی سیاست میں ایک نئی ابتداجو غیر آئینی اقدامات کی دائم بساط لپیٹ سکے۔۔۔کیا ممکن ہے؟نئی سیاسی صبح کم سے کم اس بات کی طالب رہی کہ باتوں سے آگے بڑھ کراقدامی عمل کاآغاز کیا جائے۔

لیاقت علی خان سے نواز شریف تک سیاست کو مسلسل مزاحمت کے جھٹکے لگتے آئے ہیں۔آخر کب تک؟کب تک خزاں خرمستیاں کرے گی اور کب تک گھپ اندھیرے چھائے رہیں گے؟وقت کے پہیے پرآخر کب تک بزم اس طرح سجائی جائے گی کہ ایک کے بعد دوسرا واقعہ من مرضی سے ظہور پذیر ہو۔

نواز شریف کی نااہلی اور بلو چستان میں جبری تبدیلی کے بعدیہ احساس گہرا ہوا کہ ہمارا پارلیمانی نظام اب ایک نئی زندگی چاہتا ہے۔ وہی گھسی پٹی صبح اور پرانی شام اب اپنے اتمام کو پہنچا چاہئے۔

جمود کے پشتی بان جمہور کے شعورکے تیور پہچاننے سے اب بھی یکسر قاصر نظر آتے ہیں۔جنوں اور جادوگروں میں بھی اچھی ہستیاں پائی جاتی ہونگی ۔

کہاں ہیں وہ لوگ جوحکمت کی مشورت سننے والے اور دانائی کے موتی چننے والے ہوں۔کون ہے وہ جو زبردستی ان کے دماغ میں حق اور حقیقت انڈیل دے اور ان کے کان تغیر کی آواز سے آشنا کرے۔کہا جاتا ہے تناظرات کے غیاب اور ماحولیات کی تبدیلی کے ساتھ ہی سیاست کا قالب بھی بدلتا رہتا ہے۔

سماجی ارتقا اور سیاسی تغیر و تبدل دراصل ایک نمو پذیر عمل رہاجو ساعت آخریں تک جاری رہے گا۔ایک شخص کے بدل جانے سے پاکستانی سیاست بھی اب بدلنے چلی ہے۔بس کوئی صبح صادق ہویداہوتی ہے کہ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بدل رہے گی۔

جوڑ توڑ ،اکھاڑ پچھاڑاور اتھل پتھل کی ہلچل اول روز سے ہی وزرائے اعظموں کے حصے میں آئی۔جانے کیا جی میں سمائی کہ جمہوری گاڑی کوپردے کے پیچھے سے پیچھے ہی دھکیلاگیا۔ دستور کے نگہبانوں اور نگرانوں نے بھی تعبیر کے ہتھیاراور تاویل کی دلیل سے بالا دست ادارے کی راہ میں روڑے اٹکائے۔

نواز شریف چاہتے تو ہیں کہ پردے کے پیچھے سے کھیلے جانے والے کھیل کی کہانی تمام ہو۔ان کی خواہش کہ سازشوں کے سورج کا جنازہ بے گورو کفن افق میں ڈوبے۔گاہے گاہے وہ مسلمہ انحرافات کو چیلنج کرنے کا حوصلہ اور یارا بھی رکھتے ہیں۔

اضطراری و سیاسی مصلحت یامصالحت کے تحت وہ بلو چستان میں وزارت اعلیٰ کی قربانی دے کر نظام کو بچایا بھی کئے۔نئی سیاسی صبح کے لئے مگر کسی ہنگامی یا اقدامی عمل کے آغاز سے وہ گریزاں اور فراراں بھی رہے ہیں۔

ایسی صور ت میں سیاست کے اندر کسی بنیادی و جوہری تبدیلی کا امکاں و ساماں کہاں بابا!جہاں آئے روز نئی قانونی تعبیر و تشریح کی ضرب سے پارلیمانی نظام ہلنے لگتا ہو،جہاں طاقت کی نت نئی باطل تاویل سے سیاست چٹخنے لگتی ہواور جہاں سوتے جاگتے ،چلتے پھرتے ملائی بھی سلطانی مانگتی ہو۔۔۔وہاں خوش ٖفہمیوں یا خالی خولی نعروں سے سیاست میں کسی نئی ابتدا کا اہتمام محض ایک خواب ٹھہرا۔

مسئلہ کی شدت اورمعاملہ کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایئے کہ یہاں متعدد مقدس اداروں کے کردار وافکار پرکسی تازہ بحث کا دروازہ کھولناآج بھی ممنوع ہے۔ جنوں اور جادوگروں کے بعض معاملات پرگفتگو کرناتو ایسا رہا کہ گویا ملک کی بساط لپیٹ دینے کے مترادف ٹھہرا۔سیاست پرتراشے گئے اسطورے کا حصار اتنا سخت رہا کہ اسداللہ خان قیامت ہے!مخالفین کے لئے اس اسطورے سے دست برداری تو کجا اس پر کسی صحت مند مکالمہ کی بھی گنجائش نہیں۔

ایک دو دفعہ نہیں،بے شمار بار ہوا کہ چاہنے والوں نے چاہا پارلیمان ایسا بالا دست ادارہ بھی ان کی غیر مشروط تابعداری کرے۔مصیبت اور مخمصہ یہ بھی رہا کہ کچھ الفاظ واصطلاحات نے بھی حقائق پر پردہ ڈالے رکھا۔الفاظ واصطلاحات اور معنی و مفاہیم پر مر جایئے یا پھر ماتم کیجئے۔

تمام زمانوں کی زبانوں میں الفاظ واصطلاحات اسی لئے ایجادواختراع کئے گئے کہ دوسرے انسانوں کو بات پہنچانے اور سمجھانے میں آسانی ہو۔ہوا بھی یہی کہ خیالات کی ترسیل اور احساسات کی ترجمانی الفاظ واصطلاحات نے ہی کی۔

مخصوص مقام اور منفرد منظر میں مگر یہی الفاظ واصطلاحات کبھی کبھی اور کہیں کہیں حقیقت پر روک لگائے رکھتے ہیں۔مثلاً مخالفین و منحرفین کو لیجئے جوپرشور اور پیہم پروپیگنڈاکیا کئے کہ نواز شریف تصادم کے راستے پر بگٹٹ بھاگ کھڑے ہیں۔

حساس اور ذی شعور لوگوں کوپہلے دن سے ہی یہ مسئلہ رہاکہ حقیقت کچھ ہوتی ہے اور نظر کچھ اور آتی ہے۔کوئی اٹھے اور چیخ کر پوچھے کہ خدا کے بندو!تصادم نواز شریف چاہتے ہیں؟سلیمانی ٹوپیاں پہننے والی غیر مرئی مخلوق کیا چاہتی ہے؟نواز شریف واقعی تصادم چاہتے اگر وہ وزارت عظمیٰ چھوڑنے سے انکارکر دیتے!

تصادم کو چھوڑیئے جب پردے کے پیچھے کھیل کی حقیقت منکشف ہو گی ،تب ایسے معاملات پر فیصلہ کن گفتگوہو سکے گی۔دل دردمنداور فکر ارجمندرکھنے والے سائل سوال اٹھاتے ہیں کہ آخرکب تک ظلمات و توہمات سیاست کے تعاقب میں رہیں گے؟سیاسی نظام کے زوال کا سوال اپنی جگہ ،سچ پوچھئے تواب سوال یہ آن پڑا ہے کہ نواز شریف کے دماغ میں نئی صبح کا نقشہ کیا ہے؟سینٹ کے انتخابات سے بھی آگے ایک قدم اٹھایئے کہ اگرکوئی صور اسرافیل نہ پھونکا گیا تویہ ہو رہیں گے۔

پھر؟پھر عام انتخابات میں میدان لگے گااوراگر یہاں بھی نوازشریف سرخرو اور سرفراز رہے تو؟ سو سوالوں کاایک سوال اگر پانچ سال بعدبھی پارلیمانی نظام کو تعبیر یا ہتھیار کے زور پر زیر کر لیا گیاتو؟کوئی جائے اور جا کر مسیحاکو بتائے کہ حضور مریض کا علاج کرنے کی بجائے مرض کو ہی مار دیجئے۔

کہا جاتا ہے مرض کی موجودگی کے ہوتے ہوئے مریض کی زندگی میں کسی نئی صحت مند صبح کاامکاں کم ہی ہوا کئے۔نئی صبح کااہتمام کم سے کم اقدام کا تو طالب ہے اور یہ اقدام دماغ بدلے بغیرممکن نہیں۔جس طرح میاں صاحب کا ذہن بدل گیا،سو اسی طرح ہم سفروں کا بھی دماغ بدلا چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -