زندہ بچے کو مردہ قرار دینے کا افسوس ناک واقعہ

زندہ بچے کو مردہ قرار دینے کا افسوس ناک واقعہ

  

ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ سہارا ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹر نے 2 ماہ کے زندہ بچے کو مردہ قرار دے کر باقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا۔ والدین بچے کو لے کر جب گھر واپس آئے اور اس کی تدفین کا انتظام کیا جا رہا تھا تو وہاں موجود لوگوں نے بچے کو سانس لیتے دیکھا، جس پر اسے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے جا کر چیک کرایا گیا تو فوری طبی امداد ملنے سے بچہ نارمل انداز میں سانس لینے لگا۔ صغریٰ شفیع میڈیکل کمپلیکس سہارا ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹر کی طرف سے جس بچے کو مردہ قرار دیا گیا تھا، اُسے زندہ حالت میں دیکھ کر والدین اور دیگر رشتہ داروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بچے کے ورثاء کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ ہسپتال میں ڈاکٹر نے بچے کو مردہ قرار دے کر ہمیں صدمے سے دوچار کیا لیکن سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹروں نے فوری علاج کرکے ہمیں بچے کے زندہ ہونے کی خوشخبری سنائی۔ نجی ہسپتالوں میں ڈاکٹر کا یہ پہلا کارنامہ نہیں ہے۔ آئے روز ایسے افسوس ناک واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ کہیں غلط انجکشن لگانے سے مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے تو کہیں اناڑی ڈاکٹر کے غلط آپریشن سے کوئی المیہ جنم لے لیتا ہے۔ گزشتہ روز ہی چنیوٹ کے ایک نجی ہسپتال میں نومولود بچی کو غلط انجکشن لگانے سے بچی نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی، جس کے بعد ڈاکٹر اور نرس وہاں سے غائب ہو گئے۔ سہارا ٹیچنگ ہسپتال میں پیش آنے والے واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بعض پرائیویٹ ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی اہلیت کا کیا حال ہے۔ ایسے ڈاکٹر جو ڈگری لئے پھرتے ہیں، ان کے بارے میں یہ شکایات سامنے آ چکی ہیں کہ لاکھوں روپے فیس وصول کرنے والے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کا کوئی معیار نہیں۔ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایسے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے تعلیمی معیار کا ازخود نوٹس لیا تھا تو یہ پتہ چلا تھا کہ کئی میڈیکل کالج چند کمروں یہاں تک کہ کسی گھر کے گیراج میں کام کر رہے ہیں۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے، وہاں تعلیم کیسے دی جاتی ہے اور معیار کے بارے میں تو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر میڈیکل کالج کے ساتھ باقاعدہ ٹیچنگ ہسپتال لازم ہے لیکن بہت کم میڈیکل کالج یہ شرط پوری کرتے ہیں۔ دراصل رشوت اور سفارش مافیا کی وجہ ہی سے ایسے میڈیکل کالج کام کر رہے ہیں۔ ان کالجوں سے ایسے ہی ڈاکٹر ڈگری حاصل کرکے نکلتے ہیں، جو چیکنگ کے بعد زندہ اور مردہ بچے میں تمیز بھی نہیں کر سکتے۔ توقع ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ازخود نوٹس کیس کے حوالے سے ایسا فیصلہ سامنے آئے گا، جس سے غیر معیاری میڈیکل کالجوں میں تعلیم کا سلسلہ ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس معاملے میں حکومت بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

مزید :

رائے -اداریہ -