ظہیر الحسن جاوید کا انتقال پر ملال!

ظہیر الحسن جاوید کا انتقال پر ملال!

  

بزرگ صحافی، ادیب، شاعر، مصنف اور کالم نگار ظہیر الحسن جاوید انتقال کر گئے وہ کچھ عرصہ سے علیل تھے۔ عارضہ قلب میں مبتلا ہوئے۔ تاہم آخری وقت تک قلم سے رشتہ برقرار رکھا۔ انہوں نے صحافت کے کیریئر کا آغاز روزنامہ امروز سے کیا جہاں ان کے والد اپنے وقت کے جید صحافی مولانا چراغ حسن حسرت ایڈیٹر بھی رہے۔ ظہیر جاوید نے پاکستان ٹیلیویژن میں بھی خدمات سر انجام دیں اور روز نامہ پاکستان کے لئے کالم بھی لکھتے رہے وہ اچھے اور اصول پرست ٹریڈ یونینسٹ بھی تھے اور پی ٹی وی ایمپلائز یونین میں بہت سرگرم رہے۔ٹی وی کی ملازمت اور ریٹائرمنٹ کی وجہ سے ان کا مستقل قیام راولپنڈی میں ہوگیا تھا، چند ماہ قبل وہ اس ارادے سے لاہور آئے کہ اب یہیں زندگی کے آخری ایام گزاریں گے لیکن انہیں قلق تھا کہ وہ کئی ماہ تک لاہور میں رہے لیکن ایک بھی دوست انہیں ملنے نہیں آیا، اس تنہائی کا انہیں بھرپور احساس تھا چنانچہ وہ واپس راولپنڈی چلے گئے جہاں اُن کے صاحبزادے مقیم ہیں۔ تاہم بیماری کے باعث لاہور آگئے اور یہیں انتقال کیا اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت میں جگہ عطا فرمائے۔ ادارہ پاکستان ان کے وارثان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -