بلوچستان میں جمہوریت سے مذاق

بلوچستان میں جمہوریت سے مذاق
 بلوچستان میں جمہوریت سے مذاق

  

ابھی جمہوریت کی راہ میں بیشمار کانٹے ہیں ، جنہیں چننے کے لئے لمبا وقت درکار ہے ، اگر یہاں معین قریشی اور شوکت عزیز جیسے ’’اَن نون ‘‘ کرداروں کو دیارِ غیرسے بلوا کر وزارتِ عظمیٰ دی جا سکتی ہے تو صرف پانچ سو ووٹ لے کر ایم پی اے بننے والے عبدالقدوس بزنجو بھی وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں، چوہے بلی کا کھیل جاری ہے ، کون ’’ ٹام‘‘ ہے اور کون جیری ، اس کا فیصلہ آنے والے وقت نے کرنا ہے ،ابھی ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ بلوچستان میں شہہ اور مات کی بساط بچھانے والوں کو وقتی کامیابی حاصل ہوئی ہے ،بلوچستان اسمبلی کے ایک رکن عبدالرحیم زیارت وال کا کہنا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے ارکان میں اربوں روپئے تقسیم کیے گئے ہیں لیکن ان کی بات پر ملک کے سنجیدہ سیاستدان کان دھرتے نظر آرہے ہیں نہ ہی میڈیا ،لگتا ہے ہارس ٹریڈنگ ، فلور کراسنگ اور ’’لوٹا کریسی‘‘ کے الفاظ اب باسی ہو گئے ہیں ،اس لئے عبدالرحیم زیارت وال کی بات ’’ صدا بہ صحرا‘‘ ہے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف اس ایشو پر اپ سیٹ ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ بلوچستان میں آج جدید دور میں بھی 90 کی دہائی کو کیوں دہرایا گیا ،وہ کون سی قوتیں ہیں جنہوں نے گھناؤنا کردار ادا کیا ، جمہوریت کے منہ پر طمانچہ مارا، مسلم لیگ (ق) کے صرف پانچ ایم پی ایز نے کیسے پوری بلوچستان اسمبلی کو اپنا ہمنوا بنا لیا، مگر میاں نوازشریف کی حیرت و پریشانی سے کسی کو سروکار نہیں ، بساط بچھانے والے اپنی کامیابی پر خوش ہیں ،اربوں روپے کی تقسیم کا الزام لگانے والے عبدالرحیم زیارت وال حیران ہیں اور باقی سب اللہ اللہ ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے وزیراعلیٰ سے استعفیٰ دلوا کر پاکستان کے جمہوری اور سیاسی مستقبل کو بچا یا ہے۔ بلوچستان میں جو ’’ تھیٹر‘‘ لگایا گیا وہ سوچے سمجھے پلان کا حصہ تھا، منصوبہ یہی تھا کہ مسلم لیگ (ن)کی قیادت جذبات یا شدید دباؤ میں آکر کسی جھنجلاہٹ کا مظاہرہ کرے گی اور اسمبلی توڑ دیگی ،سیاسی بحران سنگین ہو گا اور اثرات اسلام آباد تک پہنچیں گے، لیکن پلاننگ کرنے والے شاید بھول گئے کہ اب ان کا پالا 90ء کی دہائی والے نوازشریف سے نہیں پڑا، بلکہ یہ ایک اور طرح کے نوازشریف ہیں، جو لاکھ ’’نااہل‘‘ سہی مگر ایک نظریاتی اور میچور سوچ رکھنے والے لیڈر ہیں ، بڑے ویژن کے حامل ہیں اور اس پیڑے کو بار بار کی نااہلیوں ، جلاوطنیوں ، گرفتاریوں اور جمہوریت کی تگ و دو میں پڑنے والی ٹھوکروں نے پوری طرح گول کر دیا ہے ، جذباتیت کی توقع اب اس نوازشریف سے نہ رکھی جائے ، کچی پکی سیاست کی امید مسلم لیگ (ن)کی قیادت سے نہ کی جائے ۔

بڑا آسان تھا کہ ثنا ء اللہ زہری کی وزارتِ اعلیٰ بچاتے بچاتے اسمبلی کی قربانی دے دو لیکن بڑا مشکل فیصلہ تھا کہ جمہوریت کو بچاتے ہوئے وزارتِ اعلیٰ کی قربانی دو، نوازشریف کے جمہوری و سیاسی ویژن نے ایسا ہی کیا ، ثناء اللہ زہری استعفیٰ دے کر عزت اور وقار سے گھر چلے گئے اور بلوچستان اسمبلی کی جڑیں مضبوط کر گئے ،لیکن افسوس کہ مضبوط بلوچستان اسمبلی میں طمع ،لالچ، جوڑ توڑ اور فریب کا کھیل کھیلا گیا ، ایسی شخصیت کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا جو اپنے حلقہ کے صرف 544 ووٹرز کی نمائندگی کررہے ہیں ۔

بے شک ہم سیاسی و جمہوری نحوستوں کے مارے لوگ ہیں ،کرسی کی کھینچا تانی نے ہمارا بہت وقت برباد کر دیا ،جھوٹی اناؤں کے بیشمار پہاڑ ہم اپنی پیٹھ پر لاد چکے ،اب ان سارے پتھروں کو کمر سے اتار پھینکنے کا وقت ہے اور اسی لئے میاں نوازشریف کی ہدایت پر وزیراعظم پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی نے فیصلہ کیا ہے کہ بلوچستان میں اپوزیشن جماعتوں نے جو حکومت بنائی ہے اس کی ٹانگیں نہ کھینچی جائیں۔

کاش ان سب باتوں کی سمجھ میاں نوازشریف کی اپوزیشن کو بھی آجائے ،پاکستان پیپلزپارٹی اس ملک کی سینئر سیاسی پارٹی ہے ،اس پارٹی نے بھی بہت بلاؤں کا سامنا کیا ہے مگر افسوس کہ یہ انتہائی میچور سیاسی پارٹی اس وقت اپنا جمہوری اور اصولی کردار ادا کر کے میاں نوازشریف کا ساتھ نہیں دے رہی ،مولانا فضل الرحمن بے حد تجربہ کار پارلیمنٹرین ہیں ،ایور گرین سیاستدان ہیں ،ہر جمہوری حکومت سے اپنا سیاسی حصہ بھی وصول کرتے ہیں، افسوس ان پر بھی ہے کہ ان کی سیاسی مفاد پرستی کی پرانی عادت نہیں جاتی ۔

پاکستان بھر میں موجود ہر سنجیدہ سیاسی طالب علم عمران خان سمیت طاہر القادری جیسے غیر سیاسی افراد کی دھرنا سیاست سے نالاں وپریشاں ہے اور سوچ میں مبتلا ہے کہ اگر کسی بنا پر پاکستان میں جمہوریت کو پٹڑی سے اتار دیا گیا تو نئی جدوجہد میں دس بارہ سال کے لئے پوری قوم پھر لٹک جائے گی مگر افسوس ، صد افسوس کہ سبھی غیر سیاسی لیڈر اس منطق کو سمجھ نہیں پا رہے ،بلوچستان میں حالیہ بحران کے دوران نوازشریف کا سیاسی فیصلہ ساری اپوزیشن کے لئے بہترین سبق ہے کہ کچھ کھو کر بھی بہت کچھ پایا جا سکتا ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں اس بڑے سبق سے کچھ نہیں سیکھ رہیں ،پی ٹی آئی کی تو شاید کبھی باری آئے نہ آئے البتہ پی پی پی کو آج نہیں تو کل حکومت کرنے کا پھر سے چانس مل سکتا ہے اور ہمارا سوال اسی سیاسی پارٹی سے ہے کہ ’’بلاول صاحب ! کل جب آپ کی والدہ محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی جمہوری حکومتوں کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے تھے اور آپ کے والد محترم آصف علی زرداری کو بطور صدر بے بس کرنے کی کوشش کی جاتی تھی تو آپ سب کی تلملاہٹ بڑی واضح اور حق بجانب تھی ، آج وہی روڑے میاں نوازشریف اور ان کی پارٹی کی راہ میں پڑے ہیں ، کیا یہ سب آپ کو نظر نہیں آتے ۔؟ اور اگر نظر آرہے ہیں تو آپ کیوں غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ۔

؟ کیا کبھی پھر سے آپ کی پارٹی کی باری نہیں آنی۔؟ اگر آنی ہے تو اپنی راہ کے کاٹنے ابھی سے میاں نوازشریف کے ساتھ مل کر کیوں نہیں چن لیتے ۔؟اپنی راہیں آسان کیوں نہیں کر لیتے ۔؟؟‘‘

مزید :

رائے -کالم -