احتجاج کا حق اور شہریوں کے بنیادی حقوق؟

احتجاج کا حق اور شہریوں کے بنیادی حقوق؟

  

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ احتجاج کا حق شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے ساتھ مشروط ہے سیاسی جماعتوں کو ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ ان کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں، فاضل عدالت نے اپوزیشن جماعتوں کو مال روڈ پر احتجاج کی مشروط اجازت دے دی اور حکم دیا کہ رات بارہ بجے کے بعد اگر احتجاج جاری رہتا ہے تو اس کی میڈیا کوریج نہ کی جائے۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس امین الدین خان، جسٹس شاہد جمیل اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل فل بنچ نے تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی کی درخواستوں پراحتجاج کے روز فیصلہ سنایا جو فاضل بنچ نے دلائل سننے کے بعد محفوظ کرلیا تھا، ضلعی انتظامیہ کو یہ حکم بھی دیا گیا کہ مال روڈ پر ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھا جائے، بنچ نے اس بات پر ناراضی کا اظہار کیا کہ مال روڈ پر احتجاج پر پابندی کے بارے میں حکومتی پالیسی کو قانونی تحفظ نہیں دیا گیا۔ ضلعی حکومت کے نوٹی فکیشن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے احتجاج کے بارے میں اقدامات کرنے کی بجائے ایک طرح سے احتجاج کی اجازت دے دی ہے، مال روڈ پر احتجاج کے خلاف ایک ہی نوعیت کی درخواستوں پر حکومت اور دوسرے فریقوں کو 31جنوری کے لئے نوٹس جاری کردئے۔لاہور ہائی کورٹ میں اس درخواست کی سماعت ایک ایسے وقت میں ہورہی تھی جب اپوزیشن جماعتوں کے جلسے کا دن آپہنچا تھا، جلسے کا وقت بدھ(17جنوری) مقرر تھا اور اگرچہ ضلعی انتظامیہ نے مال روڈ پر جلسے کی باضابطہ اجازت نہیں دی پھر بھی ایک دن پہلے ہی منتظمین نے کنٹینر لگا کر مال روڈ بند کردی تھی اور سٹیج بنانے کے لئے تیاریاں جاری تھیں اور یہ اعلان بھی کئے جارہے تھے کہ اجازت ملے یا نہ ملے جلسہ مال روڈ پر ہی ہوگا۔

مال روڈ جلسوں کے لئے عوامی تحریک کا پسندیدہ مقام ہے اس سے پہلے بھی یہ جماعت یہاں جلسے کرتی اور دھرنے دیتی رہی ہے، یہ معاملہ پہلے بھی فاضل عدالتوں کے زیر غور آچکا، اگرچہ2011ء سے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر مال روڈ پر جلسے کرنے اور جلوس نکالنے پر پابندی ہے تاہم حقیقی معنوں میں اس پابندی کا احترام کبھی نہیں کیا گیا، تاجر حضرات الگ سے تنگ ہیں اُن کا موقف ہے کہ احتجاجوں اور جلسوں سے اُن کا کاروبار متاثر ہوتا ہے، اِس مقصد کے لئے تاجروں نے بار بار عدالتِ عالیہ سے رجوع کیا ہے اُن کے حق میں فیصلے بھی ہوئے ہیں اور جلسوں پر پابندی بھی لگی ہے لیکن عملاً اس پابندی کا احترام نہیں کرایا جاسکا۔ اِس کی ذمہ دار انتظامیہ ہے، سیاسی جماعتیں ہیں یا کوئی اور خرابی ہے جو کچھ بھی ہے نتیجہ بہر حال ایک ہی ہے تاجروں اور عوام الناس کی پریشانیاں اپنی جگہ ہیں سیاسی جماعتوں اور احتجاج کرنے والوں کا پرنالہ بھی ہل نہیں پایا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ تاکہ مسئلے کے تمام فریق بھی مطمئن ہو جائیں۔ قانون یا انتظامیہ کی کمزوری اور اپوزیشن کا طاقت کے مظاہرے پر اصرار، جو کچھ بھی تھا یہ جلسہ ہوگیا اور جلسے کا جو پیغام اپوزیشن دینا چاہتی تھی اپنے تئیں کامیاب بھی ہوگئی تاہم اس جلسے کی وجہ سے لاہور کے لاکھوں شہری دو روز تک سڑکوں پر پریشان ہوتے رہے، پورے شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا اثر دہام رہا، بہت سی سڑکوں پر گاڑیاں گھنٹوں پھنسی رہیں، پہلے سے ڈری اور سہمی ہوئی انتظامیہ نے اگرچہ مال روڈ اور قرب و جوار میں واقع درجنوں یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں کو بند کرنے کا اعلان پہلے ہی کر دیا تھا اگر انتظامیہ نے یہ فیصلہ نہ کیا ہوتا تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ اِن تعلیمی اداروں کے ہزاروں طلباء کی موجودگی اور انہیں لانے لے جانے والی گاڑیوں کی آمدورفت کے وقت ٹریفک کا کیا حال ہوتا مال روڈ پر گورنر ہاؤس سے آگے جانے کی اجازت نہیں تھی دکانیں اور کاروباری ادارے چیرنگ کراس سے ہائی کورٹ تک بند تھے یہی علاقہ کاروباری سرگرمیوں کا بنیادی مرکز ہے، ملحقہ سڑکوں سے بھی چونکہ آنے جانے کی اجازت نہیں تھی اس لئے بیڈن روڈ، ہال روڈ، ٹمپل روڈ اور دوسری ملحقہ سڑکیں اور مارکیٹیں بھی بند تھیں۔

یہ بات تو روزِ روشن کی طرح سامنے آچکی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے پہلے احکامات کے باوجود انتظامیہ مال روڈ پر احتجاجوں کا سلسلہ نہیں روک سکی، بڑے مظاہرے تو رہے ایک طرف، ہم نے بچشمِ خود دیکھا ہے کہ بعض اوقات ڈیڑھ دو درجن لوگ بھی عین چیرنگ کراس چوک میں پُرانے ٹائروں کو آگ لگا کر ٹریفک روک دیتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والا کوئی ادارہ ان سے تعرض نہیں کرتا، چند سو افراد کے مظاہرے بھی یہی کام کرگزرتے ہیں اب اگر اتنی کم تعداد میں مظاہرین کے ساتھ بھی پولیس خوش اسلوبی کے ساتھ نہیں نپٹ سکتی تو پھر بڑے مجمعے کنٹرول کرنا تو واقعی مشکل کام ہے لیکن ایسے لگتا ہے کہ پے درپے ہونے والے واقعات نے پولیس کے مورال پرمنفی اثر ڈالا ہے ورنہ اسلام آباد کے فیض آباد دھرنے کا انجام وہ نہ ہوتا جو ہوا، جن پولیس والوں کو کارروائی کے دوران زخم آئے وہ خود تو مایوس ہوئے ہی ہوں گے پوری فورس پر اس کے منفی اثرات آج بھی محسوس کئے جاسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود مظاہرین دندناتے ہوئے مال روڈ پر آکر ٹریفک بند کردیتے ہیں اور انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

یہ جلسہ اور احتجاج جیسا کچھ بھی تھا وہ تو ہوگیا لیکن ہمارے معلوم کلچر کے مطابق احتجاجوں کا سلسلہ تو جاری رہے گا کیونکہ معاشرے نے جو چلن اپنالیا ہے وہاں اب دھرنے معمول بن چکے ہیں اور ہر مرض کا علاج اس امرت دھارے میں تلاش کرلیا گیا ہے ابھی چند روز بعد مزید احتجاج سامنے آئیں گے نہ جانے اِن کی شکل اور انجام کیا ہو، اس لئے انتظامیہ کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ مال روڈ کو مظاہروں سے محفوظ کیسے رکھا جاسکتا ہے، اگریہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے تو ہر قسم کی قانونی مشقت بے کار ہے لیکن اگر حکومت اور اس کے ادارے اس سلسلے کو روکنے میں سنجیدہ ہیں تو پھر سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا کہ اِس سلسلے میں کیا اقدامات کئے جائیں حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں اعلیٰ عدالتیں اپنا مستقل وجود رکھتی ہیں جو لوگ بار بار عدالتوں سے اس اُمید پر رجوع کررہے ہیں کہ وہ وہاں سے ان کی داد رسی ہوگی اگر اُن کے مسئلے کا کوئی حل عدل کے ایوانوں میں بھی تلاش نہ کیا جاسکا تو وہ بھی کسی راست اقدام پر مجبور ہوسکتے ہیں بہتر تو یہ ہے کہ سیاسی اور غیر سیاسی احتجاجوں اور جلسوں کے لئے مشاورت کے ساتھ کوئی جگہ مقرر کردی جائے۔ جس پر سب متفق ہوں چند سو یا چند ہزارو مظاہرین اگر ہر ہفتے دس دن بعد پورے شہر کی ٹریفک کو اسی طرح یرغمال بناتے رہے تو پھر اکثریت کو بھی اپنے بنیادی حقوق کی خاطر میدان میں اترنا ہوگا ۔جس کا نتیجہ نا خوشگوار بھی ہوسکتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -